03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریس سوٹس کا ریپلکا بنانا اور حرام کمپنی کے لوگو کو اسپانسر کرنا
89958جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! میں کارٹنگ ریس سوٹس تیار کر کے ایکسپورٹ کرتا ہوں اور اب فارمولا ون (F1) ریس سوٹس کے ریپلکا ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہوں۔ فارمولا ون کے اصل سوٹس پر مختلف اسپانسر کمپنیوں کے نام اور لوگو ہوتے ہیں، جن میں کچھ حلال کمپنیاں اور کچھ غیر شرعی کمپنیاں بھی شامل ہوتی ہیں، جیسے شراب بنانے والی کمپنیاں اور سودی بینک۔ فارمولا ون کے فینز عام طور پر بالکل اسی ڈیزائن کا سوٹ چاہتے ہیں اور ان کی نیت تشہیر کی نہیں ہوتی۔ اسی طرح میری بھی نیت تشہیر کی نہیں، بلکہ میں صرف آرڈر کے مطابق سوٹ تیار کرتا ہوں۔ سوال: کیا ایسی صورت میں ان فینز کو ان اسپانسر لوگوز کے ساتھ F1 ریس سوٹس کے ریپلکا تیار کرنا اور ایکسپورٹ کرنا جائز ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنے لیے ریس سوٹ بنواتا ہے اور اس پر تشہیر کے لیے اپنے اسپانسر (سودی بینک یا شراب بنانے والی کمپنی) کا نام یا لوگو لگواتا ہے، تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فارمولا ون (F1) دنیا کی اعلیٰ سطح کی کار ریسنگ ہے، جہاں تیز ترین گاڑیاں دوڑتی ہیں۔   کارٹنگ ریس سوٹس وہ حفاظتی لباس ہے جو ڈرائیور ریسنگ کے دوران اپنی حفاظت کے لیے پہنتے ہیں، تاکہ چوٹ، گرمی اور آگ کے خطرات سے محفوظ رہیں، اور یہ بین الاقوامی تنظیم FIA (Federation Internationale de l’Automobile ) کے مقررہ معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔ریس سوٹس کا ریپلکا وہ لباس ہے جو اصل ریسنگ سوٹس کی طرح دکھتا ہے، لیکن پیشہ ورانہ ریسنگ کے لیے مکمل حفاظتی معیار نہیں رکھتا اور زیادہ تر شوقیہ استعمال یا فینز کے لیے بنایا جاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ فارمولا ون (F1) کے فینز کارٹنگ ریس سوٹس کے ریپلکا صرف شوقیہ یا عمومی استعمال کے لیے آرڈر کرتے ہیں، اس لیے ان کا بنانا اور فراہم کرنا جائز ہے۔البتہ اگر بین الاقوامی سطح پر ایسے ریپلکا سوٹس کی تیاری پر قانونی ممانعت ہو، یا کسی کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ یہ سوٹ پیشہ ورانہ ریسنگ میں استعمال کرنے کے لیے بنوا رہا ہے، تو ایسی صورتوں میں اس کو بنانا اور فراہم کرنا جائز نہیں ہوگا۔اسی طرح حرام کاروبار کرنے والی کمپنیوں (مثلاً شراب بنانے والی کمپنیاں یا سودی بینک) کا نام یا لوگو استعمال کر کے ان کی اسپانسرشپ کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں، خواہ تشہیر کی نیت ہو یا نہ ہو۔کیونکہ عملی طور پر یہ بہر صورت  تشہیر کے زمرے میں آتا ہے اور یہ حرام کام میں تعاون کے مترادف ہے، جو شرعاً ممنوع ہے۔ 

حوالہ جات

 سورۃ المائدہ:2

و لا تعاونوا على الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب

 سنن ابن ماجة - الرسالة (3/ 432)

 عن ابن عباس ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا ضرر ولا إضرار.

مبسوط سرخسی: ‌‌كتاب المناسك، ج:4، ص:96

لأن فعل المحرم معصية، والإعانة على ‌المعصية ‌معصية."

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/شعبان  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب