03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سفر میں قصر اور اجتماعی مال میں زکٰوۃ کا بیان
89894نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

میرا سسرال اور ہمارا آبائ گھر اسلام آباد میں ھے میرے شوھر کی نوکری کی وجہ سے ہم کوہاٹ میں رہائش پذیر ہیں ہمارا یہاں مستقل رھنے کا کوئ ارادہ نھی ھے کھبی کھبی ہم سالانہ چٹھیاں گزارنے اسلام آباد جاتے ہیں پندرہ بیس دن یا اسسے زیادہ تو ہم اسلام آباد میں نماز قصر ادا کریں یا پوری نماز پڑھیں کیونکہ ہمارا آبائ گھر اسلام آباد میں ھے اور ہمارا یہاں سارا سامان بھی رکھا ھے ۔ دوسرا مسلہ یہ ھے کہ ہمارے شوھر کے چار بھائ ہیں چاروں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہر ماہ اپنی تنخواہوں میں سے کچھ پیسے گھر کی ایمرجنسی کی صورت میں جمع کرینگے ۔اور وہ پیسے اک بھائ کے پاس جمع ھوتے ہیں اک مرتبہ جس نے پیسے جمع کرادیے تو اب وہ اسکی ملکیت سے نکل گئے واپسی کی کوئ صورت نھی ھے اس پیسے میں سے کوئ اپنی ذاتی ضروریات نھی پوری کرسکتا بلکہ یہ گھر کی اجتماعی ضرورت کے طور پہ ہیں مثلا اس میں سے والدہ اور والد کے علاج پہ خرچ ھوتے ہیں تو ان پیسوں میں کمی بیشی ھوتی رھتی ھے تو ان پہ زکوہ کا کیا حکم ھے مثلا ابھی یہ پیسے ڈیڑھ لاکھ ہیں اور اگر زکوٰۃ ھے تو کون ادا کرے گا ذکوہ اور ان پیسوں میں ملکیت کا کیا حکم ھوگا۔۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(۱)      سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اسلام آباد آپ کا وطن اصلی ہے، جبکہ کوہاٹ وطن اقامت ہے،اور وطن اصلی وطن اقامت سے باطل نہیں ہوتا ۔  لہٰذا جب آپ اسلام آباد جائیں گی تو وہاں پوری نماز ادا کریں گی، قصر  نہیں کریں گی۔

(۲)    اگر بھائیوں نے گھر کی اجتماعی ضروریات اور والدین کے خرچ کے لیے باہم رقم جمع کی ہے تو محض اس نیت سے کہ یہ رقم والدین یا گھریلو اخراجات پر صرف کی جائے گی، یہ رقم بھائیوں کی ملکیت سے نہیں  نکلے گی ، بلکہ انہی بھائیوں کی ملک میں  رہے گی ۔اس لیے یہ بھائیوں کے ذاتی اموال میں شامل سمجھی جائے گی۔ لہٰذا ہر بھائی کے حصے کی رقم کو اس کے دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا، اگر وہ مجموعہ نصابِ زکوٰۃ تک پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(2/ 43):

‌ومن ‌كان ‌له ‌وطن ‌فانتقل ‌عنه ‌واستوطن ‌غيره ‌ثم ‌سافر ودخل وطنه الأول قصر)؛ لأنه لم يبق وطنا له؛ ألا ترى أنه عليه الصلاة والسلام بعد الهجرة عد نفسه بمكة من المسافرين؛ وهذا لأن الأصل أن الوطن الأصلي يبطل بمثله دون السفر، ووطن الإقامة يبطل بمثله وبالسفر وبالأصلي.

(قوله: فانتقل عنه واستوطن غيره) قيد بالأمرين فإنه إذا لم ينتقل عنه بل استوطن آخر بأن اتخذ له أهلا في الآخر فإنه يتم في الأول كما يتم في الثاني.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 131):

(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما……..

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 166):

‌وأقل ‌مدة ‌الإقامة ‌خمسة ‌عشر ‌يوما.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 304):

قوله: وإن تعدد النصاب) أي بحيث يبلغ قبل الضم مال كل واحد بانفراده نصابا فإنه يجب حينئذ على كل منهما زكاة نصابه.

وسیم اکرم بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 05/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب