03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسکول میں ہنگامی چھٹیوں کی فیس لینے کا شرعی حکم
90070اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

اسکول کی ہنگامی صورتحال میں چھٹیاں ہو جائیں تو ان دنوں کی فیس اسکول والوں کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسکول کی ہنگامی چھٹیوں کی فیس لینا شرعا جائز ہے ، کیونکہ دراصل طلبہ کا اسکول کے ساتھ ایک مکمل کورس پڑھانے اور اس کی ڈگری جاری کرنے کا معاہدہ ہوتا ہے، جس میں تعلیم کے ساتھ دیگر سرگرمیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ عرفاً یہ فیس صرف تعلیم کے عوض نہیں لی جاتی، بلکہ ان تمام سہولیات کے مقابل ہوتی ہے جو اسکول اپنے طلبہ کو فراہم کرتا ہے ۔ نیز عرف میں ایسی ہنگامی صورت حال تعلیمی اداروں میں مستثنیٰ سمجھی جاتی ہے اور ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔

نیز ان دنوں میں بھی اسکول کے اخراجات بدستور جاری رہتے ہیں، مثلاً اساتذہ کی تنخواہیں وغیرہ ادا کی جاتی ہیں، لہٰذا ان دنوں کی فیس وصول کرنا شرعاً جائز ہے۔ البتہ اسکول انتظامیہ کے لیے مناسب یہ ہے کہ پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے جس حد تک رعایت ممکن ہو وہ کرے تاکہ فریقین ضرر سے بچ سکیں۔

حوالہ جات

دررالأحکام شرح مجلۃ الأحکام :(1/562)

المادۃ: 488: إذا عقدت الإجارة في أول الشهر على شهر واحد أو أزيد من شهر، انعقدت مشاهرة.وبهذه الصورة يلزم دفع أجرة شهر كامل، وإن كان الشهر ناقصا عن ثلاثين يوما.

أي أنه إذا عقدت الإجارة في أول الشهر أي في غرته وأول يوم فيه على شهر واحد أو أزيد من شهر انعقدت مشاهرة أي مشاهرة شهر قمري۔

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

26/شوال/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب