| 90098 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
محترم گزارش ہےکہ میرےمسئلےپرشریعت کی روشنی میں میری راہنمائی کی جائے۔
میری سب سےچھوٹی خالہ ۔جن کی دوبیٹیاں ہیں،دوسال قبل برضائےالہی بیوہ ہوگئی ہیں،میرےخالوکےوالد نےساری زندگی دبئی میں روزی کمائی اورپاکستان میں پراپرٹی بنائی ہے،پھران کےانتقال کےبعد وہ پراپرٹی خالوکی والدہ ماجدہ کےنام ہوگئی تقریبا 1993۔1994 میں۔
اب 2026میں میرےخالو کابھی برضائےالہی انتقال ہوگیاہے،اب خالو کےبھائیوں کا کہناہےکہ کیونکہ والدہ کی زندگی میں انتقال ہواہے،لہذاخالہ کاحصہ نہیں بنتا۔
یہ ہم جانتےہیں،مگروہ لوگ کہہ رہےہیں کہ کیونکہ خالو کی بیٹیاں ہیں تو اسلام میں بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا،لہذا خالہ کو گھرسےبےدخل ہونےکاکہہ رہےہیں،جبکہ ان کی حالیہ رہائش گاہ 600 گزکی ہے۔
برائےمہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی کی جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چاراہم مسئلےہیں،جن کاجواب درج ذيل ہے:
پہلامسئلہ :بھائیوں کا کہناکہ "والدہ کی زندگی میں انتقال ہواہے،لہذاخالہ کاحصہ نہیں ہے"یہ بات توشرعادرست ہےیعنی والدہ کےنام جتنی جائیدادہے،اس میں ان کےبیٹے(آپ کےخالو)کاحصہ نہیں بنتاکیونکہ والدہ توزندہ ہیں ،والدہ کی جائیدادمیراث اس وقت شمار ہوگی جب خدانخواستہ والدہ کاانتقال ہوجائےگا۔
"رد المحتار"758/6:
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه۔
دوسرامسئلہ " خالو کی بیٹیاں ہیں تو اسلام میں بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتاہے" یہ بات شرعا غلط ہے،والد یاوالدہ کی میراث میں بیٹیوں کابھی اسی طرح حصہ ہے،جس طرح بیٹوں کا ہوتاہے،البتہ شرعامیراث میں بیٹیوں کاایک حصہ ہوتاہےاور بیٹوں کےدوحصے۔موجودہ صورت میں خالو کی (اپنی ذاتی )میراث میں سے ان کی بیٹیوں کابھی حصہ ہوگا۔
القرآن الکریم [النساء: 11]:
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ}
تیسرامسئلہ:جوکہ سب سےاہم ہےوہ یہ کہ جب خالو کےوالد صاحب کاانتقال ہواتھا،اس وقت ان کی (خالوکےوالدکی )میراث شرعی طریقےسےتقسیم ہوگئی تھی یانہیں ؟
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق"ساری پراپرٹی والدہ ماجدہ کےنام ہوگئی "اس لحاظ سےیہ معلوم ہوتاہےکہ والدکی وفات کےبعدوالد میراث کی تقسیم شرعی طریقےکےمطابق نہیں ہوئی،لہذاایسی صورت میں خالوکےوالدکی میراث میں خالوکابھی حصہ تھا،اس حصہ کےبقدر خالو کی اولاد میراث کےمطالبہ کاحق دار ہوگی اورخالو کومیراث میں جتنا حصہ ملناتھا وہ اوران کی اپنی ذاتی جائیداد(اگر ہوتو)وفات کےوقت موجودورثہ(بیوہ،دوبیٹی اور والدہ)میں تقسیم ہوگی(خالوکےوالدکی وفات کےوقت ورثہ کی تفصیلات بھیج دی جائیں تودوبارہ جواب دیاجاسکےگا)
چوتھامسئلہ:خالووالدہ کی زندگی میں فوت ہوگئےتھے،لہذا ان کاحصہ نہیں ہےاور خالہ کو گھر سےبےدخل ہونےکاکہہ رہےہیں۔خالوکےبھائیوں کےلیےیہ بات مناسب نہیں ہےکہ وہ بھائی کےفوت ہونےکےبعد بھابھی اور بھائی کےبچوں کو اس طرح گھر سےبےدخل ہونےکاکہیں،شرعااگرچہ حصہ نہیں بتنا،لیکن خالوکےبھائیوں کواخلاقایہ بالکل زیب نہیں دیتا،خالوکےبھائی اگرصاحب استطاعت ہیں توان کوتوبھتیجیوں کی مددکرنی چاہیے،اس سےصدقہ اور صلہ رحمی دونوں کاثواب ملےگا،احادیث میں رشتہ داروں پر صدقہ وخرچ کرنےکی فضیلت آئی ہے،ایک حديث مبارکہ میں رشتہ داروں پر خرچ کرنےکو بہتر صدقہ کہاگیاہے،اس لیے جب تک خالہ کااورکوئی ذریعہ معاش نہیں،خالوکے بھائیوں کوچاہیےکہ ان کےساتھ تعاون کریں۔
خلاصہ:مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق اگرخالوکےوالد کی میراث شرعی طریقےسےتقسیم نہیں ہوئی تھی توخالوکےورثہ (بیوہ ا وردوبیٹیاں)میراث کےحصےکامطالبہ بہرحال کرسکتے ہیں۔خالوکےبھائیوں کو چاہیےکہ اخلاقا بھائی کےبچوں اوراس کی بیوہ کا کاخیال کریں ،ان کی پریشانی کو دورکرنےکاباعث بنیں ، نہ کہ مزید پریشان کرنےکا۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
02/ذیقعدہ1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


