| 89925 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
آج کل کچھ موبائل اور کمپیوٹر ایپس جیسے Honeygain، Pawns.app، EarnApp، TraffMonetizer وغیرہ دستیاب ہیں جن میں صارف اپنا unused internet bandwidth (یعنی جو انٹرنیٹ وہ خود استعمال نہیں کر رہا) شیئر کرتا ہے اور اس کے بدلے پیسے کماتا ہے (تقریباً $0.10 سے $0.25 فی GB)۔ ان کمپنیوں کا دعوی ہے کہ یہ bandwidth صرف قانونی اور کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے جیسے: - مارکیٹ ریسرچ - آن لائن پرائس کمپئریزن ، ایڈ ویریفیکیشن ،ویب سائٹس کی لوڈ ٹیسٹنگ وغیرہ یہ کمپنیاں کہتی ہیں کہ حرام اور غیر قانونی سرگرمیوں (جیسے فحش مواد، جوا وغیرہ) کے لیے اس ڈیٹا کا استعمال ان کی پالیسی میں سخت ممنوع ہے اور وہ اسے مانیٹر بھی کرتی ہیں۔ تمام ڈیٹا encrypted ہوتا ہے اور صارف کا ذاتی ڈیٹا شیئر نہیں ہوتا۔ اس صورت حال میں شرعی طور پر ان ایپس سے شیئر کرکے پیسے کمانا حلال ہے یا حرام؟ کیا اس میں کوئی حرمت کا پہلو ہے کیونکہ ہمیں بالکل پتہ نہیں چلتا کہ bandwidth کا استعمال کون اور کیسے کر رہا ہے؟ براہ کرم تفصیلی شرعی حکم بتائیں۔
وضاحت:
Unused internet bandwidth :
انٹرنیٹ پیکج میں ملنے والی پوری رفتار عموماً استعمال نہیں ہو پاتی، جسے Unused Bandwidth کہا جاتا ہے۔
کچھ معتبر ایپس اسی غیر استعمال شدہ انٹرنیٹ کو قانونی و محفوظ مقاصد کے لیے استعمال کروا کر کمائی کا موقع دیتی ہیں۔
Honeygain :
ایک مفت ایپ جو صارف کی ڈیوائس پر خاموشی کے ساتھ پس منظر میں چلتی رہتی ہے اور اس کی غیر استعمال شدہ انٹرنیٹ بینڈوِڈتھ شیئر کر کے کمائی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
EarnApp :
ایک ایسی ایپ ہے جو آپ کی اضافی اور غیر استعمال شدہ انٹرنیٹ رفتار کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے۔ یہ کمپنیاں اس بینڈوِڈتھ کو مختلف جائز اور تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، جن میں مارکیٹ ریسرچ، اشتہارات کی تصدیق اور مختلف مصنوعات و خدمات کی قیمتوں کا موازنہ شامل ہے۔
Pawns.app:
ایک ایسی ایپ ہے جو آپکے غیر استعمال شدہ نیٹ کو مختلف سرگرمیوں کےلیے استعمال کرتی ہے۔اسی طرح یہ دیگر ایپس استعمال نہ ہونے والے ڈیٹا کو استعمال کرنے پر صارف کو ادائیگی کرتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انٹرنیٹ پیکجز میں فراہم کی جانے والی Mbs دراصل کمپنی کی جانب سے ایک متعین مدت اور محدود مقدار کے لیے نیٹ سروس سے استفادے کی اجازت ہوتی ہے،اس لیے یہ معاملہ کمپنی اور صارف کے درمیان اجارے کے حکم میں آتا ہے۔اگر کوئی معاہدہ یا پابندی نہ ہو تو صارف بھی اپنا ڈیٹا آگے کسی کو اجرت پر دے سکتا ہے۔لہذا ان ایپس کو اضافی ڈیٹا دینے کی اصولی طور پر گنجائش ہے۔اگر واضح قرائن ہوں کہ ان Mbs کا استعمال حرام جگہ پر ہوگا تو ان سے بچنا ضروری ہوگا۔اگر معلوم نہ ہو تو Mbs اجارہ پر دینے کی وجہ سے غلط استعمال کا گناہ نہ ہوگا۔یاد رہے کہ مذکورہ صورت میں جب ان ایپس کے صارفین کے تجربات کا جائزہ لیا جاتا ہےتو معلوم ہوتا ہے کہ مقررہ حد پوری ہونے پر یہ ایپس عمل کو ازسر نو شروع کردیتی ہیں اور بالآخر صارف کے اکاونٹ کو رد کردیتی ہیں۔یہ طرز عمل صارف کے ساتھ دھوکے اور فراڈ کے زمرے میں آتا ہے،لہذا جواز کی صورت میں تمام پہلو سامنے رکھ کر ان ایپس کے استعمال کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
(بدائع الصنائع:4/179)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ:وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فضروب: منها: أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع من المنازعة، فإن كان مجهولا ينظر، إن كانت تلك الجهالة مفضية إلى المنازعة تمنع صحة العقد، وإلا فلا؛ لأن الجهالة المفضية إلى المنازعة تمنع من التسليم والتسلم فلا يحصل المقصود من العقد، فكان العقد عبثا لخلوه عن العاقبة الحميدة. وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة يوجد التسليم والتسلم فيحصل المقصود.
فقہ البیوع ۔305/1:
اما الأشياء التي لا تتمحض لمحظور بل يمكن استعمالها في حلال أو حرام فقد اختلفت انظار الفقهاء في حكم بيعها والذي تحصل لي بمراجعۃ ما ذكره الفقهاء في هذا الموضوع والتأمل في كلامهم أن هذه الأشياء على ثلاثۃ أقسام :الأول ما وضع في حالته الموجودۃ لغرض محظور شرعا ويحتاج استعمالها المباح الى تغيير في حالته الموجودۃ مثل آلات اللهو. والثاني: ما وضع لغرض مباح, ويحتاج استعمالها في المحظور إلى تغيير في حالتها الموجودة ،مثل العصير، فإن استعماله للإيكار يحتاج إلى اتخاذه خمرا.
والثالث :ما وضع لأغراض عامة تحتمل استعمال المباح وغير المباح في حالتها الموجودة وليس وضعها مختصا بنوع من أنواع الاستعمال بل يتوقف ذلك على إرادة من يستعمل، مثل :السلاح.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
8/ شعبان المعظم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


