03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز نہ پڑھنے والی بیوی کے ساتھ کیسے معاملہ کیا جائے؟
90258جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم جناب امید ہے آپ خیریت سے ہونگے سوال۔جناب میرا سوال یہ ہے کہ اگر بیوی نماز نہیں پڑھتی ہے اور بچوں کے بہانے بناتی ہیں کہ بچہ روتے ہیں اور زبان درازی کرتی ہے تو کیا بیوی کو نماز کہ نہ پڑھنے پر مارپیٹ کرسکتے ہیں یا نہیں بیوی کو اگر ایک تھپڑ مارتا ہوں تو جھگڑا کرتی ہے رہنمائی فرمائیں کہ بیوی کو نماز پڑھنے کے لئے کیا کروں ؟شکریہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر بیوی نماز میں سستی کرے تو شوہر کو چاہیے کہ وہ ایک مشفق مربی اور خیر خواہ کا کردار ادا کرے۔ اولاً اہلیہ کو نہایت محبت اور نرمی سے سمجھایا جائے، ان کی دلجوئی کے لیے اکرام کا معاملہ کریں تاکہ ان کا دل نیکی کی طرف مائل ہو۔ انہیں نماز کی اہمیت، فضائل اور اس کے ترک پر وارد ہونے والی قرآنی وعیدیں اور احادیثِ مبارکہ شفقت کے ساتھ سنائی جائیں۔بہتر ہے گھر میں فضائل اعمال کی تعلیم کا اہتمام ہو، اس کے ساتھ ساتھ گھر میں عبادات کا ماحول پیدا کیا جائے، مثلاً شوہر خود سنتوں اور نوافل کا گھر میں اہتمام کرے تاکہ ترغیب کا عنصر غالب رہے۔ساتھ ساتھ اللہ کے حضور اپنے اہل و عیال کے حق میں دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرے اور کثرت سے یہ قرآنی دعا مانگے: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔

اگر نرمی سے اصلاح نہ ہو سکے تو اصلاح کی نیت سے عارضی طور پر بات چیت محدودبھی کی جا سکتی ہے، اور اگر اس سے بھی افاقہ نہ ہو توعارضی طور پر بستر الگ کرنے کی بھی گنجائش ہے تاکہ انہیں اپنی کوتاہی کا احساس ہو۔ ان تمام تدابیر کے بعدبھی اصلاح نہ ہوسکے تو ایسی انتہائی نادر صورتوں میں اگر مفید محسوس ہو تو ہلکی مار کی اجازت ہو جس سے بدن پر نشان نہ پڑ ے، نہ ہی کسی آلے (لاٹھی وغیرہ) سے مارا جائے اور چہرے پر مارنے سے تو قطعی اجتناب کیا جائے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ مارنا کوئی شرعی تقاضا نہیں ۔ اس کا تعلق افادیت سے ہے۔ اگر مفید نہ لگے تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے، باقی اگر ان تمام کوششوں کے باوجود اہلیہ حد درجہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے اور شوہر کو اندیشہ ہو کہ اس کے ساتھ رہ کر اپنی اولاد کے دین کا تحفظ نہیں کر سکے گا، تو ناگزیر صورت میں طلاق دے کر جدا کرنے کی بھی اجازت ہے، لیکن اسے محض آخری درجے اور انتہائی مجبوری میں ہی اختیار کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الرقائق(310/7)

وأما ضرب الزوجة فجائز في مواضع أربعة وما في معناها على ترك الزينة لزوجها وهو يريدها وترك الإجابة إلى الفراش وترك الغسل والخروج من المنزل وفى ضرب امرأته وولده على ترك الصلاة روايتان كذا قالوا ومما في معناها ما إذا ضربت جارية غيرة ولا تتعظ بوعظه فله ضربها كذا في القنية۔

رد المحتار على الدر المختار(611/9)

قوله: (لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ.

المحیط البرهانی (235/4)

كتاب النكاح فلما ذكر في فتاوى أبي الليث: أن للزوج أن يضرب امرأته على أربع خصال، وما هو في معنى الأربع : أحدها على ترك الزينة لزوجها والزوج يريدها، والثانية على ترك الإجابة إذا دعاها إلى فراشه ، والثالثة على ترك الصلاة وترك الغسل، والرابعة على الخروج من المنزل . وفي "كتاب العلل" : ليس للزوج أن يضرب امرأته على ترك الصلاة [ وليس للأب أن يضرب ولده على ترك الصلاة ] في رواية، وفي رواية له ذلك ۔۔۔۔۔۔ في "العيـون : رجل له امرأة لا تصلى، يطلقها حتى لا يصحب امرأة لا تصلى ، وإن لم يكن له ما يعطى مهرها، فالأولى أن يطلقها، ومهرها في عنقي، أحب إلي من أن أطأها، إلى من أن أطأها، وهي لا تصلي .

أحكام القرآن - الجصاص(150)

 قال اللّٰہ تعالی: تعالى [ فعظو ھن یعنی خوفو هن بالله و بعقابه ، وقوله تعالى | واهجروهن في المضاجع ] قال ابن عباس وعكرمة والضحاك والسدى هجر الكلام..وقوله | واضربوهن | قال ابن عباس إذا أطاعته في المضجع فليس له أن يضر بها وقال مجاهد إذا نشزت عن فراشه يقول لها اتقى وارجعى ...قوله | فعظو هن واهجروهن فى المضاجع ] قالا إذا خاف نشوزها وعظها فإن قبلت وإلا هجرها في المضجع فإن قبلت وإلا ضربها ضرباً غير مبرح ثم قال [ فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا ] قال لا تعللوا عليهن بالذنوب .

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

10 ذوالقعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب