| 90036 | طلاق کے احکام | کسی کو طلاق واقع کرنے کا حق دینے کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں حضرات علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں :
نکاح کی کارروائی کے دوران نکاح نامہ کے تمام کو ائف (Columns) پر کیے گئے۔ اس میں تفویض طلاق کے خانے میں شوہر کی مکمل رضامندی سے درج ذیل شرط درج کی گئی :
زوجہ کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ جب تک وہ میرے رشتہ نکاح میں ہے ، اپنے والد یا بھائی کی رضا مندی و مشورے سے اپنے او پر طلاق واقع کر سکتی ہے۔"
کلیدی نکتہ: قابل ذکر بات یہ ہے کہ عقد نکاح کے وقت زبانی ایجاب و قبول میں اس شرط کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ محض نکاح نامہ کی تحریر میں شامل تھی۔ تاہم ایجاب و قبول کی شرعی تکمیل کے فوراً بعد ، شوہر اور زوجہ نے اس دستاویز پر اپنے دستخط ثبت کیے اور گواہان نے بھی اس کی تصدیق کی۔
درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1 -کیا ایجاب و قبول کے دوران زبانی ذکر نہ ہونے کے باوجود، نکاح نامہ میں شوہر کی رضا سے لکھی گئی یہ شرط اور اس پر فریقین کے دستخط اسے شرعا نافذ (Valid) کر دیتے ہیں ؟
2 -کیا اس تفویض کردہ اختیار کی بنیاد پر زوجہ کا خود پر طلاق واقع کر ناشر عی طور پر معتبر مانا جائے گا؟جب وہ چاہے ۔
3 -اس صورت میں واقع ہونے والی طلاق کی شرعی نوعیت کیا ہو گی ؟ کیا اسے طلاق بائن شمار کیا جائے گا؟
4 -کیا شرعی طور پر یہ ضروری ہے کہ اس شرط کا ذکر عین ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کی جانب سے ہو ، یا مذ کورہ بالا صورت ( جس میں زبانی ذکر نہیں ہو مگر تحریری طور پر دستخط ہوئے) بھی شرعاً درست اور معتبر ہو گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سؤالات سے پہلے تفویض طلاق ( طلاق کا اختیار کسی کو دینے) سے متعلق تفصیلی فقہی حکم اور چند اصولی باتیں لکھی جاتی ہیں، اس کے بعد ان کی روشنی میں سؤالات کے جوابات بالترتیب لکھے جائیں گے۔
پہلی بات یہ سمجھی لینی چاہیے کہ شوہر بیوی کوطلاق دینے کا اختیاردے سکتاہے،البتہ اگر اختیارایسے الفاظ سے دیا ہو جو دائمی طور پر اختیار دینے پر دلالت نہ کرتے ہوں یامجلس تک محدود اختیار دینے پر دلالت کرتے ہوں، مثلا تمہیں اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہے یا تم چاہو تو اپنے کو طلاق دے سکتی ہو وغیرہ وغیرہ تو ایسی صورت میں بیوی صرف اسی مجلس میں اپنے کو ایک طلاق دے سکتی ہے،اس کے بعد اسے اپنے کو طلاق دینے کا اختیار نہ رہےگااور اگر دائمی طور پر طلاق دینے کا اختیار دیا ہومثلا یوں کہدیاکہ" جب چاہویاکسی بھی وقت تم اپنے کو طلاق دے سکتی ہووغیرہ وغیرہ تو ایسی صورت میں مجلس کے بعدبھی،جب چاہےوہ اپنے کو طلاق دےسکتی ہے،البتہ ایسی صورت میں بھی بیوی کو صرف ایک دفعہ ایک طلاق دینے کا اختیار ہوگا،البتہ اگر واضح طور پر کہا ہو کہ"تم جتنی بار چاہو یا جتنی طلاق چاہو یا جب جب چاہواپنے آپ کوطلاق دے سکتی ہوتوایسی تمام صورتوں میں وہ ایک سے زائد طلاق بھی دےسکتی ہے۔ خواہ ایک مجلس میں ہویا متعدد مجالس میں،
اسی طرح دوسری بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ شوہر جس کیفیت کے ساتھ طلاق کی تفویج کرے گا، بیوی کو اسی کیفیت کے ساتھ طلاق واقع کرنے کا اختیار ہوگا، لہذا اگر مطلق طلاق کی تفویض کی ہے تو بیوی کو طلاق رجعی دینے کا اختیار ہوگا نہ کہ طلاق بائن دینے کا اختیار۔
تیسری بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ شوہر کی طرف سے بیوی کوطلاق کا اختیار دیئےجانے کے بعد شوہر اس اختیار کو ختم نہیں کرسکتا ہے،(لانہ تملیک )البتہ خود بھی طلاق واقع کرسکتا ہےاور بیو ی کے علاوہ کسی بھی دوسرے فرد (ساس یا سسسر وغیرہ )کو اپنی بیوی کوطلاق دینے کااختیار دینے کے بعد اسےکسی بھی وقت ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔(لانہ توکیل)
چوتھی بات یہ ہے کہ بیوی سمیت کسی کو طلاق کااختیار دینے کے لیے نکاح کا ہونا ضروری ہے،البتہ تفویض (طلاق دینے کااختیارحوالہ کرنے)کی اضافت ونسبت نکاح کی طرف ہو تونکاح سے پہلے بھی اختیار دیا جاسکتا ہے۔مثلا یوں کہدیا کہ میرے اس نکاح کے بعد تمہیں طلاق دینے کا اختیار ہوگا،البتہ تفویض کےلیے زبانی ہونا ضروری نہیں ،بلکہ لکھ کر بھی تفویض کرسکتا ہے، اسی طرح نکاح کے بعد کسی بھی موقع پر یہ کام ہوسکتا ہے، پھر چاہےتفویض کی پوری تحریری بعد میں لکھی جائے یا تحریر تو پہلے لکھی جائے، لیکن دستخط نکاح کے بعد کئے جائیں دونوں صورتوں میں تفویض درست ہوجائے گی۔(احسن الفتاوی: ج۵،ص۱۷۷تاص۱۷۹)
اب آپ کے سؤالات کے جوابات بالترتیب یہ ہیں:
۱۔ جی ہاں، شوہر کے رضامندی سے دستخط کرنے سے بیوی کو شرعا طلاق کا اختیار تفویض ہوگیا ہے۔
۲۔جی ہاں، ایسی صورت میں دستخط کرنا قرینہ ہے کہ یہ اختیار کلی ہے۔
۳۔ چونکہ مطلق طلاق کی تفویض کی ہے ،لہذا بیوی اپنے کو صرف ایک طلاق رجعی دے سکتی ہے۔
۴۔ چونکہ تفویض کےلیے زبانی ہونا ضروری نہیں ،بلکہ لکھ کر بھی تفویض کرسکتا ہے اور نکاح کے ایجاب وقبول سے پہلے لکھنے کی صورت میں اس پر بعد کے دستخط بھی کافی ہیں، لہذا مذکورہ صورت میں تفویض کا عمل درست ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية - (ج 9 / ص 58):
إذا قال لها : طلقي نفسك سواء قال لها : إن شئت أو لا فلها أن تطلق نفسها في ذلك المجلس خاصة وليس له أن يعزلها .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 467):
( قوله : ولا يملك الرجوع ) أي ولا يملك الزوج الرجوع عن التفويض سواء كان لفظ التخيير أو بالأمر باليد أو طلقي نفسك بناء على أن الوكيل من يعمل لغيره وهذه عاملة لنفسها حتى لو فوض إليها طلاق ضرتها أو فوض أجنبي لها طلاق زوجته كان توكيلا فملك الرجوع منه لكونها عاملة لغيرها ولا يقتصر على المجلس ،
الفتاوى الهندية - (ج 9 / ص 69):
وإن قال لها : طلقي نفسك متى شئت فلها أن تطلق في المجلس وبعده،ولها المشيئة مرة واحدة وكذا قوله : متى ما شئت وإذا ما شئت ولو قال : كلما شئت كان ذلك لها أبدا حتى يقع ثلاثا كذا في السراج الوهاج .
رد المحتار - (ج 9 / ص 252)
[ فروع ] قال زوجني ابنتك على أن أمرها بيدك لم يكن له الأمر لأنه تفويض قبل النكاح .
( قوله : لم يكن له الأمر إلخ ) ذكر الشارح في آخر باب الأمر باليد نكحها على أن أمرها بيدها صح .ا هـ .
لكن ذكر في البحر هناك أن هذا لو ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أريد أو على أني طالق فقال : قبلت وقع الطلاق وصار الأمر بيدها ، أما لو بدأ هو لا تطلق ولا يصير الأمر بيدها .ا هـ .
رد المحتار - (ج 10 / ص 483)
وذكر في الخانية في مسألة قبلها ، وهي إذا تزوج امرأة على أنها طالق جاز النكاح وبطل الطلاق .
وقال أبو الليث : هذا إذا بدأ الزوج وقال : تزوجتك على أنك طالق ، وإن ابتدأت المرأة فقالت : زوجت نفسي منك على أني طالق أو على أن يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كلما شئت فقال الزوج : قبلت جاز النكاح ويقع الطلاق ويكون الأمر بيدها لأن البداءة إذا كانت من الزوج كان الطلاق والتفويض قبل النكاح فلا يصح .
أما إذا كانت من المرأة يصير التفويض بعد النكاح لأن الزوج لما قال بعد كلام المرأة قبلت ، والجواب يتضمن إعادة ما في السؤال صار كأنه قال : قبلت على أنك طالق أو على أن يكون الأمر بيدك فيصير مفوضا بعد النكاح .ا هـ .
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۵ شوال۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


