| 89971 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں email copywriting سیکھ رہا ہوں۔ اس کام کی نوعیت یہ ہے کہ میں مختلف کمپنیوں کے لیے ان کے پراڈکٹس کی مارکیٹنگ کے مقصد سے ای میل تحریر کرتا ہوں۔ بعض اوقات یہ کمپنیاں ان ای میلز کے ساتھ کسی جاندار چیز کی تصویر بھی شامل کرتی ہیں، لیکن وہ تصویر میں خود تیار نہیں کرتا، بلکہ کمپنی خود بناتی اور استعمال کرتی ہے۔ میرا کام صرف ای میل لکھنا ہوتا ہے اور کبھی کبھار تصویر کے بارے میں عمومی رہنمائی دینا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں میرا پہلا سوال یہ ہے کہ: کیا کسی کمپنی کے پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لیے صرف ای میلز لکھنے کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے، جبکہ تصاویر کمپنی خود بناتی اور شامل کرتی ہے؟
دوسری صورت یہ ہے کہ بعض ای میلز میں کسٹمرز کو کسی ویڈیو کو دیکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس ویڈیو کا لنک میں خود کسٹمرز کو نہیں بھیجتا، بلکہ کمپنی اپنے طور پر بھیجتی ہے۔ میرا کام صرف ایسی ای میلز تحریر کرنا ہوتا ہے جس کا مقصد کسٹمرز کو ویڈیو دیکھنے پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ ان ویڈیوز کا اصل مقصد پراڈکٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور ان کی فروخت بڑھانا ہوتا ہے۔ بعض اوقات ان ویڈیوز میں مرد یا عورت کی تصاویر اور بیک گراؤنڈ میوزک بھی شامل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ: کیا ایسی ای میلزلکھنے کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے، جبکہ ویڈیوز کمپنی خود تیار کرتی ہے اور خود ہی کسٹمرز کو ارسال کرتی ہے؟ براہِ کرم ان امور کے بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی صورت میں چونکہ آپ کا بنیادی کام مختلف کمپنیوں کی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے صرف ای میل تحریر کرنا ہے، لہٰذا اس پر اجرت لینا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ جن مصنوعات کی تشہیر کے لیے آپ ای میلز تحریر کرتے ہیں وہ شرعاً حلال ہوں اور دھوکے سے خالی ہوں،نیز خواتین کی تصاویر شامل نہ ہوں۔
دوسری صورت میں جس کا مقصد ہی کسٹمرز کو کسی ویڈیو دیکھنے پر آمادہ کرنا ہے ، اگر ان ویڈیوز میں خواتین یا میوزک نہ ہو ، نیز پروڈکٹس کی صفات بھی درست بیان کی گئی ہوں تو ایسی پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے ای میل تحریر کرنے پر بھی اجرت لیناجائز ہوگا ۔
لیکن اگر ان ویڈیوز میں خواتین یا بیک گراونڈ میوزک شامل ہو،جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ایسےای میلز لکھنا اور اس پراجرت لینا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 64):
(الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا.
قال العلامة ابن عابدين: أن المشترك له أن يتقبل العمل من أشخاص؛ لأن المعقود عليه في حقه هو العمل أو أثره فكان له أن يتقبل من العامة؛ لأن منافعه لم تصر مستحقة لواحد، فمن هذا الوجه سمي مشتركا.
أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (2/ 381):
وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.
المحيط البرهاني (8/ 312):
وكذلك الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر.
فتاوى قاضيخان (3/ 248)
أما استماع صوت الملاهي كالضرب بالقضيب و غير ذلك حرام و معصية لقوله عليه الصلاة و السلام استماع الملاهي و الجلوس عليها فسوق و التلذذ بها من الكفر إنما قال ذلك على وجه التشديد .
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/شعبان/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


