03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد سے ذاتی فوائد حاصل کرنا
90046وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے گھر کے قریب ایک مسجد ہو تو کیا وہ اس مسجد سے ذاتی فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ مثلا وہ اپنے گھر کا سامان مسجد میں رکھ دے، گھائے، بھینس کا بھوسہ مسجد سے ملحقہ کمرے میں رکھ دے، اپنے گھر کے دروازے کھڑکیاں مسجد میں رکھ کر ان پر رنگ و روغن کرے، گھر کے قالین وغیرہ مسجد کی چھت پر پھیلائے، اپنی سبزیوں کی بیلیں مسجد کی چھت پر چڑھائے، عورتیں مسجد کے صحن میں بیٹھ کرگپ شپ لگائیں، بچے مسجد کا احترام نہ کریں، جانور جیسے بکریاں مسجد کے اندر تک چلے جائیں، مسجد کے راستے میں رکاوٹ ڈالے، موٹر سائیکل مسجد میں کھڑی کرے، اور بات کرنے پر وہ شخص برا بھلا کہے اور یہ کہے کہ کوئی کون ہوتا ہے جو یہ بات کرے، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے خوف کی وجہ سے اسے سمجھا نہ سکیں تو ایسے شخص کےلیے اور ان لوگوں کےلیے کیا حکم ہے؟

تنقیح :سائل کاکہناتھاکہ مذکورہ شخص کامسجد سے کوئی ذاتی  تعلق نہیں ،نہ خادم کی حیثیت سے اور نہ مسجد کابانی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد اللہ کا گھراورعبادت گاہ ہے،لہذااسےنماز،اعتکاف،ذکر،تلاوت وغیرہ عبادات کے لیےاستعمال کرناچاہیے۔ مسجدکواپنی جائیداد سمجھنایااسے اپنے ذاتی استعمال میں لانابالکل جائز نہیں،ایسے شخص  کواچھے انداز میں سمجھایاجائے بازنہ آنے پر علاقائی عمائدین کے ذریعے  اسے منع کیاجائے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 462):

ليس للقيم أن يتخذ من الوقف على عمارة المسجد مشرفا من ذلك ولو فعل يكون ضامنا.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 462):

‌متولي ‌المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 39):

وصرح في الظهيرية بكراهة الحديث أي ‌كلام ‌الناس في المسجد لكن قيده بأن يجلس لأجله وفي فتح القدير الكلام المباح فيه مكروه يأكل الحسنات .

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 462):

قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فنائه؛ لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته وهذا لا يجوز.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

24/شوال 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب