03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچی  کی والدہ کاانتقال ہوجائےتوپرورش کاحق شرعاکس کو ہے؟
90173طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

میری نواسی (جس کی عمر4سال ہے)کی سرپرستی سےمتعلق سوال ہے۔

میری بیٹی کاچند ماہ قبل کینسر کی وجہ سےانتقال ہوگیا،شادی کےبعد دیگرمسائل جن میں سردست لڑکی کی حیثیت اورشوہرکی کمائی کےمطابق بچی پر خرچ نہ کرنا شامل ہے،لڑکی کےمیکےوالوں نےاپنی بچی کوہمیشہ ہرمعاملےمیں تعاون کیا،بیماری کےدنوں میں بھی وہ کئی ماہ بچی سمیت اپنےوالدکےگھر رہی ،کیونکہ سسرال والوں نےصاف کہہ دیاتھاکہ کہ ہم خیال نہیں رکھ سکتے۔

نواسی اپنی پیدائش کےبعد سےزیادہ ترنانی کےپاس رہی ہے،ان سےبہت مانوس ہے،یہاں تک کہ ماں باپ کےساتھ بھی  گھرجانےپرراضی نہیں ہوتی  تھی۔

اب بیٹی کےانتقال پرپہلےبچی کےباپ نےکہاکہ یہ آپ کےپاس رہےگی،پھرچنددنوں کےبعد ہی سالی سےرشتےکاتقاضاکیااورانکار ہونےپر بچی کولےجانےکےلیےجھگڑاشروع کردیا،ایک مرتبہ لےبھی گیا۔

مہینےبعد نانی بچی کوواپس لےآئی،کیونکہ بچی  کاوالد بوڑھےدادادادی کےپاس بچی کو چھوڑ کر تبلیغی جماعت میں 40 دن کےلیےچلاگیا،بچی کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونےکی وجہ سےاس کی حالت بھی درست نہیں تھی۔

آپ برائےمہربانی اخلاقی وشرعی طورپر راہنمائی فرمائیں  کہ ہمیں کیاکرناچاہیے؟کیاباپ کےلیےجائز ہےکہ وہ بچی ذات کےہرکام خود کرے،کیونکہ ان کےگھرمیں بچی کو سنبھالنےوالا (خصوصا خاتون )کوئی نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ کے انتقال کے بعد نابالغ بچے کی پرورش کا حق سات سال کی عمر تک اور بچی کی پرورش کا حق نو سال کی عمر تک شرعا ان کی نانی کو ملتا ہے، اگر نانی نہ ہو تو دادی کو ملتا ہے، اگر یہ دونوں نہ ہوں تو سگی بہن، اس کےبعد ماں شریک بہن، اوراس کےبعد باپ شریک بہن کو ملتا ہے، البتہ اس دوران پرورش کا سارا خرچ شرعا والد کے ذمہ ہوتاہے۔

بچےکی عمر سات سال ہوجائےاوربچی کی عمر نو سال ہوجائےتوشرعا ان کی پرورش کاحق ان کےوالد کےذمہ ہوتاہے،لیکن اگرلڑکی یالڑکےکی نانی یہ سمجھتی ہیں کہ اس عمر کےبعد بھی والدکےذمہ کرنےسےبچوں کی تربیت اچھی طرح نہیں ہوسکےگی توایسی صورت میں مذکورہ بالا عمر کےبعد بھی نانی  اپنی تربیت میں رکھ سکتی ہے۔

صورت مسئولہ میں چارسالہ بچی کی پرورش کاحق شرعااس کی نانی کوہی ہے،نانی کی طرف سےبچی کو لینےکامطالبہ شرعادرست ہے،بچی کےوالدکو(جوکہ بچی کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کررہا)شرعی طورپرمسئلہ بھی بتایاجائےاوراخلاقی طورپربچی کی تربیت اورمستقبل کےحوالےسےسمجھاکرنانی بچی کواپنی کفالت میں لےلےتاکہ بچی  کےلیےبعدمیں مشکلات نہ ہوں۔

حوالہ جات

"رد المحتار " 13 /  53:( والحاضنة ) أما  أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب ۔

ولو اختلفا في سنه ، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا ( والأم والجدة ) لأم ، أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ في ظاهر الرواية۔

الھندیۃ "1541/:

"وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير۔

"بدائع الصنائع"441/:

"فأحق النساء من ذوات الرحم المحرم بالحضانة الأم؛ لأنه لا أقرب منها ثم أم الأم ثم أم الأب؛ لأن الجدتين وإن استويتا في القرب لكن إحداهما من قبل الأم أولى۔

"الدر المختار للحصفكي" 3 / 672:

(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الانثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر۔۔۔

"الهداية "1 / 291: فصل : ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد ۔{ وعلى المولود له رزقهن } [ البقرة : 233 ] والمولود هو الأب۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

04/ذیقعدہ1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب