03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہو سے زبردستی زنا کا حکم
89907نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

میں دو سال سعودی عرب میں نوکری کر رہا تھا اور اپنی بیوی بچوں کو ماں باپ کی ذمہ داری پر چھوڑ کر گیا تھا۔ اب تین ماہ سے واپس آ گیا ہوں، میری بیوی نے مجھے بتایا کہ میرے باپ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور سینہ دبایا۔ میں نے (بیوی کو) صبر کرنے کو کہا، پھر میری بیوی نے بتایا کہ میرے باپ نے اس کو رات گزارنے کا کہا ہے۔ میں نے جب یہ بات اپنے بہن بھائیوں کے سامنے کی تو انہوں نے کہا کہ یہ رات گزار چکے ہیں جب میں سعودی عرب میں تھا، اور میری بہن نے کہا کہ میری بیوی اب میرے نکاح میں نہیں رہی۔ پھر میں نے اپنی بیوی سے (تنہائی میں) پوچھا تو اس نے کہا کہ انہوں نے میرے کمرے میں گھس کر میرے ساتھ زبردستی زنا کیا جب میں سعودی عرب میں تھا۔ اب میں نے اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے گھر بھیج دیا ہے، اب میں کیا کروں؟ میرے دو بچے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کی وجہ سے یہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے اور اب کسی بھی صورت ان کا آپس میں دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ نیز جس شخص نے یہ قبیح فعل (زنا) کیا ہے، یہ عورت اس کی اولاد اور پوتوں، پڑپوتوں (نیچے تک) کے لیے بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی ہے۔

تا ہم یہ بھی ضروری ہے کہ شوہر باضابطہ طلاق بھی دے۔ خالی حرام ہونے کی وجہ سے بیوی کے لیے کسی اور جگہ نکاح درست نہیں ہوگا۔طلاق کے بعد بیوی پر عدت گزارنا ضروری ہے اور عدت کے دوران شوہر پر نفقہ بھی واجب ہو گا۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق(108/2)

قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ: ولنا قوله تعالى ولا تنكحوا ما نکح آبائکم، والنكاح هو الوطء حقيقة، ولهذا حرم على الابن ما وطئ أبوه بملك اليمين۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق(109/2)

قال العلامۃ الزيلعي رحمہ اللہ:قوله (حتى صار أصولها وفروعها كاصوله الخ) قال الكمال رحمه الله عند قول صاحب الهداية رحمه الله  ومن زنى بامرأة حرمت عليه أمها أي وإن علت فتدخل الجدات بناء على ما قدمنا من أن الأم هي الأصل لغة وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزنى بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا، وأبنائه وإن سفلوا، هذا إذا لم يفضها الزاني قادر، فلو افضاها لا تثبت هذه الحرمات لعدم تيقن كونه في الفرج إلا إذا حبلت.

فتح القدير(365/2)

قال العلامۃ ابن الہمام رحمہ اللہ: ولنا أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف الى كل واحد منهما كملا فتصير أصولها وفروعها كاصوله وفروعه وكذلك على العكس والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة ، والوطء محترم من حيث إنه سبب الولد لا من حيث إنه زنا.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 274):

قال فی الھندیۃ: وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة. سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا، كذا في الملتقط. قال أصحابنا: الربيبة وغيرها في ذلك سواء هكذا في الذخيرة. والمباشرة عن شهوة بمنزلة القبلة وكذا المعانقة وهكذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو عضها بشهوة هكذا في الخلاصة.

رد المحتار(114/4)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمه الله تعا لى :قوله: (وبحرمة المصاهرة الخ) قال في الذخيرة : ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة ،والرضاع، بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد، اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه .اهـ. قوله : (إلا بعد المتاركة) أي وإن مضى عليها سنون كما في البزازية وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة .اهـ. وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد ، وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول إن كانت مدخولاً بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها، وقيل لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر، فافهم.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

6 شعبان المظم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب