03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دستاربندی کے لیے زبردستی چندہ کرنے کا شرعی حکم
89957جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل مدارسِ اسلامیہ اور بعض مساجد میں ختم القرآن آور ختم بخاری کے دستاربندی میں طلباء اور طلبات اور بچوں کے والد سے ناراضگی سے دس دس ہزار روپے لے کر دستار بندی کے پروگرام اور خطیب کے خرچ میں لگاتے ۔ اسکا شرعاً حکم کیا ہے.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ختمِ قرآن اور ختمِ بخاری کے موقع پر دستاربندی کا اہتمام کرنا فی نفسہٖ جائز اور مستحسن عمل ہے۔ تاہم اسے لازم و ضروری سمجھ لینا، یا محض معاشرتی دباؤ، نام و نمود اور شہرت کے حصول کی غرض سے تقریبات اور دعوتوں کا اہتمام کرنا درست نہیں ۔ البتہ اگر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے سادگی کے ساتھ تقریب کا انتظام کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

اسی طرح تقریب کے نام پر طلبہ یا طالبات سے جبر یا دباؤ کے ذریعے چندہ لینا ناجائز ہے، کیونکہ بغیر شرعی سبب کے کسی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا جائز نہیں۔ البتہ اگر بغیر کسی دباؤ کے، خوش دلی اور باہمی رضامندی سے چندہ دیا جائے تو اس سے دستاربندی اور متعلقہ انتظامات کرنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

البحرالرائق: (فصل في التعزیر، ج:۵، ص:۴۴، ط:دارالکتاب الإسلامی)

لايجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

 فتح الباری :(ج2ص338)

ان المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبہ اشار الی کراھته .

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/شعبان  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب