03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریعہ نان کمپلائینٹ کمپنیوں کی آمدنی کا حکم
90031خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جو شرعیہ کمپلائنٹ کمپنیاں ہیں ان کی جو سکریننگ ہوتی ہے وہ تقریبا چھ ماہ کے بعد ہوتی ہے سوال یہ ہے کہ جب ان کمپنیوں کی سکریننگ کی جاتی ہے تو جو شرعیہ اصولوں کے مطابق پوری نہیں اترتی وہ مستقبل کے لحاظ سے ہوتی ہیں یا ماضی کے لحاظ سے یعنی مثال کے طور پر میں نے ایک شریعہ کمپلائنٹ کمپنی کے شیئر جنوری میں خریدے اور اس میں مجھے نفع ہوا جبکہ اس کمپنی کی جب سکریننگ ہوئی جو کہ جون میں کی گئی تو وہ شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں سے آؤٹ ہو گئی تو اس صورت میں میں نے جو نفع حاصل کیا تھا وہ ٹھیک ہے کہ نہیں ؟یعنی میرے سوال کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ سکریننگ کمپنی کے شرعی حیثیت کو مستقبل کے لحاظ سے ظاہر کرتی ہے یا ماضی کے لحاظ سے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور دیگر تمام کمپنیاں قانونی طور پر سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( SECP)کے وضع کردہ اصولوں کےمطابق عمل کرنےکی پابندہوتی ہیں  چنانچہ(SECP Guidelines_for_Shariah-Compliant_Investing_on_PSX)  کےشق نمبر ۱۲ کے بیان کے مطابق شریعہ کمپلائنٹ انڈیکسز کا ازسرِ نو جائزہ سال میں دو بار(  ۱۵ مئی   پچھلےسال کے ۳۱ دسمبر کے ڈیٹا کے مطابق اور ۱۵ نومبر  ۳۰ جون کے ڈیٹا کے مطابق )  لیا جاتا ہے ۔اسی طرح شق نمبر ۱۴ کے مطابق اگر کوئی شریعہ کمپلاینٹ کمپنی کسی عرصہ میں شریعہ کمپلاینٹ کمپنیوں کے فہرست سے خارج پائی گئی تو اس کے لیے   PSX-KMIآل شیئر انڈیکس میں سیکیورٹیز کو شامل کرنے کے معیار میں سے ایک یہ ہے کہ غیر شرعی (non-compliant) آمدنی کا تناسب کل ریونیو کے 5% سے کم ہوکیونکہ ممکن ہے کہ کوئی کمپنی، جو شریعہ کے مطابق سمجھی جاتی ہے، کسی حد تک غیر شرعی آمدنی بھی حاصل کرےاوریہ آمدنی کمپنی کے منافع میں شامل ہو جاتی ہے، جسے بعد میں شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔
لہٰذا سرمایہ کاروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے حاصل کردہ ڈیویڈنڈ میں سے غیر جائز (impermissible) آمدنی کے حصے کو نکال کر اسے “پاک” کریں۔باقی  اس عرصے میں غیر شرعی آمدنی کی مقدار نکالنے کے طریقہ کار کی تفصیل مذکورہ صفحے پر ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔

(۱)صورت مسئولہ میں جب آپ نے ایک شریعہ کمپلائنٹ کمپنی کے شیئرز جنوری میں خریدے جن میں آپ کو نفع بھی  ہوا اور پھر جب  اس کمپنی کی سکریننگ ہوئی( جو کہ جون میں کی گئی) تو وہ کمپنی  شریعہ کمپلائنٹ کمپنیوں کی لسٹ سے آؤٹ ہو گئی تو اب  آپ پر اس نفع کا غیر شرعی حصہ صدقہ کرنا لازم ہےجس  کےلیے آپ  متعلقہ کمپنی کے بیلنس شیٹ میں  دیکھے کہ کمپنی نےاس  ناجائز ضمنی معاملہ میں کتنے فیصد سرمایہ  ناجائز کاروبار میں لگاکر نفع حاصل کیاپھر آمدنی کا اتنے  فیصد حصہ اپنی حاصل شدہ نفع سے صدقہ کردے  ۔

(۲)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں کی شریعہ اسکریننگ  ماضی کے ڈیٹا کی بنیاد پر ہوتی ہے،جس میں  شریعہ بورڈ کے مرتب کردہ اصولوں  کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کی  مالیاتی سرگرمیوں  کا جائزہ لیا جاتا ہے،جس  کے نتیجے میں اگر کوئی کمپنی شریعہ نان کمپلائینٹ ظاہر ہو تو اسےمستقبل کے لیے شریعہ انڈیکس سے خارج کر کے نان شریعہ کمپلائینٹ قرار دیا جاتا ہے  ،اور اگر کوئی کمپنی  سابقہ ڈیٹا کے بنیاد پر  شریعہ کمپلائینٹ قرار پائی تو ا سے مستقبل کے لیے بھی شریعہ کمپلائینٹ کمپنیوں کی لسٹ میں برقرار رکھا جاتا ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (5/ 99):

والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب ‌الأموال ‌وجب ‌رده ‌عليهم، ‌وإلا ‌فإن ‌علم ‌عين ‌الحرام ‌لا ‌يحل ‌له ‌ويتصدق ‌به ‌بنية ‌صاحبه.

المعايير الشرعية ، (ص:568):

المساھمة او التعامل (الاستثمار أو المتاجرة) فی أسھم شرکات، أصل نشاطھا حلال ولکنھا تودع أو تقترض بفائدة.

الأصل حرمة الساھمة والتعامل(الاستثمار أو المتاجرة) فی أسھم شرکات تتعامل أحیانا بالربا أو نحوہ من المحرمات مع کون أصل نشاطھامباحا ویستثنی من ھذا الحکم المساھمة أو التعامل بالشروط الآتیة:

أن لا تنص الشرکة فی نظامھا الأساسی أن من أھدافھا التعامل بالربا أو التعامل بالمحرمات کالخنزیر و نحوہ.

أن لایبلغ إجمالی المبلغ المقترض بالربا سواء، أکان قرضا ،طویل الأجل أم قرضا قصیر الأجل۳۰٪ من القیمة السوقیة لمجموع أسھم الشرکة ،علما بأن الاقتراض بالربا حرام،مھما کان مبلغہ.

أن لایبلغ إجمالی المبلغ المودع بالربا،سواء أکانت مدة الإیداع قصیرة أو متوسطة أو طویلة ۳۰٪ من القیمة السوقیة لمجموع أسھم الشرکة علما بأن الإیداع بالربا حرام ،مھما کان مبلغہ.

المعايير الشرعية ، (ص:581):

مستند استثناء التعامل باسھم شرکات، اصل نشاطھا حلال ولکن تودع او تقترض بالفائدة،ھو تطبیق رفع الحرج والحاجة العامة وعموم البلوی ومراعاة قواعد الکثرة والقلة والغلبة وجواز التعامل مع من کان غالب اموالہ حلالا.

صدام حسین 

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

۲۴/شوال المکرم /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب