| 90105 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
مجھے ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ چند مہینے پہلے میرے ہاتھ ناپاک پانی سے لگ گئے تھے، جس کی وجہ سے میرے ہاتھ ناپاک ہو گئے تھے۔ بعد میں ہاتھ خشک ہو گئے تھے لیکن وہ بدستور ناپاک تھے۔ اس کے بعد میں نے چھت پر موجود پانی کی ٹینکی کا ڈھکن کھولا۔ ڈھکن کے اندرونی حصے پر کنڈینسیشن (نمی) کی وجہ سے پانی لگا ہوا تھا۔ جب میں نے اس اندرونی حصے کو ہاتھ لگایا تو وہ نمی میرے ناپاک ہاتھوں کو لگ گئی اور میرا خیال ہے کہ ڈھکن ناپاک ہو گیا۔ جب میں نے ڈھکن بند کیا تو ڈھکن کا اندرونی حصہ پہلے سے ہی نمی کی وجہ سے گیلا تھا، اس لیے مجھے یہ لگتا ہے کہ شاید ناپاکی پورے اندرونی حصے میں پھیل گئی ہو۔ چونکہ یہ واقعہ کئی مہینے پہلے ہوا تھا، اس لیے یہ بھی خیال آتا ہے کہ نمی کے قطرے بعد میں ڈھکن سے ٹپک کر ٹینکی کے پانی میں گر گئے ہوں اور اس طرح پوری ٹینکی کا پانی ناپاک ہو گیا ہو۔ اس صورت میں ڈھکن کا ناپاک ہونا تو یقینی ہے، البتہ ٹینکی کا پانی ناپاک شمار ہوگا یا نہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر ڈھکن سے ٹنکی میں پانی ٹپکنے کا محض شک ہو تو ٹنکی کا پانی پاک ہی سمجھا جائے گا۔ آپ کے سوال کے الفاظ سے بظاہر یہی صورت متعین ہے، لہٰذا ناپاکی کا وہم کرنے کی ضرورت نہیں۔البتہ اگر غالب گمان ہو کہ ڈھکن سے پانی ٹنکی میں گرا ہے تو اس صورت میں ٹنکی کا پانی ناپاک قرار پائے گا۔ چنانچہ جب موٹر چلائی جائے اور اس دوران نلکوں سے پانی استعمال ہو یا پانی اوورفلو ہو جائے تو پانی جاری ہونے کی وجہ سے پاک ہو جائے گا۔لہٰذا اگر اس گھر میں روزانہ موٹر چلتی ہے تو صرف ایک دن کی نمازوں کا اعادہ کافی ہوگا۔
البتہ اگر ڈھکن میں موجود پانی بہت کم ہو اور غالب گمان یہ ہو کہ اس کے ٹنکی میں ٹپکنے کا امکان نہیں، یا دھوپ کی وجہ سے اس کے خشک ہو جانے کا امکان ہو، تو چونکہ پانی کا ٹنکی میں گرنا یقینی نہیں، اس لیے ٹنکی کے پانی کو پاک ہی سمجھا جائے گا۔
حوالہ جات
مختصر القدوري (ص: 21)
وتطهير النجاسة التي يجب غسلها على وجهين: فما كان له منها مرئية زوال عينها إلا أن يبقى من أثرها ما يشق إزالته وما ليس له مرئية فطهارتها أن يغسل حتى يغلب على ظن الغاسل أنه قد طهر.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 21)
وكل ماء وقعت فيها لنجاسة لم يجز الوضوء به قليلا كانت النجاسة أو كثيرا.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (1/ 193)
اليقين لا يزول بالشك.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (1/ 193)
فإن ترجح أحدهما ولم يطرح الآخر فهو ظن، فإن طرحه فهو غالب الظن، وهو بمنزلة اليقين.
امداداللہ الفینوی
تخصص فی الافتاء
02/ذی قعدہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


