03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی بیاہ میں زیادہ مہرکا مطالبہ و منکرات پر پابندی کی شرعی حیثیت اور التزامِ تصدق کا طریقہ
89949حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ قوم ملک دین خیل کے منتخب قومی کمیٹی مشران اور علمائے کرام نےایک متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ قوم ملک دین خیل کے افراد لڑکی کے والدین کو 350,000 روپے مہر ادا کریں گے، اس سے زیادہ مہر کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی  شخص اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے گا تو اس شخص پر 400,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

لہذا پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ شرعاً درست ہے ؟ اگر کوئی شخص  اس کی خلاف ورزی کرے  تو  کیا شرعاً اس پر مذکورہ بالا جرمانہ عائد ہوگا؟

 اسی طرح یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ  شادی بیاہ کی تقریبات میں ناچ گانے یا ہجڑوں کو بلانے پر پابندی ہوگی ۔اگر کوئی  شخص ایسا کرے گا تو اس پر 100,000 روپے جرمانہ لگایا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ  اگر کوئی شادی بیاہ میں ناچ گانے والوں کو بلائے تو ان پر شرعاً مذکورہ جرمانہ عائد ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہ حنفی کے راجح قول کے مطابق کسی بھی شخص سےمالی جرمانہ لینا  شرعاً جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ میں بظاہر قومی کمیٹی مشران اور علمائے کرام کا مقصد نیک ہے کہ لوگ بہت زیادہ مہر کا مطالبہ ترک کریں اور شادی کے منکرات سے بچیں ،یہ پابندی لگانے کی تو گنجائش ہے ۔البتہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے سے تنبیہ کے طور پر مالی جرمانہ لینا درست نہیں ۔

اگر رقم لینا ناگزیر ہو تو کمیٹی کے مشران اور علماء کرام کے لیے التزامِ تصدق کی صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، جو درج ذیل دو طریقوں سے ممکن بنائی جا سکتی ہے:

پہلا طریقہ: تحریری التزام

کمیٹی ایک تحریری دستاویز تیار کرے، جس میں واضح طور پر درج ہو کہ:

 اگر کسی شخص نےمہر کی رقم 350,000 روپے سے زائد مقررکی یا شادی بیاہ کی تقریبات میں ناچ گانے کا اہتمام کیا،تو وہ شخص اپنی رضامندی سے ایک متعین رقم صدقہ کے طور پر اپنے ذمے لازم کرے گا، جسے کمیٹی اسی شخص کی طرف سے کسی کارِ خیر  میں صرف کرے گی۔اس صورت میں ہر گھر کے سربراہ سے اس دستاویز پر دستخط لیے جائیں۔

دوسرا طریقہ: زبانی التزام

تمام متعلقہ افراد کو ایک مجمع کی صورت میں جمع کیا جائے اور ان کے سامنے مذکورہ شرائط کا واضح طور پر  زبانی اعلان کرکے  اُن کی زبانی  رضامندی معلوم کی جائے۔

بعد ازاں اگر کسی شخص کی جانب سے خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو کمیٹی کے مشران اس  شخص سے متعین شدہ رقم وصول کرکے علیحدہ ریکارڈ میں درج کرتے ہوئے کارِ خیر میں صرف کریں گے۔

حوالہ جات

سنن النسائي (8/ 190):

قال أبو سعيد الخدري : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم  قال : من ‌رأى‌منكم ‌منكراً فليغيره‌ ‌بيده،فإن ‌لم ‌يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان.

البحر الرائق (5/ 44):

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.

القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة(1/ 533):

‌‌القاعدة: [94]المواعيد بصورة التعاليق تكون لازمة .

التوضيح : الأصل في الوعد أنه لا يُلزم صاحبه قضاء، وإنما كان الوفاء به مطلوباً ديانة، فلو وعد شخص آخر بقرض أو ببيع أو بهبة. . إلخ، فليس للموعود أن يجبر الواعد على تنفيذ وعده بقوة القضاء.غير أن الفقهاء لحظوا أن الوعد إذا صدر معلقاً على شرط فإنه يخرج عن معنى الوعد المجرد، ويكتسي ثوب الالتزام والتعهد، فيصبح عندئذ ملزماً لصاحبه، وذلك فيما يظهر اجتناباً لتغرير الموعود بعدما خرج الوعد مخرج التعهد، ولذلك قال ابن نجيم:"لا يلزم الوعد إلا إذا كان معلقاً".فالمواعيد تصدر من الإنسان فيما يمكن ويصح الالتزام له شرعاً، فإذا صدرت منه بصورة التعليق أي بأن كانت مصحوبة بادوات التعليق الدالة على الحمل أو المنع، تكون لازمة، لحاجة الناس إليها.

وهذه القاعدة فرع عن قاعدة"المعلق بالشرط يجب ثبوته عند ثبوت الشرط".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(4/ 320):

(قوله: ‌ومن ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا، أو معلقا بشرط ووجد وفى به) أي وفى بالمنذور لقوله عليه السلام «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» وهو بإطلاقه يشمل المنجز والمعلق ولأن المعلق بالشرط كالمنجز عنده أطلقه فشمل ما إذا علقه بشرط يريد كونه أو لا.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(5/ 94):

‌واختار ‌المصنف ‌والمحققون أن المراد بالشرط الذي تجزئ فيه الكفارة الشرط الذي لا يريد كونه مثل دخول الدار وكلام فلان ...وهو المسمى عند طائفة من الفقهاء نذر اللجاج. ومذهب أحمد فيه كهذا التفصيل الذي اختاره المصنف.

الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي (2/ 161):

‌ومنه ‌نذر ‌اللجاج، وهو أن يقصد منع نفسه من شيء ومعاقبتها نحو لله علي كذا إن كلمت زيدا ويلزمه النذر، وهذا من أقسام اليمين عند ابن عرفة والمصنف يرى أنه من النذر.

حاشية الصاوي على الشرح الصغير = بلغة السالك لأقرب المسالك(2/ 250):

‌ومنه ‌نذر ‌اللجاج؛ وهو أن يقصد منع نفسه من شيء ومعاقبتها نحو: لله علي كذا إن كلمت زيدا وهذا من أقسام اليمين عند ابن عرفة، وعلى كل حال يلزمه ما لزمه.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2561):

ونذر اللَّجاج: ويسمى أيضاً يمين اللجاج، والغضب، ويمين الغَلَق: هو الذي خرج مخرج اليمين بأن يقصد الناذر حث نفسه على فعل شيء أو منعها غير قاصد للنذر ولا القربة، مثل: إن كلمت فلاناً فلله علي صوم أو نحوه، فالأظهر في هذا النوع أن الناذر بالخيار: إن شاء وفى بما التزم، وإن شاء كفر كفارة يمين، وهذا هو المقصود بحديث: (كفارة النذر كفارة يمين).

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

08/شعبان/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب