| 90380 | روزے کا بیان | روزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان |
سوال
روزے کے دوران مجھے ڈکار آیا، اس کے ساتھ کھٹا پانی بھی حلق تک آیا، میں نے دو یا تین سیکنڈ تک سوچا کہ کیا کرنا چاہیے، اس دوران کچھ پانی حلق سے نیچے چلا گیا اور کچھ پانی کو میں نے کھینچ کر حلق سے منہ تک لایا، اور تھو ک دیا، روزے کا کیا حکم ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ روزے کی دوران ایک دو دن مجھے منہ کے اندر خون کا ذائقہ محسوس ہوا، اور اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب نے لعاب کو نگل لیا، میں نے فورا تھوکا تو تھوک میں خون نظر آیا، اسی وقت دیکھنے کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ خون اور تھوک دونوں برابر ہے یا کسی ایک کی مقدار زیادہ ہے،ایسی صورت حال میں جب کسی ایک جانب کا فیصلہ کرنا مشکل ہو تو روزے کا کیا حکم ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بلا اختیار جو مواد واپس چلا گیا اس سے روزہ نہیں ٹوٹا۔ دوسری صورت میں اگر تھوک میں خون کی سرخی نمایاں تھی اور آپ کو ذائقہ بھی محسوس ہوا تھا اور وہی لعاب نگلنے کا یقین بھی ہے تو روزہ ٹوٹ گیا ، صرف قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں ۔
حوالہ جات
المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود» (10/ 107):
إذا كان أقل من ملء الفم وعاد أو شئ منه لم يفطر اتفاقا لعدم الصنع عند محمد. ولعدم ملء الفم عند أبي يوسف "الثانية" إذا كان أقل من ملء الفم وأعاده أو شيئا منه لم يفطر عند أبى يوسف وهو المختار لعدم ملء الفم، ويفطر عند محمد للصنع "الثالثة" إذا كان ملء الفم وعاد أو شئ منه لا يفطر عند محمد لعدم الصنع وهو الصحيح ويفطر عند أبى يوسف لأنه يعتبر خارجا شرعا وقد دخل. ودليل عدم الفطر فيما ذكر حديث الباب "الرابعة" إذا كان ملء الفم وأعاده أو شيئا منه أفطر اتفاقا لأنه خارج أدخله جوفه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 414):
وإن ذرعه القيء وخرج) ولم يعد (لا يفطر مطلقا) ملأ أو لا (فإن عاد) بلا صنعه (و) لو (هو ملء الفم مع تذكره للصوم لا يفسد) خلافا للثاني (وإن أعاده) أو قدر حمصة منه فأكثر حدادي (أفطر إجماعا) ولا كفارة (إن ملأ الفم وإلا لا) هو المختار (وإن استقاء) أي طلب القيء (عامدا) أي متذكرا لصوم (إن كان ملء الفم فسد بالإجماع).
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص145):
أو خرج الدم من بين أسنانه ودخل حلقه) يعني ولم يصل إلى جوفه، أما إذا وصل
فإن غلب الدم أو تساويا فسد، وإلا لا، إلا إذا وجد طعمه.
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/ذیقعدہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


