03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی وراثت سے متعلق سوالات
90171طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ہم 5 بہنیں اور 7 بھائی ہیں،  ہماری شادیاں بالترتیب: پہلی بہن 1985ء، دوسری بہن 1998ء، تیسری بہن کی شادی 2003ء اور چوتھی بہن کی شادی 2006ء میں ایک ساتھ انجام پائیں۔ ہمارے والد کا انتقال 7 سال اور امی کا انتقال 5 سال پہلے ہوا۔

NIC کے مطابق انتقال کے وقت میرے والد کی عمر 75 سال درج تھی، جبکہ حقیقتاً ان کی عمر کم و بیش 79 سال تھی۔ میرے والد ہیرے کے تاجر تھے، بعد ازاں انہوں نے یہ کام چھوڑ کر اپنی زندگی میں گولڈ کی تین دکانیں صدر زیب النساء اسٹریٹ، موسیٰ جی اور انگلش بوٹ ہاؤس کی اسی لائن میں خرید کر تجارت کرتے رہے، اور میرے والد کے ساتھ میرے 7 بھائی انہی 3 دکانوں سے منسلک رہے۔ ابو کی زندگی میں تمام 12 بیٹوں اور بیٹیوں اور ان کے چند پوتے اور پوتیوں کی شادیاں انہی دکانوں سے ہوئیں۔

سات بھائیوں کی زندگی کے تمام اخراجات، بیماری، دکھ سکھ، کھانے پینے، عمرے اور حج کے اخراجات، پاکستان ٹورز کے تمام اخراجات انہی دکانوں سے پورے ہوتے تھے، اس کے علاوہ ایک مخصوص رقم 7 بھائیوں کو ماہانہ خرچی کے طور پر دی جاتی تھی۔ شادی کے وقت جہیز میں ہم بہنوں کو کسی کو 35 تولہ یا کسی کو 40 تولہ دیا گیا، اور ہمارے کمرے کی تمام ضروری اشیاء جہیز میں دی گئیں۔ یہ تمام اخراجات دکان سے پورے ہوئے تھے۔

ہم بہنوں کے علاوہ 7 بھائیوں کی شادیاں، ان کے بچوں (پوتے پوتیوں) کی شادیاں، ان کے جہیز کے معاملات، بہوؤں کے زیورات اور ان کے خرچے بھی دکان سے پورے ہوئے۔ اس کے علاوہ پوتوں کی بیویوں کے زیورات اور اخراجات بھی دکان سے پورے ہوئے۔ مزید یہ کہ ہر پوتی کو 25 سے 30 تولے زیورات اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی اشیاء بھی دکان سے بطور جہیز دی گئیں۔

میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں بہت ساری جائیدادیں اپنے نام سے خریدیں، سوائے ایک 465 گز کے پلاٹ کے جو سب سے چھوٹے بیٹے کے نام تھا، اور ایک 400 مربع گز کا پلاٹ اپنی اہلیہ کے نام پر خریدا،  اہلیہ والے پلاٹ کی پاور آف اٹارنی انہوں نے اپنے پاس رکھی، بعد ازاں امی والے پلاٹ پر 2 منزلہ مکان بنایا۔

اور 465 والے پلاٹ پر 200 گز کے 6 پورشن والد نے بنوائے۔ 800 گز کے پلاٹ پر 3 فلور کا 400 گز کا 6 پورشن بنوایا، اور اس کی خریداری سے لے کر تعمیر تک کے تمام اخراجات دکان سے پورے ہوئے۔ یہ سب ہمارے والد صاحب کے نام تھا۔

2 پلاٹ مکان نارتھ کراچی میں، مین روڈ کمرشل پلاٹ خریدا۔ اس پلاٹ پر اس وقت KFC اور 3 میرج ہال بنے ہوئے ہیں۔ یہ میرے والد کے نام پر تھا۔ ہمارے والد اور بھائی چونکہ جیولرز ہیں، FBR، ٹیکس نیٹ ورک اور DNF BP سے بچنے کے لیے زیادہ تر کیش ٹرانزیکشن کرتے تھے اور بینک کی لین دین سے پرہیز کرتے تھے۔

والد صاحب نے اپنی زندگی میں 11-B والے دونوں مکانات فروخت کر دیے اور اس کے نقد پیسے گھر کی تجوری میں رکھ دیے، جو کہ کئی کروڑ تھے۔ اس تجوری میں میرے ابو کی تمام جائیدادوں کی فائلیں، نقدی، زیورات اور زندگی بھر کی تمام پونجی رکھی ہوئی تھی۔ میرے بھائیوں نے بعد ازاں جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ دونوں مکان فروخت ہو چکے ہیں اور ان کے پیسے تجوری میں رکھے ہیں، تو اس ڈر سے کہ والد کہیں اپنی بیٹیوں کو حصہ نہ دے دیں، انہوں نے والد صاحب سے تجوری کی چابیاں مانگیں، اور ان کے انکار پر 6 بھائیوں نے میرے والد پر جسمانی تشدد کیا اور انہیں زد و کوب کیا (میرے ایک بھائی بیمار تھے)۔ دو سے تین بھائیوں نے والد صاحب کو قابو کر کے تجوری توڑ کر تمام نقدی، زیورات اور جائیدادوں کی فائلیں اپنے قبضے میں لے لیں۔

اس کے بعد والد صاحب اپنی بیٹیوں کے گھروں میں شفٹ ہو گئے، اور انہوں نے اپنے جسم کے تمام زخم اپنی بیٹیوں کو دکھائے۔

وفات سے ایک سال پہلے میرے والد نے پریڈی پولیس اسٹیشن صدر کی مدد سے دکانوں سے بھائیوں کو نکال کر سیل کروا دیا اور اپنا تالا لگا دیا تھا۔ اس بات کا گواہ پورا صدر جیولری مارکیٹ ہے۔ بعد ازاں کچھ دنوں کے بعد بھائیوں کے معافی مانگنے پر چابیاں واپس دے دیں۔

میرے والد کے بوڑھے اور بیمار دماغ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بھائی نے مرنے سے کچھ عرصہ پہلے 400 گز والا 6 پورشن کا مکان اپنے نام کروا لیا۔ بعد ازاں ان کی وفات کے بعد 6 بھائیوں نے آپس میں سب لیز کروا لیا (والد کے انتقال کے 2 سال بعد)۔

ایک پلاٹ 465 والا، جس پر 6 پورشن بنائے گئے تھے، جو چھوٹے بھائی کے نام تھا، وہ بھی والد کی زندگی میں فروخت کر کے بھائیوں نے پیسے آپس میں تقسیم کر لیے۔ والد کے انتقال کے بعد ابو کے اکاؤنٹ میں بھی کچھ رقم تھی، وہ بھی بھائیوں نے کچھ عرصہ تک جعلی دستخط کر کے نکالی اور 6 ماہ تک اکاؤنٹ آپریٹ کرتے رہے۔

والد صاحب کو سائیڈ لائن کر کے تمام چیزوں پر قبضہ کر لیا گیا اور آپس میں تقسیم کر لیا گیا، اور بہنوں کو والد کی وراثت میں سے 20 لاکھ روپے فی بہن دیے گئے۔

والد صاحب کی زندگی میں بڑھاپے کی وجہ سے انہیں سائیڈ لائن کر کے ان کی تمام جائیدادیں، نقدی، سونا اور دکان میں موجود سونا (بقول بہنوں کے، والد نے بتایا تھا کہ 90 کلو سونا تینوں دکانوں میں موجود تھا) ہڑپ کر لیا گیا، چار بھائیوں نے 2 دکانیں بمعہ زیورات کے اپنے حصے میں کر لیں۔ ایک بھائی نے 1 دکان بمعہ زیورات اپنے حصے میں لے لی۔ دو بھائیوں نے کم و بیش 12/12 کروڑ روپے لے کر اپنا حصہ دکان سے الگ کر لیا۔ اس طرح ہر بھائی کو کم و بیش 12 کروڑ روپے ملے اور بہنوں کو صرف 20 لاکھ روپے دیے گئے۔

ابو کی وفات کے 3 سال بعد امی بھی وفات پا گئیں، جس پر بھائیوں نے ہم 5 بہنوں کو امی کی وراثت سے 25 لاکھ روپے دیے اور باقی رقم، جو کئی کروڑ تھی، آپس میں تقسیم کر لی۔

بہنوں نے جب بھی وراثت کا تقاضا کیا تو بھائیوں کا یہی کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو ابو نے دیا ہے، ساری بہنیں ابو کے پاس جا کر اپنا حصہ مانگیں یا قبر پر جا کر مانگیں،  بھائیوں کا کہنا ہے کہ ابو اب صرف قبر کے پروپرائٹر ہیں۔ ہم نے 41 لاکھ روپے خرچ کر کے تمام جائیدادیں اپنے نام ٹرانسفر کروائی ہیں۔

والد کے انتقال کے بعد ایک بھائی نے نیو ٹاؤن سے فتویٰ لیا، جس میں بھی اقرار کیا کہ ابو نے بہنوں کو شرعی حصہ نہیں دیا۔ ایک اور موقع پر تحریری طور پر بھی ایک بھائی نے اقرار کیا کہ بہنوں کو شرعی حصہ نہیں ملا۔ اب کیوں حصہ مانگ رہی ہو، ابو کی زندگی میں آتی۔

ابھی تک میرے والد کو میرے بھائیوں نے FBR/NADRA میں زندہ ظاہر کیا ہوا ہے تاکہ وراثت کا قانونی معاملہ نہ اٹھے۔ میرے سب سے بڑے بھائی کا بھی انتقال ہو چکا ہے (5 سال پہلے)، لیکن انہیں بھی ریاستی اداروں میں زندہ ظاہر کیا ہوا ہےان تمام واقعات کی روشنی میں شرعی اعتبار سے ہم بہنوں کی رہنمائی فرمائیں:

1۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد ہم بہنیں اپنا شرعی حصہ بھائیوں سے مانگ رہی ہیں، جو دینے کو تیار نہیں، کیا ہم عدالت جا سکتی ہیں؟

2۔ بھائیوں کا کہنا ہے کہ اس وراثت میں بہنوں کا کوئی حصہ نہیں، یہ مال والد نے ہمیں خود دیا ہے، کیا یہ درست ہے؟ کیا بہنوں کا حصہ مانگنا بھائیوں کےبچوں کے منہ سے نوالہ چھیننا ہے؟

3۔ بہنوں کو ڈرا دھمکا کر رشتہ ختم کرنے کی بات کرنا کیا درست ہے؟

4۔ کیا جہیز میں دیا گیا زیور وراثت کا حصہ ہے؟

5۔ کیا جہیز وراثت میں شمار ہوتا ہے؟ بھائیوں نے والدین کی ساری وراثت ہڑپ کر لی ہے اور ہمیں دباؤ میں رکھا جا رہا ہے، اس لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی درکار ہے کہ کیا جہیز وراثت میں شمار ہوتا ہے یا نہیں؟

6۔ اگر شادی کے وقت وراثت کا ذکر نہیں ہوا تو کیا جہیز وراثت بن جاتا ہے؟

 بھائیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے سب کچھ دے دیا ہے، چاہے تم کورٹ جاؤ یا کہیں بھی، کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمارے اندازے کے مطابق ہر بھائی کے پاس 50 سے 60 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔

ہماری چھوٹی کی بیٹی کا رشتہ ہمارے ایک بھائی کے بیٹے کے ساتھ طے ہے، ہماری چھوٹی بہن اس ڈر سے وراثت کا حصہ مانگنے سے ڈر رہی ہے کہ کہیں بھائی رشتہ نہ توڑ دے، وہ عدالت میں جانے کو تیار نہیں اور وہ اپنے وراثتی حق سے دستبردار ہونا چاہتی ہے، کیا اس کا اس طرح اس ڈر سے دستبردار ہونا درست ہے؟

اگر شرعی طور پر ہمارے بھائیوں ذمہ ہمارا وراثتی حصہ دینا لازم ہے تو کیا وہ آج کی قیمت کے حساب سے ادائیگی کریں گے یا سات سال پہلے کی قیمت کا اعتبار ہو گا؟ کیونکہ ہر بھائی نے سات سال پہلے کروڑوں روپیہ لیا تھا۔

والد صاحب کا کاروبار ابھی تک بھی جاری ہے، جس سے بھائی نفع بھی کما رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ اس کاروبار کے پرافٹ میں بہنوں کا حصہ ہو گا یا نہیں؟

10۔ والد صاحب کے ورثاء میں ہم سات بھائی اور پانچ بہنیں ہی ہیں، ان میں سے ہر ایک کا وراثت میں کتنا حصہ ہو گا؟

وضاحت: سائلہ نے فون پر بتایا کہ جب بھائی نے چار سو گز پر مشتمل چھ پورشن والا مکان والد کی وفات سے پہلے اپنے نام کروایا تواس وقت والد صاحب بیمار تھے، ان  کا ایک پھیپھڑاا صرف تیس فیصد کام کرتا تھا اور ان کو سانس لینے میں تنگی ہوتی تھی اور اس کے تقریباً تین ماہ بعد والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالات کے جوابات سے پہلے بطورِ تمہید جننا چاہیے کہ  زندگی میں آدمی اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے، اولاد سمیت کسی بھی شخص کو اس کی رضامندی کے بغیر کے اس کے مال میں کسی بھی قسم کے تصرف کا شرعاً اختیار نہیں ہوتا، لہذا اگر اولاد میں سے کوئی شخص زندگی میں اپنے والد سے زبردستی کوئی مال چھین لے یا کوئی پراپرٹی قانونی  کاغذات میں زبردستی اپنے نام منتقل کروا کر اس پر قابض ہو جائے تو قرآن وسنت کی روشنی میں ایسا شخص اس مال کا مالک نہیں بنتا، بلکہ وہ چیز بدستور زندگی میں اس کے والد کی ملکیت میں رہتی ہے اور اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جس میں اس شخص کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوتے ہیں۔

اسی طرح جب آدمی کسی ایسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو کہ جس کی وجہ سے زندگی کی امید کم ہوجائے (اس کو شریعت کی اصطلاح میں مرض الوفاة کہا جاتا ہے، اس کی فقہائے کرام نے تین شرائط ذکر کی ہیں: 1۔اس میں غالب امکان وفات ہوجانے کا ہو2۔وہ آدمی اپنے خارجی مصالح جیسے ملازمت اور کاروبار وغیرہ کرنے سے عاجز آجائے3۔اس مرض کی وجہ سے ایک سال اندر اندر آدمی کی وفات ہو جائے) تو ایسی صورتِ حال  میں بھی اگر کوئی بیٹا، بیٹی یا کوئی وارث مرض کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس آدمی سے کوئی چیز اس کی رضامندی سے لے لے یا اپنے نام کروا لےتو شرعی اعتبار سے یہ تصرف بھی ورثاء کے حق میں کالعدم اور غیر معتبر شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت اس کےمال کے ساتھ سب ورثاء کا حق متعلق ہو جاتا ہے اور ایسی حالت میں مریض آدمی کے تصرفات صرف ایک تہائی (1/3) مال تک  بطورِ وصیت نافذ ہوتے ہیں اور شرعی اعتبار سے وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں ہوتی، کیونکہ شریعت نے ورثاء کا ترکہ میں حصہ مقرر فرما دیا ہے اس لیے وصیت شرعاً غیر وارث کے لیے معتبر ہوتی ہے، لہذا  ایک بیٹے نے وفات سے تین ماہ قبل باپ کی بیماری کی حالت میں چار سو گز پر مشتمل جو چھ منزلہ مکان اپنے نام کروایا ہے وہ شرعاً اس کا مالک نہیں بنا، بلکہ یہ مکان بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا، جس میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔

  1. صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بھائیوں نے  اپنی بہنوں کو ان کا وراثتی حصہ نہیں دیا تو اس صورت میں آپ سب بہنوں کو اپنے شرعی حصوں کے مطالبے کا حق حاصل ہے اور اپنے شرعی حق کی وصولی کے لیے عدالت سے رجوع کر نا بھی جائز اور درست ہے۔

  2. بھائیوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ یہ سارا مال والد صاحب نے ہمیں اپنی زندگی میں دیا ہے، کیونکہ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق بھائیوں نے والد سے زبردستی پلاٹوں کی فائلوں اور نقدی وغیرہ پر قبضہ کیا ہے اور کسی کے مال پر زبردستی قبضہ کرنے سے آدمی شرعاً مالک نہیں بنتا، اس لیے زبردستی لیا گیا تمام مال مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا اور بہنوں کا اپنے حصوں کا مطالبہ برحق ہے، بھائیوں کا یہ کہنا کہ بہنوں کا حصہ مانگنا بھائیوں کےبچوں کے منہ سے نوالہ چھیننا ہے، بالکل غلط اور خلافِ شریعت بات ہے، شریعت نے تمام ورثاء کے حصے خود مقرر فرمائے ہیں، ان کی وصولی کو بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے سے تعبیر کرنا شرعی احکام سے جہالت کی بات ہے، البتہ بیٹوں کی رہائش کے لیے والد نے جو مکان مالکانہ طور پر ان کو دیے تھے وہ ان کی ملکیت سمجھے جائیں گے، ان میں وراثت جاری نہیں ہو گی اور نہ ہی بہنوں کو ان میں مطالبے کا حق حاصل ہے۔   

  3. بہنوں کی طرف سے وراثتی حصہ مانگنے پر بھائیوں کا رشتہ داری ختم کرنے کی بات کرنا اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کی مخالفت  کرناہے، بیٹیوں کے حصوں کاذ کر قرآن کریم میں موجود ہے، ان کے وصول کرنے پر قطع رحمی کرنا اللہ تعالی کے غضب اور غصہ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، لہذا بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کا شرعی حصہ جلد از جلد ان کے سپرد کریں  اوران کلمات پر اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کریں اور آئندہ کے لیے اس طرح کے مذموم کلمات زبان سے نکالنے سے اجتناب کریں۔

  4. مذکورہ صورت میں جہیز کو وراثت میں شامل کرنا جائز نہیں، کیونکہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنے کاروبار سے سب بیٹیوں کو جہیز دیا تھا اورایسی کوئی بات نہیں کہی تھی کہ یہ جہیز تمہارا وراثتی حصہ ہے، نیز بالفرض والد صاحب نے کسی کو ایسی بات کہی بھی ہو کہ یہ تمہارا وراثتی حصہ ہے تو بھی اس سے وراثتی حصہ ختم نہیں ہوتا، کیونکہ زندگی میں دیا گیا مال ہبہ (گفٹ) اور ہدیہ شمار ہوتا ہے، جبکہ وراثت آدمی کی وفات کے بعد جاری ہوتی ہے، جہیز کی وجہ سے بہنوں کا وراثتی حصہ نہ ختم ہوا اور نہ ہی کم ہوا، بلکہ ہر بہن اپنے والد کے ترکہ میں سے اپنا مکمل شرعی حصہ لینے کی حقدار ہے، لہذا جہیز کا بہانہ بنا کر بہنوں کے حصوں پر قبضہ کرنا ہرگزجائز نہیں۔

  5. ان دونوں سوالوں کے جوابات نمبر4کے جواب کے تحت گزر چکے ہیں۔

 اگر یہ بہن اپنا شرعی حصہ مکمل طور پر چھوڑنا چاہتی ہے تو اس سے اس کاوراثت میں سے  شرعی حصہ ختم نہیں ہو گا، کیونکہ  وراثتی حصہ اس طرح کسی کو معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا،   اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکہ کو تقسیم کرنے اور  اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اپنا حصہ معاف کرنے کی شرعی حیثیت ہبة المشاع (مشترکہ چیزمیں سے اپنا حصہ کسی کو ہدیہ کرنا) کی ہے اور قابلِ تقسیم چیزوں میں ہبہ المشاع شرعاً درست نہیں ہوتا، بلکہ ایسی صورت میں ہبہ کرنے والے کی ملکیت بدستور باقی رہتی ہے۔    

البتہ اگر یہ بہن اپنی خوشی سے  وراثت میں سے کچھ حصہ لے کر اپنے بقیہ حصے سے دستبردار ہوجائےتو یہ درست ہے اور پھر اگر اپنا بقیہ حصہ سب بھائیوں کو چھوڑا تو وہ حصہ سب بھائی آپس میں تقسیم کرنے کے مجاز ہوں گے اور اگر بہن کسی ایک بھائی کے حق میں دستبردار ہوئی تو پھر اسی بھائی کو وہ حصہ لینے کا حق حاصل ہو گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس صورت میں بھی اگر رشتہ کرنے والے بھائی نے مذکورہ بہن کی بیٹی کا رشتہ ختم کرنے کی دھمکی وغیرہ دے کر یہ حصہ معاف کرایا تو ایسی صورت میں دلی رضامندی کے بغیر بادلِ ناخواستہ حصہ چھوڑنے سے دیانتاً حصہ معاف نہیں ہو گا، کیونکہمسند احمد کی ایک حدیث میں وارد ہے کہ کسی شخص کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا آدمی کے لیے حلال نہیں۔

السراجية في الميراث (1/ 56) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:

من صالح على شيء من التركة فاطرح سهامه من التصحيح ثم اقسم ما بقي من التركة على سهام الباقين كزوج وأم وعم فصالح الزوج على ما في ذمته من المهر وخرج من البين، فتقسم باقي التركة بين الأم والعم أثلاثا بقدر سهامهما سهمان للأم وسهم للعم.

فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني(ج:1ص:201)مكتبة معارف القرآن كراتشي :

أما فقهاء الشريعة الإسلامية، فلم يذكروا حكم مثل هذا النفوذ في شروط صحة العقد، وذلك لأن الشريعة الإسلامية تُفرِّق بين أحكام الديانة والقضاء. فلا شك أن استغلال الرجل نفوذه وجاهه للدخول في عقد مع من لا يطيب نفسه بذلك العقد لا يجوز شرعاً، ولا يحل له في الديانة ما أخذه بهذا الطريق، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:

"لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه.( أخرجه أحمد في مسنده)

فحل الشيئ في الديانة لا يتوقف على الرضا الظاهر فقط، بل يجب أن يكون معه طيب نفس المعطى.

  1. وراثت میں چونکہ سونا اورپراپرٹی بھی شامل تھی، جن میں سے بعض  اشیاء ابھی تک  بھائیوں کے قبضہ میں موجود ہیں، بھائیوں کے بہنوں کا حصہ خریدنےکی صورت میں ان کے ذمہ موجودہ قیمت کے حساب سے ادائیگی کرنا لازم ہے، والد صاحب کی وفات کے وقت کی قیمت کا اعتبار نہیں ہو گا، کیونکہ بہنوں کا حق اسی سونے اور پراپرٹی سے متعلق ہے اور غصب شدہ چیز اگر موجود  ہوتو اصولی طور پر وہی چیز صاحبِ حق کو واپس کرنا یا باہمی رضامندی سے اس کی موجودہ قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر متروکہ پراپرٹی میں سے بھائیوں نے کچھ چیزیں فروخت کر دی ہیں تو اس صورت میں جتنی قیمت میں پراپرٹی اور سونا فروخت ہوا ہے  بہنوں کو ان کے حصہ کی مکمل قیمت دینا ضروری ہو گی، اگرچہ پراپرٹی قیمی اشیاء (مارکیٹ میں جن کی مثل موجود نہ ہو) میں سے ہے اور ایسی چیزوں میں غصب کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے، لیکن چونکہ بہنوں کا حصہ فروخت کرنے کی صورت میں وصول شدہ قیمت ان کے مال سے حاصل ہوئی ہے، اس لیے بہنوں کے حصہ کی قیمت بھائیوں کے لیے حلال نہیں ہے، لہذا  مالک معلوم ہونے کی وجہ سے وہ رقم مالک یعنی بہنوں کو لوٹائی جائے گی۔

الهدایةشرح البداية: (، کتاب الغصب: 3:373):

وعلی الغاصب ردّالعین المغصوبة معناه مادام قائمًا لقوله علیه السلام:’’علی الید ما أخذت حتّی تردّ.‘‘وقال علیه السلام: ’’لایحلّ لأحد أن یأخذ متاع أخیه لاعبًا ولاجادًّا فإن أخذه فلیردّه علیه‘‘.

 مجمع الضمانات (ص: 130) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

لو ربح بدراهم الغصب كان الربح له، ويتصدق به، ولو دفع الغلة إلى المالك حل للمالك تناولها كما في الهداية.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (ج:2، ص:494، ط:دارالجیل):

ومعنى الغصب: شرعا أخذ مال أحد وضبطه المتقوم والمحترم على سبيل الجهر بفعل يزيل يد المالك المحقة حقيقة أو حكما أو يقصرها ويثبت يده المبطلة بدون إذنه أو إذن الشرع أي بطريق التغلب ............"إن هذا التعبير عام ويستفاد من عموميته أنه كما يعد أخذ الأجنبي غصبا يعد أخذ القريب لصاحب المال أو الشريك في ذلك المال غصبا أيضا. مثلا لو أخذ وضبط أحد مال أبيه أو زوجته بدون إذنهما يكون غاصبا."

الفتاوی  الهندیة : (كتاب الغصب، شرطه وحكمه، ج:5، ص:139، ط:رشیدیه:

"وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع."

والد صاحب کی وفات کے بعد متروکہ کاروبار کو تقسیم کیے بغیر ابھی تک جتنا نفع اور پرافٹ حاصل کیا گیا ہے وہ بھی سب بہن بھائیوں میں ان کے  شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا اورجتنا عرصہ بھائیوں نے اس کاروبار میں کام کیا ہے ان کو اتنے عرصہ کی اجرتِ مثل ملے گی، اجرتِ مثل کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں اس طرح کا کام کرنے پر جتنی اجرت دی جاتی ہو۔ البتہ اتنا عرصہ بھائیوں نے مشترکہ وراثتی کاروبار سے جتنے گھریلو اخراجات (جن میں اس دوران علاج معالجہ اور اپنی بچیوں کے شادی کے اخراجات وغیرہ بھی شامل ہیں)کیے ہیں وہ  بھی اجرتِ مثل میں شمار کیے جائیں گے، كيونکہ بہنوں نے یہ اخراجات مشترکہ کاروبار سے وصول نہیں کیے، اس لیے بھائیوں کے گھریلو اخراجات  اگر اجرتِ مثل  کے مساوی ہوں تو اس صورت میں اجرتِ مثل کی رقم نکالے بغیر مکمل کاروبار کو ورثاء یعنی سب بہن بھائیوں میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

المحيط البرهاني (7/ 651) دار الكتب العلمية، بيروت:

في «مجموع النوازل»: رجل يبيع شيئاً في السوق فاستعان بواحد من أهل السوق على بيعه، فأعانه، ثم طلب منه الأجر، فإن العبرة في ذلك لعادة أهل السوق، فإن كان عادتهم أنهم يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإن كان عادتهم أنهم يعملون بغير أجر فلا شيء له.

الدر المختار (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

 وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له.  وفي الدرر: دفع غلامه أو ابنه لحائك مدة كذا ليعلمه النسج  وشرط عليه كل شهر كذا جاز ولو لم يشترط فبعد التعليم طلب كل من المعلم والمولى أجرا من الآخر اعتبر عرف البلدة في ذلك العمل.

رد المحتار (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

قوله ( فالعبرة لعادتهم ) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإلا فلا. قوله ( اعتبر عرف البلدة الخ ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل،وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ ، درر.

10۔ آپ کے والدمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ  واجب ہو، پھر اگر اس نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل ترکہ کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کیا جائے گا،  اس کے بعدجو ترکہ باقی بچے   اس کوانیس(19)حصوں میں برابر تقسیم کرکے  مرحوم کے ہربیٹے کو  دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو  ایک(1) حصہ  دے دیا جائے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

2

10.526%

2

بیٹا

2

10.526%

3

بیٹا

2

10.526%

4

بیٹا

2

10.526%

5

بیٹا

2

10.526%

6

بیٹا

2

10.526%

7

بیٹا

2

10.526%

8

بیٹی

1

5.263%

9

بیٹی

1

5.263%

10

بیٹی

1

5.263%

11

بیٹی

1

5.263%

12

بیٹی

1

5.263%

تنبیہ:  یاد رہے کہ شریعت نے کسی کا نا حق مال کھانے پر سخت وعیدیں سنائی ہیں، قرآن وسنت میں بار بار دوسروں کا ناحق مال کھانے کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے، چنانچہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں وارد ہے کہ" جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین پر ناحق قبضہ کرلے تو قیامت کے دن سات زمینوں تک اس کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا"، اس لیے مذکورہ صورت میں بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آخرت میں اپنی جان بچانے کے لیے بہنوں کو ان کو پورا پورا حصہ ادا کریں، ورنہ خدا نخواستہ اگر ان کا حصہ ادا کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے تو آخرت میں بہت سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پھر سخت پریشانی اور ندامت کے سوا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔  

حوالہ جات

   القرآن الکریم : [النساء:11]:

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

صحيح البخاري (3/ 130، رقم الحديث: 2452) الناشر: دار طوق النجاة:

حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: حدثني طلحة بن عبد الله، أن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل، أخبره أن سعيد بن زيد رضي الله عنه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين»

مسند أحمد ط الرسالة (34/ 299) الناشر: مؤسسة الرسالة،بيروت:

حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم  ؟ وفيأي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام، قال: " فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه "، ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه، ألا وإن كل دم، ومال ومأثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه إلى يوم القيامة.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (الكتاب الثامن: الغصب، ج:4، ص:575، ط:دارالجیل):

إذا ادعى أحد كذبا أن ثياب غيره له، وأثبت ذلك وحكم القاضي لعدم اطلاعه على كذب الشهود، وأخذ المحكوم له الثياب فلا يحل له لبس تلك الثياب؛ لأنه لا يجوز لأحد أن يأخذ مال آخر بلا سبب مشروع.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

10/ذوالقعدة1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب