03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میک اپ پر وضو کرنے کا حکم
89977پاکی کے مسائلپانی کے مسائل

سوال

میک اپ  اگر تھوڑا  لگا  رہ گیا ہو تو اس سے پر وضو ہوجائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  یاد رہے کہ وضو میں چہرے کی جلد کو دھویا جاتا ہے۔ عام میک اپ عموما جلد تک پانی پہنچنے  میں رکاوٹ نہیں بنتا اور وضو درست ہوجاتا ہے۔البتہ اگر میک اپ واٹر پروف ہوتو اسے چہرے سے زائل کیے بغیر وضو نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية:(1/4)

  "في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز، وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز."

البحرالرائق:(1/14)

قال العلامة ابن نجیم رحمه اللہ: "ولو لصق بأصل ظفره طين يابس وبقي قدر رأس إبرة من موضع الغسل لم يجز."

سید سمیع اللہ شاہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

21/شعبان المعظم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب