| 90032 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مسئلہ: پرائیویٹ کمپنی کا اپنے ملازمین سے بینک سے متعلق کام کروانا اور تنخواہ دینا۔ کیا یہ تنخواہ ملازمین کے لیے حلال ہے؟ آپ سے درخواست ہے کہ براہ کرم مندرجہ ذیل بیان شدہ مسئلے کی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلات سے اگاہ کیجئے تاکہ تمام منسلک ادارے کے افراد کی رہنمائی ہو سکے ۔۔۔*جیسا کہ اس وقت پاکستان میں دو قسم کے بینک موجود ہیں ایک کا کنونشنل بینک اور دوسرے اسلامی بینک۔ سب سے پہلے ہم کنونشنل بینک کی بات کرتے ہیں۔* کنونشنل بینک سے مراد وہ روایتی بینک یعنی تجارتی بینک ہیں جو سود کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ یہ بینک جمع شدہ رقم پر سود دیتے ہیں اور قرض کی صورت میں وصولتے ہیں۔۔۔* اسلامی بینک سے مراد وہ بینک ہیں جو اسلامی شریعت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں اور اس میں سودی لین دین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔۔* اسی طرح نیشنل بینک آف پاکستان ایک ایسا بینک ہے جس میں عموما تمام سرکاری ملازمین اور سرکاری اداروں کے اکاؤنٹ موجود ہیں اور یہ نیشنل بینک اسلامی بینک اور کنوینشنل بینک یعنی روایتی بینک دونوں کی امیزش ہے کچھ اسلامی برانچز ہیں اور کچھ کنوینشنل ۔۔۔* HTECH نامی ایک کال سینٹر کمپنی ہے جس کا فل وقت نیشنل بینک اف پاکستان کے ساتھ ایک مقررہ مدت تک کے لیے معاہدہ طے ہے مدت ختم ہونے کے بعد کمپنی کسی اور ادارے کے ساتھ اپنا معاہدہ کر لے گی یا پھر نیشنل بینک کے ساتھ ہی اپنے معاہدے کو جاری رکھے گی۔۔* کمپنی میں دو مختلف ڈیپارٹمنٹس ہیں جس میں ڈیپارٹمنٹ اول کو ہیلپ لائن کہا جاتا ہے ۔* اب چونکہ حال ہی میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ ایچ ٹیک کمپنی کا معاہدہ طے ہے تو نیشنل بینک آف پاکستان کے تمام کسٹمرز ہیلپ لائن پر رابطہ کرتے ہیں اور اس ہیلپ لائن پر رابطے کا مقصد اپنے اکاؤنٹ میں پیش آنے والے تمام تر مسائل سے آگاہی حاصل کرنا ہوتا ہے جب بھی کوئی کسٹمر ہیلپ لائن پر رابطہ کرتا ہے تو انہیں ان کے اکاؤنٹ کے متعلق پیش آنے والے تمام تر مسائل کے متعلق بہتر سے بہتر حل پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اگر ضرورت پیش آتی ہے تو ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے شکایات بھی درج کی جاتی ہیں اور ہر طرح کی سروسز ہیلپ لائن پر فراہم کی جاتی ہیں، جیسا کہ کارڈ ایکٹیویٹ کرنا ،ضرورت پڑنے پر کارڈ کو بلاک کرنا ،موبائل ایپلیکیشن کے متعلق استعمال کی تفصیلات فراہم کرنا ، بیلنس انکوائری اور دیگر اکاؤنٹ کی تفصیلات
سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ *اب بات کرتے ہیں ڈیپارٹمنٹ دوئم کی، ڈیپارٹمنٹ دوئم کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ڈیپارٹمنٹ اول یعنی ہیلپ لائن میں شکایات کو درج کیا جاتا ہے تو ان شکایات کو مسئلے کے مطابق تحقیقات کے لیے کمپلین ڈیپارٹمنٹ میں بھیجا جاتا ہے کمپلین ڈیپارٹمنٹ کا کام ان شکایات پر تحقیق کرنا اور تفصیلات فراہم کرنا ہوتا ہے کمپلیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان تمام تر شکایات کو ڈیپارٹمنٹ دوم میں بھیجا جاتا ہے۔* ڈیپارٹمنٹ دوم میں کام کرنے والے تمام کارکنان کے ذمے یہ کام ہیں کہ وہ شکایات پر موصول ہونے والی تمام تر تفصیلات کو بذریعہ کال یا ایس ایم ایس کسٹمرز تک پہنچاتے ہیں۔ کمپلین ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شکایات پر موصول ہونے والی تمام تر تفصیلات کو لفظ بلفظ کسٹمرز تک بذریعہ کال یا ایس ایم ایس پہنچا دیا جاتا ہے اس میں کسی بھی کارکن کی اپنی ذاتی نہ ہی کوئی رائے موجود ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی منشا ءاور اگر ان تفصیلات سے کسٹمرز مطمئن نہ ہو تو کسٹمرز کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے ساتھ بھی شکایت کو دوبارہ سے کمپلین ڈیپارٹمنٹ کی جانب بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ایک دفعہ دوبارہ مزید تحقیق ہو سکے اور مسئلے کے مطابق حل پیش کیا جا سکے۔ کمپلین ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شکایات پر موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ہی کسٹمرز کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ اور انہی تفصیلات کی بنا پر ہی شکایات کو بند بھی کیا جاتا ہے۔*جس اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانا مقصد ہے وہ یہ ہے کہ ڈیپارٹمنٹ اول اور ڈیپارٹمنٹ دوم دونوں میں ہی کسٹمرز کو بہتر سروسز فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور ہر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن انہی کاموں کے دوران اگر کسٹمرز ڈیپارٹمنٹ اول میں کال کرتے ہیں یا پھر ڈیپارٹمنٹ دوم میں کسٹمرز کو جب ان کی شکایت کے حوالے سے رابطہ کیا جاتا ہے ۔اور اگر وہ لون(Loan) کے حوالے سے تفصیلات جاننا چاہیں یعنی وہ لون جن پر انہیں بدلے میں سود بھرنا پڑے گا اس کے حوالے سے وہ جاننا چاہیں تو جتنی تفصیلات سے آگاہ وہ ہونا چاہیں اتنی ہی تفصیلات انہیں بتا دی جاتی ہیں۔ لیکن نہ ہی انہیں کوئی ذاتی تجویز پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی ان لونز کو بیچنے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے صرف اور صرف کسٹمرز کی اپنی مرضی اور منشا کے تحت ہی انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو لون کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کے باعث شکایات بھی درج کی جاتی ہیں۔ایچ ٹیک کمپنی میں کام کرنے والے تمام ملازمین کی جو تنخواہیں ہیں وہ ایچ ٹیک کمپنی کی جانب سے ہی انہیں دی جاتی ہیں اور اس میں کوئی بھی اضافی رقم موجود نہیں ہوتی ہے۔ صرف اور صرف وہی رقم موجود ہوتی ہے جو معاوضہ ان سے طے پایا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن ایچ ٹیک کمپنی کو جو رقم دی جاتی ہے وہ نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے آتی ہے اور نیشنل بینک آف پاکستان ایک ایسا بینک ہے جس میں اسلامی اور کنوینشنل یعنی روایتی بینک دونوں کے مال کی آمیزش موجود ہے۔ ایچ ٹیک کمپنی کے ملازمین کا براہ راست نہ ہی نیشنل بینک آف پاکستان سے کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی انہیں ان کے معاوضے کے علاوہ کوئی اور اضافی رقم حاصل ہے وہ صرف اور صرف کسٹمرز کو ان کے مسائل کے حوالے سے سروسز فراہم کرتے ہیں اب یہاں پر اہم بات یہ جاننا ہے کہ کیا اس صورتحال میں بھی یہ آمدنی ناجائز قرار پائے گی حالانکہ اس میں ایچ ٹیک کی ملازمین براہ راست نہ ہی سودی لین دین میں کسی بھی طور شامل ہیں اور نہ ہی کسی بھی اعتبار سے کسٹمرز کو سودی لین دین کی ترغیب دیتے ہیں اور نہ ہی لون لینے کیلئے کوئی ذاتی مشورے ۔اس وقت ایچ ٹیک کمپنی میں خاصہ مقدار میں لوگ کام کر رہے ہیں اگر یہ آمدنی بھی ناجائز ہے تو حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت ملکی سطح پر ہم غور کریں جہاں روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں اس میں کیا اگر یہ کام بھی ناجائز ہے تو آخر پھر اس مسئلے کا حل کیسے کیا جائے۔* برائے مہربانی اس مسئلے کی تمام تر باریکیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی ہدایات فراہم کی جائیں۔۔۔بنت مظہر
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق برا ہ ِراست سودی معاملات سےہو ناجائز اور حرام ہے، البتہ وہ ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہ ہو اور اس ملازمت میں سودی لین دین، یا سودی لکھت پڑھت وغیرہ سے متعلق کوئی کام نہ کرناپڑتا ہوتو وہ جائز ہے، صورت مسئولہ میں اگر HTECH نامی کال سینٹر کمپنی کے ملازمین کی صارفین کے ساتھ یہ بات چیت اور معاونت اگر سودی لین دین کا سبب ہے تو جتنا وقت ایسے سودی اکاونٹس کی معاونت میں لگے اسکے بقدر تنخواہ ناجائز ہوگی اور اگر ایسا نہیں تو پھر جائز ہے، مگر حتی الامکان سودی بینکوں کی ایسی ملازمت سے بھی گریز کرنا چاہیےاور اپنے لیے اور کوئی حلال ذریعہ معاش تلاش کیا جائے ۔
حوالہ جات
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1915)
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم.
فقه البیوع(2/1066):
أماإذاکانت الوظیفة لیس لھاعلاقة مباشرة بالعملیات الربویة،مثل وظیفة الحارس، أوسائق السیارة،أوالعامل علی الھاتف ،أوالموظف المسئول عن صیانة البناء،أوالمعدات،أوالکھرباء۔۔۔فلایحرم قبولھاان لم یکن بنیة الإعانةعلی العملیات المحرمة،وإن کان الاجتناب عنھاأولی،ولایحکم فی راتبه بالحرمة، لماذکرنامن التفصیل فی الإعانة والتسبب،وفی کون مال البنک مختلطابالحلال والحرام،ویجوزالتعامل مع مثل ھؤلاء الموظفین ھبة أوبیعاأوشراء.
تکملة فتح الملهم (619/1)
أن التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فإن كان عمل الموظف في البنك ممايعين علي الربا، كالكتابة أو الحساب، فذلك حرام لوجهين: ألاول: إعانةعلي المعصية، والثاني: أخذ الأجرة من المال الحرام، فإن
معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، وأما إذا كان العمل لا علاقة له بالربا فإنه حرام للوجه الثاني فحسب، فإذا وجد بنك معظم دخله حلال جاز فيه التوظف للنوع الثاني من الأعمال.
صدام حسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۵/شوال المکرم /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


