| 90162 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم تین بہنیں اور دو بھائی ہیں، اور سب کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ بڑے بھائی کی شادی سب سے پہلے تقریباً پندرہ سال پہلے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ گھر چھوڑ کر الگ رہنے لگے۔ہمارے والدین حیات ہیں۔ گھر کی تعمیر چھوٹے بھائی نے کروائی، جس پر تقریباً بارہ لاکھ روپے خرچ آئے۔ جب گھر تعمیر ہو رہا تھا تو بڑے بھائی سے بھی مالی مدد کے لیے کہا گیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور اپنے لیے الگ جگہ خرید لی اور وہ اب اپنے سسرال میں رہتے ہیں۔اب وہ والدین کے گھر میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔ والد صاحب انہیں حصہ دینا چاہتے ہیں اور دے بھی رہے ہیں، لیکن وہ اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے کہ گھر کی تعمیر میں جو بارہ لاکھ روپے چھوٹے بھائی نے خرچ کیے ہیں، وہ نکالے جائیں۔والد صاحب اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔براہِ کرم اس معاملے میں ہمیں اچھا اور مناسب مشورہ دیں۔
تنقیح: سائل سے زبانی پوچھنے پر اس نے بتایا کہ والد صاحب چھوٹے بیٹے کو اس کی رقم جو اس نے 12لاکھ روپے گھر پر لگائے ہیں وہ دینا چاہتا ہے ،جبکہ بڑا بیٹا اس بات کو نہیں مانتا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد صاحب اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے خود مالک ہیں ان سے وراثتی حصہ کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ۔اگر وہ اپنی خوشی سے اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہیں تو جتنا مناسب سمجھیں تقسیم کر سکتے ہیں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر دیں ۔سوال میں درج تفصیل کے مطابق چونکہ گھر کی تعمیر چھوٹے بیٹے نے 12 لاکھ روپے خرچ کر کے کی ہے جو بیٹے کی جانب سے والد سے تعاون یا قرض تھا ۔بہر حال والد صاحب کا انہیں 12لاکھ دینا درست ہے، بلکہ والد صاحب اگر ان کے اس احسان کی رعایت سے زیادہ ادا کرنا چاہیں تو اس میں بھی دیگر بچوں سے کوئی زیادتی کا پہلو نہیں ہوگا اور زیادہ رقم دینا بھی جائز ہوگا ۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 196):
ثم اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 272):
والذي استقر عليه رأي المتأخرين أن الإنسان يتصرف في ملكه وإن أضر بغيره ما لم يكن ضررا بينا
المبسوط للسرخسي (19/ 29):
لأنه لا حق للوارث قبل موت المورث في ماله.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(6/ 758):
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 394):
(أما) الذي يرجع إلى المقرض فهو أهليته للتبرع؛ فلا يملكه من لا يملك التبرع، من الأب، والوصي، والصبي، والعبد المأذون، والمكاتب؛ لأن القرض للمال تبرع ألا ترى أنه لا يقابله عوض للحال؛ فكان تبرعا للحال، فلا يجوز إلا ممن يجوز منه التبرع، وهؤلاء ليسوا من أهل التبرع؛ فلا يملكون القرض.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
08/ذوالقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


