| 90061 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں کینیڈا میں Lead Generation اور Marketing کا آن لائن کاروبار کرتا ہوں۔میرا بنیادی کام آن لائن اشتہارات (ads) بنانا اور اُن افراد کی رابطہ معلومات جیسے نام، فون نمبر اور ای میل جمع کرنا ہے جو mortgage یعنی قرضوں (جن میں عموماً سود "interest" شامل ہوتا ہے) میں دلچسپی رکھتے ہیں۔یہ leads آگے mortgage agents کو فراہم کی جاتی ہیں۔اکثریت leads غیر مسلم افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اور میرے اپنے جو کلائنٹس mortgage agents ہیں، وہ بھی تمام غیر مسلم ہیں۔یعنی میرا کام صرف marketing اور leads generate کرنے تک محدود ہے۔میں خود کسی بھی قرض یا سود کے معاہدے میں فریق نہیں بنتا، نہ میں کسی معاہدے پر دستخط کرتا ہوں، نہ ہی سودی لین دین میں براہِ راست شامل ہوں۔میری آمدنی صرف اُن services کی فیس سے ہوتی ہے جو میں فراہم کرتا ہوں ۔یعنی advertising اور leads generation۔اب تک مجھے اس کاروبار کے ناجائز ہونے کا علم نہیں تھا۔حال ہی میں میری نظر سے ایک ویڈیو گزری جس میں mortgages کے حوالے سے بیان شامل تھا، اور اسی ویڈیو کی وجہ سے میں یہ سوال بطورِ فتوٰی پوچھ رہا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ:
- میں نے پچھلے کچھ سالوں میں ایک بار حج کیا ہے، اور اپنی خاندان سمیت، جن میں میری والدہ بھی شامل ہیں، دو بار عمرہ کیا ہے۔ کیا میرا حج اور میرا اور میرا خاندان کا عمرہ صحیح اور مکمل ہوا ہے یا نہیں؟
- کیا میری یہ آمدنی حلال ہے یا حرام؟
- میں یہ کام اس لیے کر رہا ہوں کہ اس کے علاوہ مجھے فی الحال کوئی اور مہارت یا ذریعہ معاش حاصل نہیں، اور میں اکیلا شخص ہوں جو گھر کے تمام اخراجات، والدہ کے خرچ اور والد صاحب کی کفالت بھی کرتا ہوں۔ اس صورت میں کیا میرے لیے یہ کاروبار فی الحال جاری رکھنا جائز ہے؟
- اگر یہ کام ناجائز یا حرام ہے تو اب تک حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا کروں؟
- کیا مجھے وہ رقم صدقہ کر دینی چاہیے، یا توبہ کر کے آئندہ حلال ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کروں اور ماضی کی آمدنی استعمال کر سکتا ہوں؟ میری کل جمع پونجی صرف یہی رقم ہے، اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ اگر میں اس پیسے کو صدقہ کر دوں تو میرے پاس کچھ نہیں بچے گا۔
- اسی پیسے سے میں نے اپنا ایک فلیٹ خریدا ہے، جس میں میری بیوی اور دو بچے میرے ساتھ رہتے ہیں۔ اس صورت میں کیا کوئی مخصوص شرعی رہنمائی ہے؟
- میں سود سے بچنے اور حلال ذریعۂ روزگار کی طرف منتقل ہونے کی سنجیدہ کوشش کرنا چاہتا ہوں، لیکن فی الحال میرے حالات ایسے ہیں کہ فوری طور پر متبادل ممکن نہیں۔ کیا اس دوران میرا یہ کام عارضی طور پر جاری رکھنا درست ہے جب تک کہ میں حلال متبادل قائم نہ کرلوں؟
- اگر یہ کاروبار ناجائز یا حرام ثابت ہو تو کیا میں اس کاروبار کو بیچ کر، اور اس سے جو رقم حاصل ہو، اس رقم سے اپنے لیے حلال روزی کا آغاز کر سکتا ہوں؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اطمینان قلب کے ساتھ حلال روزی کی طرف بڑھ سکوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ایسے کام جو مسلمان کے لیے خود کرنا جائز نہیں ہیں، انہیں کسی غیر مسلم کے لیے کرنا بھی جائز نہیں ہیں،لہٰذا جیسے خودسودی قرض لینا جائز نہیں ہے ویسے ہی کسی اور کو خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، سودی قرض دلوانا یا ذریعہ بننا جائز نہیں ہے۔لہٰذا آپ کے لیے Interest based Financing یعنی Mortgage وغیرہ کے لیے ایڈ بنانا، اس کی مارکیٹنگ کرنا اور دلچسپی لینے والے لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے متعلقہ کمپنیوں کو دینا اور پھر ان خدمات کا عوض وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
(1)حرام مال سے حج کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شخص حرام مال سےادا کرلے تو اس کی طرف سے ادا ہوجائے گا،لیکن ثواب نہیں ملے گا،یہی حکم عمرے کا بھی ہے۔
(2) ناجائز ہے۔
(3)جاری رکھنا تو جائز نہیں،البتہ فوراً نہ چھوڑیں،خوب توبہ و استغفار جاری رکھیں اور کوئی دوسرا جائز کام ایسے تلاش کریں جیسے بیروزگار شخص تلاش کرتا ہے،پھر جیسے ہی جائز روزگار مل جائے تو فوراً اسے ترک کردیں۔
(4) مذکورہ آمدن کا بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے،البتہ اکٹھا کرنا ضروری نہیں،بلکہ اپنی سہولت کے مطابق جتنا ممکن ہو اور جتنا جلدی ممکن ہو تھوڑا تھوڑا کرکے صدقہ کردیں۔
(5)جب تک جائز روزگار نہیں ملتا اس وقت تک اس رقم میں سے ضرورت کے مطابق استعمال کرتے رہیں ،لیکن اس کامکمل حساب رکھیں،پھر جیسے ہی جائز روزگار کا انتظام ہوجائے تو یہ ساری رقم(جتنی رقم بھی اس کام سے کمائی تھی، خواہ وہ خرچ ہوچکی ہو یا ابھی باقی ہو) شق نمبر 4 کے مطابق صدقہ کردیں۔
(6)جتنی رقم اس فلیٹ کی خریداری میں مذکورہ ناجائز آمدن سے لگی تھی اس رقم کے بقدر صدقہ کرنا شق نمبر 4 کے مطابق ضروری ہے،رہی بات اس فلیٹ میں رہنے کی تو رہائش میں کوئی حرج نہیں۔
(7) شق نمبر 3 کے مطابق عمل کریں۔
(8) اس کی تفصیلی صورت واضح نہیں ہے، لہٰذا اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکم معلوم کرلیں۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (20/ 42، بترقيم الشاملة آليا(
20۔اتّفق الفقهاء على جواز خدمة الكافر للمسلم .واتّفقوا كذلك على جواز أن يؤجّر المسلم نفسه للكافر في عمل معيّن في الذّمّة ، كخياطة ثوب وبناء دار ، وزراعة أرض وغير ذلك ، لأنّ عليّاً رضي الله عنه أجّر نفسه من يهوديّ يسقي له كلّ دلو بتمرة ، وأخبر النّبيّ صلى الله عليه وسلم بذلك فلم ينكره .
ولأنّ الأجير في الذّمّة يمكنه تحصيل العمل بغيره .كما اتّفقوا على أنّه لا يجوز للمسلم أن يؤجّر نفسه للكافر لعمل لا يجوز له فعله ، كعصر الخمر ورعي الخنازير وما أشبه ذلك .
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 482)
ال: وإذا استأجر الذمي من المسلم بيعة يصلَي فيها فإن ذلك لا يجوز؛ لأنه استأجرها ليصلي فيها وصلاة الذميّ معصية عندنا وطاعة في زعمه، وأي ذلك ما اعتبرنا كانت الإجارة باطلة؛ لأن الإجارة على ما هو طاعة ومعصية لا يجوز.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 482)
وقال أبو حنيفة: لا تجوز الإجارة على شيء من اللهو والمزامير والطبل وغيره؛ لأنها معصية والإجارة على المعصية باطلة.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 481)
إذا استأجر الرجل حمالاً ليحمل له خمراً، فله الأجر في قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لا أجر له.فوجه قولهما: أن حمل الخمر معصية؛ لأن الخمر يحمل للشرب والشرب معصية، وقد «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم حامل الخمر والمحمول إليه» ، وذلك يدل على كون الحمل معصية، وأبو حنيفة رحمه الله يقول يحمل للإراقة وللتخليل كما يحمل للشرب، فلم يكن متعيناً للمعصية، فيجوز الاستئجار عليه.
الموسوعة الفقهية الكويتية (13/ 87، بترقيم الشاملة آليا)
ومن أخذ عوضاً عن عين محرّمة مثل أجرة حامل الخمر وأجرة صانع الصّليب وأجرة البغيّ ونحو ذلك ، فليتصدّق به ، وليتب من ذلك العمل المحرّم ، وتكون صدقته بالعوض كفّارة لما فعله ، فإنّ هذا العوض لا يجوز الانتفاع به ، لأنّه عوض خبيث . نصّ عليه الإمام أحمد في مثل حامل الخمر ، ونصّ عليه أصحاب مالك وغيرهم .
حاشية ابن عابدين (7/ 153(
وما كان سببا لمحظور فهو محظور ا .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 456)
مطلب فيمن حج بمال حرام
(قوله كالحج بمال حرام) كذا في البحر والأولى التمثيل بالحج رياء وسمعة، فقد يقال إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حراما بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا، وإنما الحرام شغل المكان المغصوب لا من حيث كون الفعل صلاة لأن الفرض لا يمكن اتصافه بالحرمة، وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ.أي لأن عدم الترك يبتنى على الصحة: وهي الإتيان بالشرائط، والأركان والقبول المترتب عليه الثواب يبتنى على أشياء كحل المال والإخلاص كما لو صلى مرائيا أو صام واغتاب فإن الفعل صحيح لكنه بلا ثواب والله تعالى أعلم .
فقه البيوع: (2/1045):
"وذكر صاحب "الاختيار شرح المختار": أنه وإن وجب التصدق بالفضل، ولكن إن احتاج إليه، بأن لم يكن في ملكه ما يسد به حاجة نفقته ونفقة عياله، فصرفه في حاجته بنية أنه يتصدق بمثله فيما بعد، جاز له ذلك ... ولكنه مقيد بما إذا لم يكن عنده مال آخر لدفع حاجته ... والرجوع في هذا الأمر إلى إمام عادل شبه المتعذر في زماننا، وذلك إما لعدم إمام يحكم بالشريعة، أو لتعذر رفع مثل هذه القضايا إليه. وحينئذ، يظهر لي – والله سبحانه وتعالى أعلم – أنه يسوغ للمفتي بعد النظر في أحوال المستفتي أن يفتيه بصرف ذلك المال في حاجة نفسه بطريق الاقتراض، والإلزام على نفسه أن يتصدق بمثله، ولو في أقساط، متى وجد لذلك سعة، وبأن يلتمس كسبا حلالا في أقرب وقت، وذلك للعمل بأهون البليتين ... ثم إن هذا الحكم من حلّ الانتفاع للفقير لحاجته، وجواز اقتراضه للغنيّ بإذن الإمام، مختص بالملك الخبيث الذي وجب التصدق به."
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
25.شوال1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


