03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالت ، پنچائیت یا تحکیم کے ذریعہ فسخ نکاح کا حکم
90113طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

موجودہ دور میں عائلی نزاعات کی کثرت اور فیملی کو رٹس میں مقدمات کے طویل التواء کے باعث بالخصوص مسلم   خواتین شدید دینی معاشرتی اور عملی  مشکلات سےدوچارہیں۔ پاکستان میں رائج مسلم عائلی قوانین کے تحت مصالحتی کو نسل کو (4)7 section   کے تحت صرف صلح کرانے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ شدید شقاق اور دائمی نزاع کی صورت میں تفرق کا اختیار نہیں، جسکے نتیجے میں اکثر خواتین کو طویل عدالتی مراحل سےگزرنا پڑتا ہے۔

 اہل علم کے علم میں ہے کہ برصغیر کے اکابر علماء بالخصوص حضرت مولانا اشرف علی تھانوی( رحمہ اللہ) اور دیگر اکابر احناف نے ضرورت شدیدہ کے پیش نظر بعض عائلی مسائل میں فقہ مالکی سے استفادہ فرمایا جس کی منظم صورت الحیلۃالناجزۃ کی تدوین کی شکل میں سامنے آئی، اور بعد ازاں اس بنیادپر Dissolution of Muslim Marriages Act 1939وجود میں آیا جس سے حنفی خواتین کے لیے فسخ نکاح کی متعدد صور تیں شرعا و قانونا تسلیم کی گئیں۔

 قرآن کریم نے میاں بیوی کے نزاع کی صورت میں حکمین مقرر کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

{وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا } [النساء: 35]

فقہ مالکی کے مطابق حکمین محض وکیل نہیں، بلکہ حاکم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اگروہ تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ زوجین کے درمیان نباہ ممکن نہیں تووہ  شوہر کی اجازت کے بغیر بھی تفریق یا فسخ نکاح کا فیصلہ کرسکتے ہیں، جیساکہ متعدد مالکی ائمہ ( مثلا اما م مالک، امام قرطبی، امام دردیر وغیرہم) کی تصریحات سے واضح ہے۔ بعض معاصر فقہاء بھی اس قول کو حالات حاضرہ میں قابل عمل قرار دیتے ہیں۔

اس پس منظر میں از راہ کرم درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

کیا موجود ہ حالات میں، ضرورت شدیدہ کے پیش نظر، فقہ  مالکی کے مذکورہ قول سے استفادہ کر سکتے ہیں؟ یا ایسانظم قائم کرنے کی شرعی گنجائش ہے کہ مصالحتی کونسل کو (حکمین کی حیثیت سے ) شوہر کی اجازت کے بغیر تفریق یا فسخ نکاح کا اختیار دیا جا سکے ؟

اگر کوئی مصالحتی کو نسل فقہ مالکی کے اصولوں کے مطابق، عادل حکمین کے ذریعے تفریق کا فیصلہ کرے، تو کیا شرعا اس فیصلے کو فسخ نکاح  اورمعتبر سمجھا جائے گا؟ کیا شرعی اعتبار سے اس بات کی گنجائش ہے کہ پاکستانی عائلی قانون میں ترمیم کی جائے جس سے مصالحتی کو نسل کو صلح کے ساتھ ساتھ تفریق کا اختیار بھی دیا جائے۔

                       جس طرح حضرت مولا ناا شرف علی تھانوی ( رحمہ اللہ  تعالی )نے اس نوع کے مسائل میں فقہ مالکی سے استفادہ کے لیے اہل مدینہ سے رجوع فرمایا تھا، کیا آج کے دور میں بھی اجتماعی  طور پر معاصر مالکی فقہاء کی آراء سے استفادہ کرکے اس مسئلے پر کوئی قابل عمل فقہی  موقف مرتب کیا جا سکتا ہے ؟

سائل  کی نیت کسی فقہی مسلک پر اصرار نہیں، بلکہ اکابرین امت کی رہنمائی میں شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے مظلوم خواتین کی عملی مشکلات کا حل تلاش کرنا ہے۔

از را ہ کرم قرآن وسنت، فقہ اسلامی اور اکابر امت کے ارشادات کی روشنی میں رہنمائی فرمادی جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ازداجی رشتہ ختم کرنے کا اصولی اور  شرعی  طریقہ کا  ر(طلاق یا خلع) :

شریعت نے طلاق کا معاملہ شوہر کے ہاتھ میں رکھا ہےاور جائز کاموں میں سے طلاق کو سب سے ناپسندیدہ فعل قرار دیا ہے، اس لیے اگر میاں بیوی کے درمیان واقعتاً نباہ نہ ہوتا ہو اور علیحدگی کے بغیر کوئی چارہٴ کار نہ ہو  تو اولا عورت کو چاہیے کہ  پہلے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اگر شوہر طلاق دینے پر رضامند نہ ہو تو اس کو مہر معاف کر کے خلع  دینےپر راضی کرے اور اگر شوہر خلع پر بھی رضامند نہ ہو اور عورت کے لیے اس کے ساتھ رہنا انتہائی حرج اور تکلیف کا باعث ہو یعنی  عورت  یا بچوں کے جان یا دین کو واضح خطرہ   پایا جائے یا ازدواجی حقوق واضح طور پر متاثر ہوں یا خانگی امور میں واضح  خلل واقع ہورہا ہو،مثلا ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوجائے اور ان جملہ صورتوں میں  جانبین کے طرف سے خاندانی طور پر  حکمین کے ذریعہ اصلاح کی متعدد ( کم از کم تین)  کوششیں بھی ناکام رہی ہوں تو ایسی مجبوری کی صورت میں عورت عدالت سے رجوع کرکے اپنا نکاح فسخ کروا  سکتی ہے۔

مجبوری کی وہ صورتیں جن میں شریعت نے عورت کو نکاح فسخ کرانے کے سلسلہ میں عدالت کی طرف رجوع کی اجازت دی ہے وہ  متعدد امور ہیں ،لہذا فسخ کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں کسی مستند دارالافتاء سےتفصیل معلوم کر کے اس کے مطابق فسخ نکاحِ کروایا جا سکتا ہے۔

فسخ نکاح کی ممکنہ تین  صورتیں ہیں:

 ۱۔بذریعہ عدالت( براہ راست عدالت سے)

۲۔ بذریعہ جماعۃ المسلمین

۳۔ بذریعہ  تحکیم

عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کروانے کا  حکم اورطریقہ:

عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کروانے کے طریقےسے پہلے بطورِ تمہید دو باتیں جاننا ضروری ہیں:

پہلی بات: بغیر کسی عذر اورمجبوری کے شوہر سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں عورت کو کسی طرح بھی فسخِ نکاح کا حق حاصل نہیں ہے، نہ کوئی عدالت عورت کو فسخِ نکاح کی ڈگری دینے کی شرعا مجاز ہے، اگر کوئی عدالت اس صورت میں بلا وجہ فسخ کی ڈگری جاری کر دے تو شرعا اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی، البتہ اگر شوہر کی طرف سے ظلم اور زیادتی ہو اور میاں بیوی کے درمیان نباہ مشکل ہو اور شوہرطلاق اور خلع دینے پر بھی رضامند نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت شرعی طریقہٴ کار کے مطابق عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔

دوسری بات: عدالت کا محض مدعی کے دعوی کے مطابق فیصلہ جاری کرنا دنیا کے کسی نظام میں معقول نہیں ہے اور شریعت میں بھی اس کا تصور نہیں ہے، لہذا کسی بھی دعوی کے ثبوت کے لیے معتبر دلائل ہونا ضروری ہیں اورمالیاتی حقوق کی طرح نکاح بھی ایک لازمی حق ہے، اس لیے نکاح کے دعوی میں بھی عدالت کو وہ تمام قرائن اور ثبوت پیشِ نظر رکھنا ضروری ہیں جو کسی مالیاتی مقدمے میں لازمی سمجھے جاتے ہیں، اگر عدالت حقوق کے فیصلوں سے متعلق شرعی قانون شہادت وغیرہ کی پیروی نہیں کرے گی تو اس کا فیصلہ کالعدم تصور ہو گا۔

اس تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ ضرورت اور مجبوری کی صورت میں جب شوہر خلع یا طلاق نہ دے رہا ہو تو عورت درج ذیل شرائط کے ساتھ عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے:

1-فسخِ نکاح کی شرعی وجہ موجود ہو، جیسےشوہر کا  مفقود یعنی گم ہو جانا،حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنا،   نان ونفقہ نہ دینا یا ظلم وتشدّد کرنا وغیرہ،  یعنی کوئی معتبر شرعی سبب فسخ نکاح موجود ہو۔

2-عورت یا اس کا وکیل دعوی دائر کرتے وقت دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں (یہ گواہ عورت کے اصول یعنی آباؤ اجداد اور فروع یعنی اولاد وغیرہ میں سے نہیں ہونے چاہئیں) کی گواہی کے ذریعہ اپنے دعوی یعنی فسخِ نکاح کی شرعی وجہ کو عدالت میں ثابت کرے اور بہتر یہ ہے کہ عدالت کے طریقہٴ کار کو پورا کرتے ہوئے اپنا حلفیہ بیان(Affidavit) بھی عدالت میں جمع کروائے، تاکہ اگر کسی وجہ سے کوئی ایک گواہ موقع پر نہ مل سکے تو بقیہ ایک گواہ اور مدعیہ کےحلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست اور نافذ ہو جائے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک دد گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ  ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی  حلفیہ بیان کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ  بھی درست ہوتا ہے۔

3-اگر فسخِ نکاح کی وجہ  مثلاظلم وتشددیا نان ونفقہ نہ دینے وغیرہ پر موقع کے گواہ موجود نہ ہوں یا گواہ تو موجود ہوں، مگر وہ عدالت میں گواہی دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو ایسی صورت میں شہرت حقیقيہ (حقیقیہ کا مطلب یہ ہے کہ کثیر تعداد میں لوگوں کے درمیان وہ وجہ مشہور ہو) یا شہرتِ حکمیہ (حکمیہ کا مطلب یہ ہے کہ گواہی دینے والے شخص نے کم از کم دو آدمیوں سے سنا ہو کہ فلاں شخص واقعتاً اپنی بیوی کے ساتھ ظلم وزیادتی وغیرہ کرتا ہے) کی بنیاد پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ گواہی تو کسی چیز کے ثبوت کے لیے ہوتی ہے ایسی صورت میں نان ونفقہ کی نفی یعنی  نہ دینے پر کیسے گواہی قائم  کی جا سکتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ کہ بعض صورتوں میں نفی پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے،چنانچہ علامہ طرابلسی رحمہ اللہ نے معین الحکام  اورعلامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ نے معین القضاة میں  نفی پر گواہی کی تین صورتیں ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے ایک امرِ منفی ( جس کی نفی کی گئی ہو، جیسے مفلس کے پاس مال نہ  ہونا وغیرہ) کا ظنِ غالب سے معلوم ہونا بھی ہے۔

نوٹ:یادرہے کہ ہماری عدالتوں میں  عام طور پر خلع کے فیصلوں میں گواہی طلب نہیں  کی جاتی، بلکہ محض عورت کے مطالبہ پر ڈگری جاری کر دی جاتی ہے، ایسی صورتِ حال میں درخواست دہندہ کو چاہیے کہ دعوی پیش کرتے وقت اسٹامپ پیپر پر دو گواہوں کا تحریری بیان بھی دستخطوں کے ساتھ پیش کر دے یا جج کے سامنے حاضری کے وقت اپنے ساتھ گواہ لے جائے اور عدالت کی طرف سے گواہی کے مطالبہ کا انتظار کیے بغیر خود ہی جج سےیہ کہہ دےکہ میرے پاس اس دعوی پر یہ گواہ موجود ہیں، ان کا بیان بھی لےلیا جائے، پھر جج اگر کسی ایک گواہ سے بھی دعوی کی تصدیق کروا لے تو ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی حلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست ہو جائے گا، کیونکہ پاکستان میں مسلمان قاضی  کا فیصلہ مذاہبِ اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق ہو تو وہ شرعاً نافذ ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ  پہلے سے موجودکسی خاص قانونی اختیاراتی  حدود کے خلاف نہ ہو۔

جماعت المسلمین کے ذریعہ نکاح ختم کروانے کا  حکم اورطریقہ:

اگر کسی وجہ سے عدالتی فیصلہ تک رسائی ممکن نہ ہو مثلا غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں کے  معاملات یا عدالت کا فیصلہ کسی شرعی پابندی کی واضح خلاف ورزی کے باعث شرعا معتبر نہ ہو، مثلا  مسلم ممالک  میں عدالت نے بغیر شرعی ثبوت کے فیصلہ کیا ہو اور کسی دوسری عدالت میں بھی عورت کے لیے دعوی دائر کرنا مشکل ہو، جیسا کہ آج کل عدالتوں کا طریقہٴ کار ہے کہ اگرکسی فریق کے حق میں عدالت فیصلہ کر دے تو وہ اوپر عدالت میں بھی نظرثانی کی اپیل نہیں کر سکتا، کیونکہ نظرثانی کی درخواست تب دائر کی جا سکتی ہے جب فیصلہ درخواست گزار کے خلاف ہو،اسی طرح کسی اور ضلع کی عدالت میں بھی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ہر عدالت کا فیصلہ کرنے کا علاقہ محدود ہوتا ہے، اس لیے ایک ضلع کا کیس دوسرے ضلع کی عدالت قبول نہیں کرتی۔ ایسی صورت میں شرعی اعتبار سے جماعت المسلمین کے ذریعہ نکاح ختم کروایا جا سکتا ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ   ایسی متاثرہ   خاتون   اپنےعلاقے کے چار پانچ  نیک اور صالح آدمیوں (یہ مسئلہ چونکہ مالکی مسلک سے لیا گیا ہے،لہذا مالکی مسلک پر عمل کرتے ہوئے اس جماعت کے تمام اراکین کا صالح ہونا ضروری ہے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک  شرعی فیصلہ کے لیے قاضی کا صالح ہونا شرط ہے، لہذا فاسق جیسے ڈاڑھی منڈوانے والا اور دیگر کبائر کا مرتکب شخص اس جماعت کا رکن نہیں بن سکتا  (کذا فی الحیلة الناجزة:صفحہ:39) کو فیصلہ کے لیے نامزد کرلیا جائے، جن میں کم از کم ایک یا دو آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، خاتون ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرے اور فیصلے کی مجلس میں گواہوں کے ذریعہ فسخِ نكاح كی وجہ کو  ثابت کردے ، يہ حضرات دعوی سننے کے بعد شوہر کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کا نوٹس بھیجیں، اگر وہ نوٹس کا علم ہونے کے باوجودحاضر نہ ہو تو یہ چار یا پانچ رکنی جماعت   گواہوں سے ثابت شدہ فسخِ نکاح کی وجہ کو بنیاد پر اتفاقِ رائے سے مالکیہ کے مسلک کے مطابق عورت پرایک طلاقِ بائن واقع کردیں، نیز اس فیصلہ کے لیے جماعت کے تمام اراکین کا اتفاق ضروری ہے،مالکیہ کے نزدیک کثرتِ رائے سے کیا گیا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا،اس کے بعد اِس فیصلہ کی تاریخ سے عورت  کی عدت شروع ہو  جائے گی، عدت مکمل ہونے پر عورت شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 198) دار الفكر للطباعة ، بيروت:

"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل".

الحيلة  الناجزة للحليلة العاجزة:(ص:190):

أن المتعنّت إذا رجع يحتمل إلحاقه بالمعسر وهو الأقرب فله إجزاء فی العدة، لا بعدها ويحتمل أن الطلاق عليه بائن وعليه فلا رجعة له حيث لا نص صريح فی المسئلة كما تقدم والله سبحانه وتعالى أعلم 

المغني لابن قدامة(9/ 244) دار الفكر ، بيروت:

وجملته أن الرجل إذا منع امرأته النفقة لعسرته وعدم ما ينفقه فالمرأة مخيرة بين الصبر عليه وبين فراقه وروي ذلك عن عمر وعلي وأبي هريرة وبه قال سعيد بن المسيب و الحسن وعمر بن عبد العزيز و حماد و مالك و يحيى القطان و عبد الرحمن بن مهدي و الشافعي و إسحاق و أبو عبيد و أبو ثور وذهب عطاء و الزهري و ابن شبرمة و أبو حنيفة وصاحباه إلى أنها لا تملك فراقه بذلك.

الذخيرة (11/ 21) دار الغرب،بيروت:

قاعدة شاع بين الفقهاء أن الشهادة على النفي غير مقبولة وفيه تفصيل مجمع عليه وهو أن النفي المحصور تقبل الشهادة فيه كالشهادة على هذا البيت ليس قبلي فإنه معلوم النفي بالضرورة وكذلك غير المحصور إذا علم بالضرورة أو النظر كالشهادة على نفي الشريك لله تعالى ونفي زوجية الخمسة فهذه ثلاثة أقسام تقبل الشهادة فيها على النفي إجماعاً۔( ماخوذ از تبویب : فتوی نمبر:89190/65)

 بذریعہ تحکیم  فسخ نکاح  وغیرہ کا حکم اور طریقہ :

اب تک کی  سابق  گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ  ازدواجی رشتہ  ختم کرنے کااصل طریقہ کار شرعی  طلاق یا  جانبین کی رضامندی  سے شرعی خلع ہے، ورنہ ضرورت  ( فسخ نکاح کے شرعا معتبراسباب  پائے جانے) کے وقت  اورمجبوری ( شوہر کی عدم موجودگی یا عدم  آمادگی  ) کی صورت  میں عدالت کے ذریعہ فسخ نکاح بھی جائز ہے اور جہاں یہ بھی ممکن یا شرعا معتبر نہ ہو تو جماعت المسلمین کے ذریعہ بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔لیکن فقہ مالکی  کے مطابق نکاح ختم کرنے کا ایک طریقہ  اور بھی ہے جس کو تحکیم  کہا جاتا ہے۔جیساکہ استفتاء میں اس کو ذکر کیا گیا ہے یعنی کسی  کو اپنے بارے میں  فیصلہ کا اختیار دے دینا۔

تحکیم کے ذریعہ فسخ نکاح یا خلع یا طلاق کی  مختلف صورتیں ہیں یہاں ان کو مختصرا لکھا جاتا ہے اور اس کے بعد استفتاء میں پوچھی گئی   صورت کے بارے میں لکھا جائے گا۔

1-تحکیم کی  پہلی اور متفق علیہ صورت یہ ہے کہ زوجین عدالت کو یا  دو یا دو سے زائد افراد کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دے دیں تو ایسی صورت میں    تفویض طلاق اور زوجین کی رضامندی کی وجہ سے حکمین کا خلع کا فیصلہ یا طلاق بلا  عوض کا فیصلہ ہر ایک درست اور معتبر ہوگا۔   

2- تحکیم کی دوسری صورت یہ ہے کہ زوجین کا معاملہ عدالت میں ہو، البتہ عدالت اس بارے میں از خود تحکیم کی صورت اختیار  کرے یعنی   دو آدمی  فیصلے کے لیے مقرر کرےیا صرف  عورت کے کہنے اور مطالبہ پر تحکیم کرائے تو ایسی صورت میں  فقہاء کے درمیان حکمین کے خلع یا تفریق بلا عوض کے فیصلہ کے معتبر ہونے میں اختلاف ہے ،جمہور ائمہ کے نزدیک علی الراجح شوہر کی رضامندی شامل نہ ہونے کی وجہ سےایسا فیصلہ شرعا معتبر نہیں ،جبکہ مالکیہ کے مشہور اور راجح قول کے مطابق بطور فسخ نکاح کے معتبر ہے۔البتہ فیصلہ حکمین کریں گے اور تنفیذ صرف قاضی کرے گا اور اس فیصلہ کی تنفیذ میں قاضی مجبور ہوگا۔( موسوعہ کویتیہ)

3- تیسری صورت یہ ہے کہ زوجین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر دونوں یا دونوں میں سے کسی ایک کے خاندان  والوں کے مطالبہ پر عدالت  تحکیم کرائے تو اس  بارے میں مالکیہ کا مذہب  متردد  ہے۔(موسوعہ کویتیہ)

بہرحال  تحکیم کے بارے میں مذہب مالکی کی مذکورہ دوسری اور تیسری صورتیں جمہور ائمہ کے مذاہب کے خلاف ومرجوح ہیں ،لہذا ان کے مطابق فتوی یا    عدالتی خلع یا فسخ نکاح یا طلاق بلا عوض کا فیصلہ   شرعا معتبر نہیں۔( اس بارے میں فقہ مالکی  اور اس کی  شرائط کی مزید تفصیل کے لیے احسن الفتاوی: ج۵،ص ۳۹۲ ، تا ص۴۰۳ اور موسوعہ     کویتیہ: ج۲۹، ص۵۲ تا ص :۵۷ مادہ   التفریق للشقاق کے تحت ملاحظہ ہو۔)

عدالتی تحکیم  یا اس بارے میں  قانون سازی کا حکم اور  ترجیح الراجح  :

بوقت ضرورت   ومجبوری مذہب مالکی    کے مطابق فسخ نکاح  وغیرہ کی مذکورہ  تین صورتوں میں سے پہلی دو صورتوں( عدالت اور جماعۃ المسلمین کے ذریعہ فسخ نکاح) کے  جواز  کا فتوی  حیلہ ناجزہ میں موجود ہے، اور اس بارے میں پہلے سے قانونی دائزہ اختیار بھی موجود ہے، البتہ آخری صورت( تحکیم کے ذریعہ فسخ نکاح) چونکہ(۱) جمہور ائمہ کے نزدیک   دلائل کے لحاظ سے نہایت  کمزور ہے، اور(۲)پہلی دو  صورتوں  پر فتوی   کی وجہ سے فسخ نکاح پر  عمل ممکن ہونے کے باعث   اس کی ضرورت بھی نہیں اور(۳)نیز اس آخری صورت  کے مطلقا جواز  کے فتوی یا مستقل قانون سازی  سے  خیر واصلاح  کے بجائے فتنہ اور  خاندانی نظام  کی تباہی کا اندیشہ بھی غالب ہے، لہذا ان تین امور کے باعث اس بارے میں مذہب مالکی پر فتوی دینا درست نہیں،معہذا اگر بوقت ضرورت   عدالت تحکیم کے ذریعہ یہ کام کرتی ہے تو مالکی جج  یہ کام کرسکتا ہے، غیر مالکی جج کا ایسا فیصلہ درست نہیں اور نہ ہی فسخ کا فیصلہ معتبر ہوگا، البتہ اگر حکومت متدین ومستند اہل فتوی علماء  کے مشورے سے مصلحت عامۃ المسلمین کے تحت اس  کی محدود اجازت یا اس کے مطابق قانون سازی کرلے تو اس کے بعد کسی بھی جج کا ایسا فیصلہ معتبر ہوگا، لیکن حکومت کا ایسےعلماء کو اعتماد میں لیے بغیر ایسا کوئی بھی اقدام خلاف مصلحت رعیت ہونے کی بناء  غیر شرعی  اور غیر واجب القبول ہوگا۔لان طاعۃ الامام  منوط بالمصلحۃ   ،البتہ قانون سازی ہوجانے کے بعد اس کے مطابق  بوقت  ضرورت  متعلقہ  شرائط کی رعایت  کے ساتھ کیا گیا فیصلہ شرعا معتبر قرار دیا ئے گا۔

واضح رہے کہ   عدالتی تحکیم  کے بارے میں اگرچہ حکومت   اہل فتوی علماء کی مشاورت  سےباقاعدہ قانون سازی بھی کرسکتی ہے ،جیساکہ تفصیل سے  بیان ہوچکا،لیکن  محض قانون سازی کافی نہیں ، بلکہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس سے کہیں گنا زیادہ قانون کے اجراء اور تنفیذ میں قانون کی بالا دستی اور  پاسداری کی ضمانت بھی اشد ضروری ہے ورنہ ایسی قانون سازیاں معاشرے میں امن اور سکون اور اخلاقی  تعمیر کے بجائے   بد امنی، بے سکونی،  اخلاقی بگاڑ اور معاشرتی  و خانگی مسائل  میں اضافےکی باعث بنتی  ہیں۔

موجودہ عدالتی نظام میں فسخ نکاح کی ممکنہ صورت:

ہمارے خیال میں  کسی نئی قانون سازی کے بجائے موجودہ عدالتی نظام میں بھی   اس مشکل کا  قابل    عمل حل اور  طریقہ   ممکن ہے جیساکہ  عدالت کے ذریعہ فسخ نکاح کے عنوان کے تحت تفصیل سے گزرچکا کہ جب بھی کوئی ایساکیس (عورت کی طرف سے یک طرفہ دائر کردہ  ) عدالت میں  سامنے آجائے تو عدالت یا خود   درخواست گزار ماہر ومستند اہل فتوی  سے اس  کاحکم    معلوم کرے، پھراگر کوئی ایسی بنیادی وجہ سامنے آئے جو فسخ نکاح کی کوئی معتبر وجہ بنتی ہو  اور   عدالت از خود  معاملہ کی تحقیق مکمل کرکے     صلح کی  کوشش  بھی کرے اور ایسی  کوشش  بھی    کامیاب یا مفید نہ ہو سکے تو ایسے میں عدالت بجائے خلع اور طلاق کے  فسخ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۲ ذیقعدہ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب