03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیشنل سیونگ بہبود سرٹیفکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع سے مسجد کی تعمیر کا حکم
89978متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

1-نیشنل سیونگ بہبود سرٹیفکیٹس سے فیکس پروفٹ پر حاصل کی گئی رقم سے مسجد کی تعمیر کرنا کیسا ہے؟

 2-اگر ان سرٹیفکیٹس کو واپس کر کے اصل قیمت حاصل کر لی جائے تو کیا اس کا لگانا درست ہوگا؟

وضاحت از سائل:سائل کی پھوپھی نے اپنی زمین فروخت کر کے نیشنل سیونگ بہبود سرٹیفکیٹس حاصل کیے ہیں ،جن پر فیکس پروفٹ ملتا ہےاس کو مسجد کی تعمیر میں لگانا چاہتے ہیں۔قرض وغیرہ کی رقم نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد اللہ تعالی کا مقدس اور پاکیزہ گھر ہےجس میں  ثواب کی نیت سے  رقم خرچ کی جاتی ہے ۔اور ثواب کے حصول کے لیے مال کا حلال ہونا اور ہر قسم کے خبث سے پاک ہونا ضروری ہے ، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ مسجد کی تعمیر میں  ہر قسم کی  حرام کمائی خواہ وہ  سود کی شکل  میں ہو  یاکسی اور ناجائزذریعےسےحاصل شدہ ہواس کا   استعمال جائزنہیں ،لہذا تعمیرِ مسجد کے لیے حرام اور مشتبہ مال لیناجائز نہیں ہے اور نیشنل سیونگ بہبود سرٹیفکیٹس سےملنے والا متعین نفع  چونکہ سود  ہے، اس وجہ سے اس کو مسجد کی تعمیر میں استعما کرنا جائز نہیں ۔

وہ سرٹیفکیٹس ادارےکوواپس کرکے اصل قیمت حاصل کرلی جائے تو وہ رقم مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

فی سنن الترمذی الحدیث (1/51):

عن ابن عمرؓ عن النبيﷺ قال: لا تقبل صلاة بغير طهور و لا صدقة من غلول.

 رد المحتار ط الحلبي(1/ 658):

(قوله: لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: ‌أما ‌لو ‌أنفق ‌في ‌ذلك ‌مالا ‌خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله.

       محمدوجیہ الدین  

 دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی

11/شعبان المعظم /4714ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب