| 89924 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
(۱)کیا ایصالِ ثواب کے لیے باقاعدہ اجتماع کرنا جائز ہے؟
(۲)کیا ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص دن مقرر کرنا جائز ہے؟
(۳)کیا مروجہ ایصالِ ثواب کی مجلس میں علماء کرام کی شرکت جائز ہے؟
(۴)کیا مروجہ طریقے سے ختمِ قرآن پڑھنا جائز ہے؟
(۵)کیا ختمِ قرآن کو “ملک کرنا” جائز ہے؟
(۶)ایصالِ ثواب کی مجلس کس عنوان سے ہونی چاہیے (ایصالِ ثواب، قل خوانی، دعوت وغیرہ)؟
(۷)اگر یہ طریقہ درست نہیں تو علماء کرام کی شرکت کی کیا توجیہ ہے؟
(۸) کیا یہ کہنا کہ "ابھی وقت نہیں ،عوام اس کی متحمل نہیں اس لیے صحیح مسئلہ بیان یہ کیا جائے درست ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(۱)میت کے لیے انفرادی طور پر ایصال ثواب کرنا زیادہ بہتر ہےاور اس کے لیے باقاعدہ طور پر اجتماع کرنا اور لوگوں کو دعوت دینا جائز نہیں ہے لیکن اگر لوگ خود جمع ہو جائیں اور برکت کے لیے اجتماعی ایصال ثواب کریں تو اس طرح کرنا جائز ہے ۔
(۲) ایصال ثواب کے لیے دنوں کی تخصیص جیسے تیجا ،ساتواں ، چالیسواں اور بارواں وغیرہ کرنا بدعت اور ممنوع ہے ۔
(۳) ایسے مروجہ ایصال ثواب میں علماء کرام کا شریک ہونا بدعت کی تائید شمار کیا جاتا ہے لہٰذا جائز نہیں ،البتہ اگر وہاں جاکر اصلاح کرنا مقصود ہو تو گنجائش ہوسکتی ہے ،تاہم وہاں کھانے وغیرہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے ۔
(۴) جو لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں ان کا میت کے لیے قرآن پڑھ کے ایصال ثواب کرنا شرعا جائز اور مطلوب ہے البتہ مروجہ طریقہ جس میں دعوت دے کر بلایا جائے قابل اطمینان نہیں ،اس لیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(۵) ختم قرآن کسی کو ملک کرنا قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے صرف ایصال ثواب کی گنجائش ہے ۔لہٰذا جس نے جتنا قرآن پڑھا ہو وہ یہ نیت کر لے کہ اس کا ثواب فلاں کو ملے ۔
(۶) ایصال ثواب کے لیے دعوت دے کر اجتماع کرنا بدعت ہے ،اس سے بچنا چاہیے ۔
(۷) علماء کرام کا ایسے اجتماعات میں شرکت کرنا ان اجتماعات کی صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے ،لیکن اگر علماء کرام اس نیت سے شرکت کریں کہ وہ وہاں جاکر غلط رسم ورواج کی اصلاح کریں گے اور صحیح طریقہ ایصال ثواب بتائیں گے تو اس نیت کے بنیاد پر شرکت کرنے کی گنجائش ہے ۔
(۸) علماء کرام کا شرعی مسئلہ کو چھپانا جائز نہیں بلکہ علماء کرام پر لازم ہے کہ وہ مسئلہ کو واضح طور پر بیان کریں اور لوگوں کو بدعات سے بچائیں ۔ تاہم اگر متبع سنت علماء ہوں تو حسن ظن رکھا جائے کہ ان کے نزدیک کوئی واقعی مصلحت ہوگی ۔
حوالہ جات
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ [آل عمران: 187]
سنن أبي داود (3/ 321 ت محيي الدين عبد الحميد):
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، أخبرنا علي بن الحكم، عن عطاء، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سئل عن علم فكتمه ألجمه الله بلجام من نار يوم القيامة
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 63):
والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة أما الكتاب فلقوله تعالى {وقل ربي ارحمهما كما ربياني صغيرا} [الإسراء: 24] ، وإخباره تعالى عن ملائكته بقوله {ويستغفرون للذين آمنوا.......................................................
وأما قوله عليه السلام: لا يصوم أحد عن أحد، ولا يصلي أحد عن أحد
الاعتصام للشاطبي ت الشقير والحميد والصيني (1/ 51):
ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.
ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته.
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 365):
فإن قدر على المنع منعهم، وإن لم يقدر يصبر، وهذا إذا لم يكن مقتدى به، فإن كان مقتدى ولم يقدر على منعهم يخرج ولا يقعد؛ لأن في ذلك شين الدين وفتح باب المعصية على المسلمين،
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»(1/ 257):
الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن والأذكار وزيارة قبور الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام - والشهداء والأولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع أنواع البر،
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 240):
وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.
الموسوعة الفقهية الكويتية(16/ 45):
ومن صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة،
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 240):
ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص617):
وتكره الضيافة من أهل الميت" قال في البزازية يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى المقبرة في المواسم واتخاذ الدعوة بقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
08/ شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


