03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعہ کمائی کا حکم
90100اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

آج کل مختلف مسالک کے علمائے کرام   میں یوٹیوب پر مشہور ہونے اور پیسے کمانے کی دھن سوارہے، یوٹیوب پر وہ اپنی تقاریر، خطبات نعتوں  و غیره  کے کلپ بھیجتے ہیں اور کوششیں کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ  انہیں سبسکرائب کریں  اور ا ن کا واچ ٹائم بڑھے اور زیادہ  سے زیادہ  ، رقم یوٹیوب ادارہ انہیں دے اور یوں وہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔

معلوم کر نا ہے کہ یوں اپنی تصاویر، ویڈیوز کے ذریعے اس طریقے سے رقم کمانا حلال اور جائز ہے یا نہیں؟قرآن کریم ،حدیث شریف اور سلف صالحین کےمطابق شرعی جواب سے نواز یں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے یوٹیوب  کے ذریعہ   اشتہارات چلا کر کمائی حاصل کرنے کے بارے میں اصولی  بات لکھی جاتی ہے، اس کے بعد سؤال کا تفصیلی جواب لکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ یوٹیوب چینل پر  اشتہارات  لگانے کا عمل گوگل ایڈ سینس کے ذریعے ہوتا ہے۔ گوگل چینل مالک سے اس کے چینل پر جگہ اجارے پر لیتا ہے اور اس کی اجرت اسے ادا کرتا ہے۔ اس میں تین طرح کے اشتہارات ہوتے ہیں: تحریری، تصویری اور ویڈیو۔ ان کی کمائی کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

تحریری و تصویری اشتہارات:

تحریری و تصویری اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدن تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1.  جس کاروبار کا اشتہار ہے وہ کاروبار جائز ہو۔ لہذا ان کیٹگریز کو فلٹر کر دیا جائے جو شرعاً جائز نہیں ہیں۔

2.  گوگل ایڈسینس، یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔

3.  کسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں اگر گوگل کی طرف سے کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر وغیرہ شامل کر دی جائے اور اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے کے باوجود کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر) پر مشتمل ہو  تو اس کا گناہ چینل مالک کو نہیں ہوگا۔

 البتہ ایڈ ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔

ویڈیو اشتہارات:

جو اشتہارات ویڈیو کی شکل میں ہوں ان کی آمدن مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1. جس کاروبار کا اشتہار ہے وہ کاروبار جائز ہو۔ لہذا ان کیٹگریز کو فلٹر کر دیا جائے جو شرعاً جائز نہیں ہیں۔

2. گوگل ایڈسینس، یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔

3.  کسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں اگر گوگل کی طرف سے کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر وغیرہ شامل کر دی جائے اور اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے کے باوجود کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر) پر مشتمل ہو  تو اس کا گناہ چینل مالک کو نہیں ہوگا۔ البتہ ایڈ ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔

4. بیک گراؤنڈ میوزک تکنیکی لحاظ سے ویڈیو سے الگ چیز ہے جسے ویڈیو میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ چینل کا مالک گوگل ایڈسینس کو ویڈیو لگانے کے لیے اجارے کے طور پر جگہ دیتا ہے ، بیک گراؤنڈ میوزک لگانے کے لیےنہیں دیتا۔ لہذا اگر اشتہار کا مواد اور بنیادی کاروبار جائز ہو لیکن اس کے بیک گراؤنڈ میں میوزک ہو تو مالک پر لازم ہے کہ اولاً بذریعہ ای میل یا کسی اور طریقے سے صراحتاً گوگل کو میوزک  نہ لگانے کا کہے۔ اگر گوگل میوزک نہیں ہٹاتا  تو مالک اپنے چینل اور ویڈیوز میں یہ تحریر کر دے کہ اشتہار کی آواز بند کر دی جائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص آواز بند نہیں کرتا تو اس کا گناہ مالک کو نہیں ہوگا اور اس کی آمدن جائز ہوگی۔

مذکورہ بالا   تفصیل   کی روشنی  میں  پوچھے گئے  سؤال کا جواب یہ ہے کہ:

1-اگر کوئی شخص کسی اسلامی چینل پر تمام شرائط کا لحاظ کرکے اپنا ذاتی تحریری تصویری، یا ویڈیو اشتہارات لگاتا ہے تو یہ جائز ہے اور اس کی آمدن بھی جائز ہے، لیکن چونکہ درمیان میں بعض اوقات ایسے اشتہارات آ جاتے ہیں جو نامحرم کی تصاویر اور میوزک وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور دینی گفتگو و تقاریر کے درمیان یہ چیزیں شروع  ہو جاتی ہیں اس لیے مناسب ہے کہ ان اشتہارات سے اجتناب کیا جائے جو ویڈیو کے درمیان میں آتے ہیں۔ گوگل مالک کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کس قسم کے اشتہارات اپنے چینل پر چلانا چاہتا ہے۔

2-   کسی دوسرےعالم یا نعت خواں وغیرہ کی ویڈیو (خصوصاً جب کہ ان کا اپنا یوٹیوب چینل ہو اور وہ کہیں اور ویڈیو پوسٹ کرنا مناسب نہ سمجھتے ہوں) ان کی اجازت کے بغیر اپنے چینل پر شئیر کرنا اور اسے کمائی کا ذریعہ بنانا ایک غیر اخلاقی اور نا مناسب فعل ہے۔ لہذا ایسے کسی کام سے پہلے اجازت لے لینی چاہیے۔

حوالہ جات

"وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط."(الفتاوی الھندیۃ، 4/450، ط: دار الفکر)

قال الحصكفيؒ: " (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي."

قال ابن عابدين ؒ: " (قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية۔۔۔."(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/392، ط: دار الفكر)

( ماخوذ  و منقول بتغییر یسیر از   تبویب فتوی نمبر :73970

لنگ ایڈریس یہ ہے: https://almuftionline.com/2021/08/29/5110/)

 نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳ ذیقعدہ۱۴۴۷   ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب