03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویڈیو کال یا آن لائن فارم کے ذریعے لی جانے والی گواہی کا حکم
89899دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ہمارا ادارہ الفلاح اسکاٹ لینڈ جو جماعت المسلمین کے تحت دینی اور سماجی خدمات سرانجام دیتا ہے،جن میں فسخ نکاح ،طلاق اور اس نوعیت دیگر معاملات شامل ہے،فسخ نکاح کے مسائل کی عمومی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ بیوی کا دعوی ہوتا ہے کہ شوہر اسے مارتا ہے،یا نان نفقہ نہیں دیتا،خاتون اپنے دعوی پر گواہ بھی پیش کرتی ہے،جس کی بنیاد پر ہم شرعی اصولوں کے مطابق نکاح فسخ کردیتے ہیں۔

تاہم بعض مجبوریوں کی بنا پر ہم مدعیہ،مدعاعلیہ،یا گواہوں کو اپنے مدرسے میں طلب نہیں کرپاتے،بلکہ اس کے بجائے تمام کاروائی کمپیوٹر کے ذریعے ہوتی ہے،عورت ہماری ویب سائٹ پر دعوی دائر کرتی ہے اور ہم مکمل تحقیق اور شرعی ضوابط کی تکمیل کے بعد فسخ نکاح کا فیصلہ کردیتے ہیں۔

فسخ نکاح کے مقدمات میں جوبیانات مدعیہ،مدعاعلیہ  اور گواہوں سے لئے جاتے ہیں،اگر یہ بیانات بالمشافہ نہ لئے جائیں،بلکہ آن لائن فارم ،فون کال،ویڈیو کال وغیرہ کے ذریعے لئے جائیں تو کیا اس طرح کی گواہی شرعا معتبر ہوگی؟ یعنی بالمشافہ گواہ کی بات سنے بغیر فون پر یا تحریری گواہی شرعا معتبر ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہاء نے اداء شہادت کی جو شرائط لکھی ہیں،ان  میں سے  ایک شرط گواہوں کا قاضی کی مجلس میں حاضر ہونا بھی ہے، ، اس لئے اگر گواہوں کی بالمشافہ حاضری ممکن ہو تو دیگر ذرائع کے  ذریعے گواہی نہ لی جائے۔

تاہم اگر کبھی بالمشافہ گواہوں سے گواہی لینا ممکن نہ ہو،یا بہت مشکل ہو تو پھر اسٹامپ پیپر پر تحریری گواہی اس شرط کے ساتھ  لینے کی گنجائش ہوگی کہ تحریری طور پر موصول ہونے والی گواہی کے بارے میں یہ اطمئنان ہو کہ یہ ہر قسم کے تغیر وتبدل اور جعلسازی سے محفوظ ہے،لہذا تحریری گواہی لینے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ تحریری گواہی موصول ہونے کے بعد آڈیو یا ویڈیو کال کے ذریعے اس کے بارے میں مزید تحقیق کرکے اس بات کا اطمئنان کرلیا جائے کہ موصول ہونے والی گواہی جعل سازی،جھوٹ  اور تغیر وتبدل  سے محفوظ ہے۔

("امدادالفتاوی":2/125،"امداد الاحكام":2/122)

حوالہ جات

"الدر المختار " (5/ 461):

" (هي) لغة خبر قاطع. وشرعا (إخبار صدق لإثبات حق) فتح. قلت: فإطلاقها على الزور مجاز كإطلاق اليمين على الغموس (بلفظ الشهادة في مجلس القاضي)... (شرطها) أحد وعشرون شرطا،شرائط مكانها واحد".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: "(قوله :شرائط مكانها واحد) أي مجلس القضاء منح".

"الدر المختار " (5/ 435):

"وفي الأشباه: لا يعمل بالخط إلا في مسألة كتاب الأمان ويلحق به البراءات ودفتر بياع وصراف وسمسار وجوزه محمد لراو وقاض وشاهد إن تيقن به قيل وبه يفتى".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ: "(قوله: قيل: وبه يفتى) قال في خزانة الأكمل: أجاز أبو يوسف ومحمد العمل بالخط في الشاهد والقاضي والراوي إذا رأى خطه ولم يتذكر الحادثة ".

قال في العيون: والفتوى على قولهما إذا تيقن أنه خطه سواء كان في القضاء أو الرواية أو الشهادة على الصك، وإن لم يكن الصك في يد الشاهد؛ لأن الغلط نادر وأثر التغيير يمكن الاطلاع عليه، وقلما يشتبه الخط من كل وجه فإذا تيقن ،جاز الاعتماد عليه توسعة على الناس .اهـ حموي، لكن سيذكر الشارح في الشهادات قبيل باب القبول ما نصه: وجوزاه لو في حوزه وبه نأخذ. بحر عن المبتغى اهـ .وهذا ما اختاره المحقق ابن الهمام هناك وسيأتي تمامه إن شاء ﷲ تعالى".

"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام "(4/ 480):

"ويقسم الخط والخاتم على قسمين: القسم الأول: أن يكون الخط والخاتم قد أعطي من صاحب الخط والخاتم على أن يستعمل عليه سند وحجة...

القسم الثاني: الخط والخاتم الذي حرره ليكون حجة لشخص ثان وضد شخص ثالث كالحجج الشرعية وقيود الطابو (دفتر خاقاني) .

أما إذا كان قسما الخط والخاتم سالمين من شبهة التزوير والتصنيع فيكون معمولا به أي مدارا للحكم ولا يحتاج للإثبات بوجه آخر كما بين في الباب الرابع من كتاب الإقرار".

"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام "(4/ 483):

" المادة (1740) - (القرينة القاطعة أحد أسباب الحكم أيضا) أسباب الحكم سبعة: (1) القرينة (2) الشهادة (3) الإقرار (4) اليمين (5) النكول عن اليمين (6) القسامة (7) علم القاضي على قول".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

08/شعبان1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب