| 89908 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
ڈراپ شپنگ سے متعلق ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے: میں نے بعض علما کے بیانات سنے ہیں جن میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کسی بھی چیز کو بیچنے کے لیے دو شرطیں لازمی ہیں: یا تو وہ چیز خود بیچنے والے کے قبضے میں ہو یا اس کے وکیل کے قبضے میں ہو اور اس کا رسک بیچنے والے پر ہو، یا پھر جس چیز کو بیچا جا رہا ہو اس کے سپلائر کا کمیشن ایجنٹ بن جائے؛ اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہو تو ڈراپ شپنگ کس طرح درست ہو سکتی ہے؟ میں نے مفتی طارق مسعود صاحب کا بھی ایک بیان سنا ہے جس میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ پروڈکٹ پیج پر “Buy Now” کے بجائے “Order Now” لکھ دیا جائے تاکہ خریدار یہ سمجھے کہ وہ چیز براہِ راست ہم سے خرید نہیں رہا بلکہ ہم سے آرڈر کر رہا ہے، لیکن اگر ہم ایمیزون یا ای بے جیسی ویب سائٹس کو دیکھیں تو وہاں پروڈکٹ پیج پر “Buy Now” کے بجائے “Order Now” لکھنا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا کیونکہ یہ اختیار صرف ویب سائٹ مالکان کے پاس ہوتا ہے اور وہ ہمارے کہنے پر ایسا نہیں کریں گے؛ ایسی صورت میں اگر میں پروڈکٹ کی تفصیل میں یہ لکھ دوں کہ “آپ یہ پروڈکٹ ہمیں ابھی آرڈر کریں اور ہم آپ کے لیے یہ پروڈکٹ معیاری سپلائر سے حاصل کر کے مناسب وقت پر آپ تک پہنچا دیں گے تاکہ آپ کو اچھی کوالٹی کی چیز صحیح وقت پر مل سکے”، تو کیا اس طرح معاملہ شرعاً درست ہو جائے گا؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ Buy Now کو Order Now نہیں لکھ سکتے تو اس کے متبادل حل کے لیے پروڈکٹ کے اشتہار میں یہ لکھ دیں کہ '' آپ یہ پروڈکٹ آرڈر کریں ہم آپ کے لیے معیاری پروڈکٹ حاصل کر کے مناسب وقت میں آپ تک پہنچائیں گے، تاکہ آپ کو اچھی کوالٹی کی چیز بروقت موصول ہو سکے''، اس سے یہ معاملہ درست ہو جائے گا۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (3/ 526):
عن حكيم بن حزام قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق، ثم أبيعه؟ قال: لا تبع ما ليس عندك.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 146):
(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم.......وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط.
مجلة الأحكام العدلية (ص52):
(المادة 353) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا.
الدر المختار (ص400):
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 560):
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف.
فقہ البیوع للمفتی محمد تقی العثمانی:(2/1137)
الوعد و المواعدۃ بالبیع لیس بیعا، ولایترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ البیع و لاجوب الثمن۔ واذا وقع الوعد او المواعدۃ علی شراء شیئ او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علی الواعد دیانۃ ان یفی بہ، و یعقد البیع حسب وعدہ،ولکنہ لایجبر علی ذلک قضاء الا فی حالات آتیۃ۔۔۔
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
08 /شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


