03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم میراث
90087میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں:

مسمات فاطمہ (فرضی نام )کے والد احمد( فرضی نام) کا انتقال ہوا،ان کے ورثاءمیں بیوہ نیاز بانو،تین بیٹے (مقصود،مکرم،اور ایاز احمد) اور ایک بیٹی (فاطمہ فرضی) نام تھے۔

اس کے بعد احمد (فرضی نام) مرحوم کے بڑے بیٹے مقصود کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں والدہ (نیاز بانو) بیوہ

(نور بانو) دو بیٹے(مسعوداحمد،منصوراحمد) اور سات بیٹیاں (شبانہ،شازیہ،شاہین ،نازیہ ،اسماء صائمہ ،زھرہ) ہیں۔اس کے بعد مرحوم احمد (فرضی نام )کے سب سے چھوٹے بیٹے ایاز احمد کا انتقال ہوا انکے ورثاءمیں والدہ

(نیاز بانو)بھائی(مکرم علی)اور بہن(فاطمہ فرضی نام)ہیں۔

اس کے بعدمرحوم احمد(فرضی نام) کےدرمیانےبیٹے (مکرم علی)کا انتقال ہوا،انکےورثاءمیں والدہ(نیاز بانو)بیوہ(نسیم اختر)چاربیٹے(خرم علی،خیام،عمیربابر،محمدزید)ہیں اورچاربیٹیاں(فوزیہ،حمیرہ،سمیرہ،ثناء)ہیں۔

اس کے بعد مرحوم احمد( فرضی نام) کی بیوہ (نیاز بانو) کا انتقال ہوا، انکےورثاء میں ایک بیٹی(فاطمہ فرضی نام) چھ پوتے(خرم علی،خیام،عمیربابر،محمدزید،مسعوداحمد،منصوراحمد)اورگیارہ پوتیاں(فوزیہ،حمیرہ،سمیرہ،ثناء،شبانہ،شازیہ،شاہین ،نازیہ ،اسماء صائمہ ،زھرہ)ہیں۔

مرحوم احمد کے ترکے میں سے بیوہ نیاز بانو کو ایک پلاٹ (1784 سکوائر فٹ) میں سے جو حصہ ملا وہ انہوں نے اپنی بیٹی فاطمہ کو زندگی میں ہی رجسٹری کر کے دے دیا تھاـ 

مرحوم احمد کے ترکے سے جو زرعی زمین بیوہ نیازبانو کو ملی بعد ازاں ان کے بیٹے ایاز احمد کے ترکے میں سے ملنے والی زرعی زمین انہوں نے اپنے تین پوتوں مسعود احمد, منصور احمد, محمد زید اور بیٹی فاطمہ فرضی نام کو دے دی۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

(۱)  پلاٹ(1784اسکوائر فٹ) میں سے مرحوم بیٹوں سے جو ترکہ والدہ نیاز بانو کو ملے گا اس میں بیٹی فاطمہ کا کیا حصہ ہوگا؟

(۲)  بیٹے مقصود کی زرعی زمین 32 ایکڑ 17 گھنٹے اور مکرم علی کو مرحوم  والد اور بھائی ایاز کے ترکے سے ملنے والی زرعی زمین میں جو 47 ایکڑ ساڑھے 18گھنٹے ) ہے اس سے والدہ نیاز بانو کا کیا حصہ بنے گا اور پھر والدہ نیازبانوکے ترکے میں بیٹی محمود ہ خانم کا اس زمین میں کیا حصہ بنے گا؟

(۳) تینوں بیٹوں نے دو پلاٹ (سروے نمبر 1292 رقبہ 603 اسکوائر فٹ اور پلاٹ نمبر 1293 رقبہ304 اسکوائر فٹ) کل رقبہ 907 اسکوائر فٹ خریدے ان دونوں پلاٹوں کی اراضی میں والدہ نیاز بانو کا کیا حصہ بنے گا ؟بعد ازاں نیاز بانو کےترکے میں بیٹی فاطمہ فرضی نام کا کیا حصہ بنے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. واضح رہے کہ میراث کی تقسیم  کسی معینہ جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی  بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ  مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان  چھوڑا ہو اور مرحوم کاوہ  قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ  ہوتا ہے ،لہذاذیل میں اسی کے مطابق  ہرمیت کی وراثت تقسیم کی جائے گی جس میں ہر وارث کا حصہ  ملاحظہ کرسکتے ہیں

بیٹا (مقصود مرحوم ) کی تقسیمِ میراث کی تفصیل :

صورت مسئولہ میں آپ کے مرحوم بھائی مقصود نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان چھوڑا ہے،اور مرحوم کاوہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سےپہلےمرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کئے جائیں اور اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحوم کے ترکہ سے منہا نہیں کئے جائیں گے، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الأداء قرضہ ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں، اسکے بعد جو مال بچے اسکے کل مساوی دو سوچونسٹھ (۲۶۴) حصے کر کے مرحوم کی بیوہ کو(۳۳) ہرہر بیٹے کو  (۳۴) حصے اور ہرہر بیٹی کو  (۱۷)   حصے دیدیں جبکہ محمودہ خانم کا  شرعی طور پر اس صورت میں بھائی (مقصود ) کی وراثت میں کوئی حق نہیں بنتاجبکہ میراث کی تقسیم کا نقشہ یہ ہے:

نمبر شمار

وارث

عددی حصہ 

فیصدی حصہ

1

بیوہ

33

12.5%

2

والدہ 

44

16.666666666% 

3

بیٹا

34

12.878787878%

4

بیٹا

34

12.878787878%

5

بیٹی 

17

6.4393939393%

6

بیٹی 

17

6.4393939393%

7

بیٹی 

17

6.4393939393%

8

بیٹی 

17

6.4393939393%

9

بیٹی 

17

6.4393939393%

10

بیٹی 

17

6.4393939393%

11

بیٹی 

17

6.4393939393%

12

بہن

محجوب

0

بیٹا (ایازمرحوم) کی تقسیمِ میراث کی تفصیل :

صورتِ مسئولہ میں آپ کے مرحوم بھائی ایازنے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان چھوڑا ہے،اور مرحوم کاوہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سےپہلےمرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کئے جائیں اور اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحوم کے ترکہ سے منہا نہیں کئے جائیں گے، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الأداء قرضہ ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں، اسکے بعد جو مال بچے اسکے کل مساوی(۱۸) حصے کرکےمرحوم کی والدہ کو (۳) بھائی کو(۱۰) اور بہن کو (۵) حصے دیدیں جبکہ میراث کی تقسیم کا نقشہ یہ ہے:

نمبر شمار

وارث 

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

والدہ 

3

16.666666666%

2

بھائی (حقیقی)

10

55.555555555%

3

بہن (حقیقی)

5

27.777777777%

 

 

 

 

 

 

بیٹا (مکرم علی) کی تقسیم ِمیراث کی تفصیل :

صورت مسئولہ میں آپ کے مرحوم بھائی مکرم علی نےاپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان چھوڑا ہے،اور مرحوم کاوہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سےپہلےمرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کئے جائیں اور اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحوم کے ترکہ سے منہا نہیں کئے جائیں گے، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الأداء قرضہ ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں، اسکے بعد جو مال بچے اسکے کل مساوی دو سواٹھاسی (۲۸۸) حصے کر کے مرحوم کی بیوہ کو(۳۶) حصے،ہرہر بیٹے کو  (۳۴) حصے اور ہرہر بیٹی کو  (۱۷)   حصے دیدیں جبکہ محمودہ خانم کا  شرعی طور پر اس صورت میں بھائی (مکرم علی  ) کی وراثت میں کوئی حق نہیں بنتا،جبکہ میراث کی تقسیم کا نقشہ یہ ہے:

نمبر شمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

36

12.5%

2

والدہ

48

16.666666666%

3

بیٹا

34

11.805555555%

4

بیٹا

34

11.805555555%

5

بیٹا

34

11.805555555%

6

بیٹا

34

11.805555555%

7

بیٹی

17

5.9027777777%

8

بیٹی

17

5.9027777777%

9

بیٹی

17

5.9027777777%

10

بیٹی

17

5.9027777777%

11

بہن

محجوب

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

(2)والدہ نیاز بانو کواپنے  بیٹے مقصود کی کل میراث میں سے (16.666666666%)حصہ بنتا ہے جبکہ دوسرے بیٹے مکرم علی  کی کل میراث میں سےبھی  (16.666666666%  ) حصہ لینے کاشرعی طور پرحق حاصل ہے ۔

آپ کی مرحومہ والدہ نیازبانو نےاپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ  مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان چھوڑا ہے،اور مرحومہ کاوہ  قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سےپہلےمرحومہ کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کئے جائیں اور اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحومہ کے ترکہ سے منہا نہیں کئے جائیں گے، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی واجب الأداء قرضہ ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں، اسکے بعد جو مال بچے اسکے کل مساوی چھیالیس(۴۶) حصے کر کے مرحومہ کی بیٹی کو(۲۳) حصے،ہرہر پوتے کو  (۲) حصے اور ہرہر پوتی  کو  (۱)   حصہ دیدیں جبکہ والدہ نیازبانو کے کل ترکے میں بیٹی محمود ہ خانم کاحصہ درج ذیل نقشہ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔

نمبر شمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹی

23

50%

2

6 پوتے

12(فی کس 2حصے)

4.3478260869% )فی کس(

 

3

11پوتیاں

11(فی کس ۱ حصہ)

)2.1739130434% فی کس(

 

 

 

 

 

 

 

 

 

(3)میراث کی تقسیم صرف   میت کےاراضی کے ساتھ خاص نہیں ہوتی بلکہ  میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان  چھوڑا ہو اور میت  کاوہ  قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ  ہوتا ہے۔البتہ سوال میں مذکورہ بیان کے مطابق  والدہ نیاز بانو نے اپنی زندگی میں  پلاٹ (1784 سکوائر فٹ) میں سے جو حصہ ملا  وہ اپنی بیٹی محمودہ خانم کواورمرحوم احمد علی خان اور بیٹے ایاز احمد کے ترکے سے جو زرعی زمین  ملی وہ اس نے اپنے تین پوتوں مسعود احمد، منصور احمد، محمد زید اور بیٹی محمودہ خانم کو   زندگی میں ہبہ کر کےاگر  قبضہ بھی  دے دیا تھاتو یہ ہبہ معتبر ہوگا اور یہ جائیداد انہی لوگوں کی ملکیت سمجھی جائی  گی جن کو یہ جائیداد ہبہ کی گئی تھی لہذا موہوبہ جائیداد مرحومہ(نیاز بانو) کے ترکہ میں سےشمار نہیں کی جائے گی  ۔

 صورت مسئولہ میں والدہ نیازبانو اپنے بیٹے( مقصود) کی کل میراث میں  (16.666666666%)حصہ کی حقدار ہے  ،دوسرے بیٹے( ایاز )کی کل میراث میں سے( 16.666666666%)حصہ کی حقدار جبکہ تیسرے بیٹے (مکرم علی) کی کل میراث میں سے  بھی (16.666666666%) حصہ کی شرعی طورپر حقدار ہے ،جبکہ والدہ نیاز بانو کےکل  ترکے میں  سے محمودہ خانم کو شرعی طور پر (50%)حصہ لینے کا حق بنتا ہے۔

حوالہ جات

 الفتاوى الهندية(٦/ ٤٤٧)

ويستحق ‌الإرث ‌بإحدى ‌خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء........................................والله خير الوارثين

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۲/ذوالقعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب