| 90249 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
تقریباً 6–7 سال پہلے کا واقعہ ہے کہ میں اپنی ساس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران میرے ذہن میں کچھ غلط خیالات آئے اور میں نے اپنی ساس کے پاؤں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اب مجھے یہ بات یاد نہیں کہ اس وقت شہوت موجود تھی یا نہیں، صرف اتنا یاد ہے کہ ذہن میں کچھ ہیجان سا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ اس دوران آلہ تناسل میں کوئی انتشار پیدا ہوا یا نہیں، اور نہ ہی یہ یاد ہے کہ درمیان میں کپڑا موٹا تھا یا باریک۔ مزید یہ کہ چونکہ یہ واقعہ بہت پرانا ہے، اس لیے مجھے کچھ بھی یقینی طور پر یاد نہیں۔ کبھی شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ شاید اس وقت شہوت تھی، اور کبھی خیال آتا ہے کہ نہیں تھی۔ اس وقت مجھے حرمتِ مصاہرت کے احکام کا علم نہیں تھا، بعد میں علم حاصل کرنے کے بعد یہ مسئلہ معلوم ہوا۔ اب میں شدید پریشانی اور وسوسوں میں مبتلا ہوں، بار بار شک آتا ہے، اور اسی وجہ سے میری زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ میرے تین بیٹیاں بھی ہیں، اس لیے دل میں مزید خوف پیدا ہو رہا ہے۔ کیا اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے؟ اور کیا میرے نکاح یا میرے بچوں پر کوئی اثر پڑتا ہے، جبکہ یہ سب امور یقینی طور پر یاد بھی نہیں اور میں وسووسوں اور شک کا بیمار ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کے نکاح پر کوئی اثرپڑا ہے۔لہذا ایسے وساوس پر دھیان نہ دیں۔
حوالہ جات
الأشباہ و النظائر : (50)
من شک ھل فعل شیئا أم لا، فالأصل أنہ لم یفعل۔ و تدخل فیھا قاعدۃ أخری : من تیقن الفعل و شک فی القلیل و الکثیر، حمل القلیل، لأنہ المتیقن، إلا أن تشغل الذمۃ بالأصل فلایبرأ إلا بالیقین.
الأشباہ و النظائر :(52)
من شک ھل طلق أم لا، لم یقع۔ شک أنہ طلق واحدا أو أکثر، بنی علی الأقل کما ذکر الأسبیجابی، إلا أن یستیقین بالأکثر أو یکون غالب ظنہ علی خلافہ.
الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/33)
والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما، وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته.
بدائع الصنائع:(2/260)
وكذا تثبت بالوطء في النكاح الفاسد وكذا بالوطء عن شبهة بالإجماع، وتثبت باللمس فيهما عن شهوة وبالنظر إلى فرجها عن شهوة عندنا ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء إلا عن شهوة بلا خلاف.
الفتاروی التاترخانیۃ:(4/52)
وفی المضمرات: لایشترط شھوتھما جمیعا، بل یکفی اشتھاء أحدھما إذا کان الآخر محل الشھوۃ، واشتھاء أحدھما عند المس أیھما کان الذکر أو الأنثی الماس أو الممسوس.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
11/ذوالقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


