| 90093 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ایسا عمل کرے جس میں وہ وہی انداز اختیار کرے جیسے شوہر بیوی سے پچھلی طرف سے فرج میں جنسی تعلق قائم کرتا ہے۔لیکن اس میں کوئی دخول نہ ہو یعنی بیوی اپنی شرمگاہ کو شوہر کے کولہوں سے رگڑے، دباؤ ڈالے یا آگے پیچھے حرکت کرے تاکہ جنسی لذت حاصل ہو تو کیا ایسا عمل شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں کوئی شرعی خرابی نہیں ہے۔
حوالہ جات
(سورة البقرة 2:223)
نساءكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم.
الموسوعة الفقهية الكويتية (32/ 90):
اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته. قال ابن عابدين: سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا، وأرجو أن يعظم الأجر .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 293):
إذا وضعت فرجها على يده فهذا كما ترى تحقيق لكلام البحر لا اعتراض عليه فافهم، وهو تحقيق وجيه؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره... إلخ
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/شوال المکرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


