03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سالی کا بہنوئی کے گھر میں رہنا
89891متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

دو سگی بہنیں ہیں بڑی بہن طلاق یافتہ ہے اور بے اولاد ہے چھوٹی بہن شادی شدہ ہے مگر بے اولاد ھے کیا بڑی بہن چھوٹی بہن کے ساتھ اسی گھر میں جہاں چھوٹی بہن کا شوہر بھی ساتھ رہتا ہے رہ سکتی ہے؟ اس میں کوئی شرعی قباحت تونہیں ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بہنوئی اپنی سالی کے لیے غیر محرم ہے، لہٰذا بغیر ضرورت کے   بہنوئی کےساتھ  ایک گھر میں رہنا  جس میں بے پر دگی ہو جائز نہیں   ۔ اگر اس بڑی بہن کا ان کے علاوہ اور کوئی محرم  رشتہ دار نہ ہو   اور بہنوئی  کے گھر  رہنا نا گزیر ہو تو مکمل  شرعی پردے   کے ساتھ  رہنے  کی گنجائش ہوگی ،تاہم جلد سے جلد  ان کا نکاح کرادینا چاہیے۔

حوالہ جات

وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَاّ لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبائِهِنَّ أَوْ آباءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنائِهِنَّ أَوْ أَبْناءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَواتِهِنَّ أَوْ نِسائِهِنَّ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلى عَوْراتِ النِّساءِ وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ ما يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ       (سورۃ النور31 )

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (10/ 220):

لأن ‌المحرم ‌من ‌لا ‌يجوز ‌له ‌نكاحها على التأييد،

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 367):

(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته)

وسیم اکرم  بن  محمد ایوب  

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  05/شعبان  المعظم  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب