| 90101 | خرید و فروخت کے احکام | خیار نقد )یعنی میں نے فلاں وقت تک معاوضہ اداء کردیا تو عقد نافذ ہوگا، ورنہ نہیں(کا بیان |
سوال
احقر نے اپنے ہمسائے تنو یر اور شاہد گوراھا سے ان کی زمین خریدنے کیلئے زبانی بات کی اور ایک لاکھ بیس ہزار روپے بیعانہ دیا، مگر کچھ ان کے پیچھے ہٹنے اور کچھ میرے مطمئن نہ ہونے سے وہ سودا نہ ہو سکا ،مگر اب وہ میری رقم واپس نہیں کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیعانہ والی رقم ضبط تصور ہوتی ہے ۔ کیا وہ رقم ان کیلئے جائز اور حلال ہے ؟یا وہ یہ رقم مجھے دینے کے پابند ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیعانہ اس رقم کو کہتے ہیں جو خرید و فروخت کے معاملے کی ابتدا میں دی جاتی ہے، خواہ معاملہ ہونے کے بعد قیمت کا حصہ ہونے کے طور پر یا معاملہ فائنل ہونے سے پہلے ایک وعدہ اور ضمانت کے طور پر ، بہر حال معاملہ منسوخ ہونے کی صورت میں بیعانہ کو ضبط کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں، بلکہ مشتری کو واپس لوٹانا ضروری ہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہےکہ تاجروں کے ہاں بیعانہ کی تین صورتیں رائج ہیں،لہذا ذیل میں ہر صورت کے ساتھ تفصیلی حکم لکھا جاتا ہے۔
پہلی صورت :کبھی ایک شخص دوسرے شخص سے وعدہ کرتا ہے کہ میں فلاں چیز آپ سے خریدوں گا، اس وعدہ کے بعد اور بیع سے پہلے وہ اسے پیشگی کچھ رقم دیتا ہے۔ اس صورت میں بیعانہ کی رقم، لینے والے کے پاس بطورِ امانت ہوتی ہے، البتہ اگر رقم دینے والا اسے استعمال کی اجازت بھی دیدے تو پھر وہ رقم قرض بن جائے گی۔ اس صورت میں وعدہ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور بلا عذرِ معتبر بیع سے پیچھے نہ ہٹے، لہٰذا اگر وعدہ کے مطابق بیع ہوجائےتو بیعانہ قیمت کا حصہ بن جائے گا، لیکن اگر کسی وجہ سے خرید و فروخت کا معاملہ نہ ہو سکےتو بیعانہ واپس کرنا لازم ہوگا، بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جائز نہیں ۔
دوسری صورت :کبھی مکمل ہوجانےکےبعد مشتری (خریدار)، بائع (فروخت کنندہ ) کو قیمت کا کچھ حصہ ابتدا ہی میں دیدیتا ہے۔ بیعانہ اس صورت میں قیمت کا حصہ ہوتا ہے،کیونکہ بیع ہوچکی ہے۔ اس صورت میں بیع مکمل ہوجانے کے بعد جانبین میں سے کوئی بھی اسے یک طرفہ طور پر فسخ نہیں کرسکتا، اور خریدار کے ذمے بقیہ قیمت کی بر وقت ادائیگی لازم ہوتی ہے۔ اگر وہ ادائیگی میں ٹال مٹول کرے تو فروخت کنندہ اسے ہر جائز طریقے سے قیمت کی ادائیگی پر مجبور کرسکتا ہے اور اس سے اپنا حق وصول کرسکتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ ختم کرنے کی نوبت آئے تو پھر بائع (فروخت کنندہ) کے ذمے بیعانہ مشتری (خریدار) کو واپس کرنا لازم ہوگا، بائع کے لیے بیعانہ ضبط کرنا جائز نہیں۔
تیسری صورت :بعض صورتوں میں بیع ہوجاتی ہے اور مشتری خریدار کو کچھ رقم بطورِ بیعانہ یہ کہہ کر دیدیتا ہے کہ اگر میں نے بقیہ رقم ادا کردی تو بیعانہ کی یہ رقم قیمت کا حصہ بن جائے گی اور اگر میں بقیہ قیمت ادا نہ کرسکا تو تو یہ پیسے آپ کے ہوجائیں گے۔ اس طرح بیع کرنا، اور بائع کا بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ کے نزدیک جائز نہیں، یہی حضراتِ احناف رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔
( منقول از تبویب: فتوی نمبر74952، فتوی نمبر62259لنک ایڈریس:
https://almuftionline.com/2021/12/23/6352/وhttps://almuftionline.com/2018/02/24/3435/
واضح رہے کہ بیعانہ سے متعلق اصل شرعی ضابطہ اور حکم تو یہی ہے کہ عموما بیعانہ کو مذکورہ تین صورتوں میں سے کسی بھی صورت میں ضبط کرنا جائز نہیں، البتہ اگر بیع یا بیع کا آرڈر ( وعدہ وغیرہ) منسوخ کرنے سے بائع کا کوئی حقیقی فعلی ضرر اور نقصان ہو تو بائع کے لیے صرف اس نقصان کی بقدر رقم بیعانہ سے منہا کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
حوالہ جات
فقه المعاملات (2/ 76):
لكن يحق للبنك عند الدخول في مواعدة مع العميل على شراء البضاعة التي سيتملكها البنك , أن يأخذ عربونا لضمان الجدية وتنفيذ التزام الواعد تجاه البنك .
وقد أقر ذلك مؤتمر المصرف الإسلامي الثاني / الكويت 1983م التوصية رقم 9 ونصها :
" يرى المؤتمر أن أخذ العربون في عمليات المرابحة وغيرها جائز بشرط أن لا يستقطع من العربون المقدم إلا بمقدار الضرر الفعلي المتحقق عليه من جراء النكول " .
هذا , وإذا كان التأمين في صورة وديعة فإن ربحها يكون لصالح العميل لأن المبلغ ( قبل استحقاق البنك له بالنكول ) يعتبر ملكه للعميل فربحه له .
مجمع الفقه الإسلامي (5/ 1037):
المبحث الرابع: العربون :
عادة ما يقوم الآمر بالشراء بدفع عربون للسلعة الراغب في شرائها للبنك وقد أقر مؤتمر المصرف الإسلامي الثاني المنعقد بالكويت في مارس 1983 أخذ العربون في عمليات المرابحة وغيرها جائز ، بشرط أن لا يحق للمصرف أن يستقطع من العربون المقدم إلا بمقدار الضرر الفعلي المتحقق عليه من جراء النكول.
وقد نصت بعض البنوك الإسلامية في طلب الوعد بالشراء على التزام المشتري بدفع نسبة من قيمة البضاعة عند التوقيع على هذا الوعد كعربون لضمان الجدية وتنفيذ التزاماته قبل الطرف الأول والقيام بتسديد باقي القيمة للطرف الأول كما ورد نص آخر على دفع هذه النسبة كتأمين لضمان الجدية وتنفيذ التزامات الأمر بالشراء قبل البنك والقيام بتسديد باقي القيمة البيعية للطرف الأول.
ويلاحظ أن أيًّا من هذه البنوك لم تنص على مصير هذا العربون في حالة عدم إتمام التعاقد.
الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 95):
إن دفع المشتري إلى البائع درهما ، وقال : لا تبع هذه السلعة لغيري ، وإن لم أشترها منك فهذا الدرهم لك :
أ- فإن اشتراها بعد ذلك بعقد مبتدأ ، واحتسب الدرهم من الثمن صح ؛ لأن البيع خلا عن الشرط المفسد . ….. الخ
ب - وإن لم يشتر السلعة، لم يستحق البائع الدرهم ، لأنه يأخذه بغير عوض ، ولصاحبه الرجوع فيه . ولا يصح جعله عوضا عن انتظاره ، وتأخر بيعه من أجله ، لأنه لو كان عوضا عن ذلك ، لما جاز جعله من الثمن في حال الشراء ، ولأن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه ، ولو جازت لوجب أن يكون معلوم المقدار ، كما في الإجارة.
الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 93):
بيع العربون.... أن يشتري السلعة ، ويدفع إلى البائع درهما أو أكثر ، على أنه إن أخذ السلعة،احتسب به من الثمن ، وإن لم يأخذها فهو للبائع. والفقهاء مختلفون في حكم هذا البيع :
( أ ) فجمهورهم ، من الحنفية والمالكية والشافعية ، وأبو الخطاب من الحنابلة ، يرون أنه لا يصح ، وهو المروي عن ابن عباس رضي الله عنهما والحسن كما يقول ابن قدامة ، وذلك : للنهي
عنه في حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده ، قال : نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان؛ ولأنه من أكل أموال الناس بالباطل ، وفيه غرر، ولأن فيه شرطين مفسدين : شرط الهبة للعربون ، وشرط رد المبيع بتقدير أن لا يرضى ، ولأنه شرط للبائع شيئا بغير عوض ، فلم يصح ، كما لو شرطه لأجنبي ، ولأنه بمنزلة الخيار المجهول ، فإنه اشترط أن له رد المبيع من غير ذكر مدة ، فلم يصح ، كما لو قال : ولي الخيار ، متى شئت رددت السلعة ، ومعها درهم .
( ب ) ومذهب الحنابلة جواز هذه الصورة من البيوع . وصرحوا بأن ما ذهب إليه الأئمة من عدم الجواز ، هو القياس ، لكن قالوا : وإنما صار أحمد فيه إلى ما روي عن نافع بن الحارث ، أنه اشترى لعمر دار السجن من صفوان بن أمية ، فإن رضي عمر ، وإلا فله كذا وكذا ، قال الأثرم : قلت لأحمد : تذهب إليه ؟ قال : أي شيء أقول ؟ هذا عمر رضي الله عنه . وضعف الحديث المروی عن عمرو بن شعيب في النهي عنه .
لكن قرر الشوكاني أرجحية مذهب الجمهور ؛ لأن حديث عمرو بن شعيب قد ورد من طرق يقوي بعضها بعضا ، ولأنه يتضمن الحظر ، و هو أرجح من الإباحة ، كما تقرر في الأصول .
فقه البیوع (1/113):
العربون و العربان بیع فسره ابن منظور بقوله: هو أن یشتری السلعة و یدفع إلی صاحبها شیئا علی أنه إن أمضی البیع حسب من الثمن، و إن لم یمض البیع کان لصاحب السلعة و لم یرتجعه المشتری. و هو مصدر لعقد مثل هذا البیع، و قد یطلق العربون علی المبلغ المدفوع إلی البائع تسمیة للمفعول باسم المصدر…………….. و اختلف الفقهاء فی جواز العربون، فقال الحنفیة و المالکیة و الشافعیة و أبو الخطاب من الحنابلة: إنه غیر جائز، و روی المنع عن ابن عباس رضی الله عنهما و الحسن البصری رحمه الله تعالی. و قال الإمام أحمد: إنه جائز، و روی الجواز عن عمر و ابن عمر رضی الله عنهما و جماعة من التابعین، منهم مجاهد و ابن سیرین و نافع بن عبد الحارث و زید بن أسلم رحمهم الله تعالی جمیعا.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۳ ذیقعدہ۱۴۴۷ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


