03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محض دستخط کرنے سے نکاح کا حکم(کیاسرکاری کاغذات میں شوہر ،بیوی اور گواہوں کے اندراج کا خانہ پُر کرنےسے نکاح منعقد ہوجائےگا؟)
89938نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

اگر ایک مرد اور ایک عورت سرکاری دفتر میں جا کر لکھنے کے ذریعہ شادی کرے یعنی وہ بات چیت کرنے پر قدرت رکھتا ہے لیکن سگنیچر کرے تو کیا اس سے شادی ہو جائے گی اگر دو گواہ موجود ہو؟

دوسرا سوال ہمارے یہاں رواج ہے شادی سے پہلے لوگ سرکاری دفتر میں جاتے ہیں اور سرکاری دفتر کے ایک کاغذ میں یہ لکھنا ہوتا ہے کہ یہ میرا شوہر ہے دوسرے کو لکھنا ہوتا ہے یہ میری بیوی ہے اور گواہ بھی سگنیچر کرتے ہیں یہ شادی سے پہلے کرتے ہیں پھر متعین دن دو گواہ کے سامنے شادی کرتے ہیں جس طرح شادی کرنا ضروری ہے اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زبان سے ایجاب و قبول کے الفاظ کہے جائیں، مجلس میں موجود گواہان کے سامنے صرف دستخط کرنا یا کسی کاغذ پر  دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی کاروائی کو لکھ لینا، نکاح کے انعقاد کے لیے کافی نہیں۔لہٰذا صرف کتابت یا تحریر سے نکاح نہیں ہوتا، اور اس حالت میں میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں ہوں گے۔ اصل نکاح وہی ہے جو بعد میں متعین دن، دو معتبر گواہوں کی موجودگی میں، صحیح طریقے سے پڑھایا جائے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار (3/ 12):

(قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي ولو في الغيبة، تأمل.

(قوله: بل غائب) الظاهر أن المراد به الغائب عن المجلس، وإن كان حاضرا في البلد.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (3/ 89):

ولم يذكر المصنف شرائط الإيجاب والقبول……ومنها سماع كل منهما كلام صاحبهلأن عدم سماع أحدهما كلام صاحبه بمنزلة غيبته كما في الوقاية، وقيد المصنف انعقاده باللفظ؛ لأنه لا ينعقد بالكتابة من الحاضرين فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(3/ 12):

(قوله: كقبض مهر) قال في البحر: وهل يكون القبول بالفعل كالقبول باللفظ كما في البيع؟ قال في البزازية أجاب صاحب البداية في امرأة زوجت نفسها بألف من رجل عند الشهود، فلم يقل الزوج شيئا لكن أعطاها المهر في المجلس أنه يكون قبولا، وأنكره صاحب المحيط وقال الإمام ما لم يقل بلسانه قبلت بخلاف البيع لأنه ينعقد بالتعاطي والنكاح لخطره لا ينعقد.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 95):

(قوله: وركنه الإيجاب والقبول) أي حتى لا ينعقد بالتعاطي اهـ قال في العمادية: حتى لو قالت امرأة لرجل: زوجتك نفسي منك بدينار فدفع الدينار إليها في المجلس، ولم يقل بلسانه شيئا لا ينعقد النكاح، وإن كان بحضرة الشهود اهـ قال في التتارخانية نقلا عن السغناقي: وهذا العقد لا ينعقد بالتعاطي مبالغة في صيانة الأبضاع من الهتك.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

08  /شعبان المعظم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب