| 90395 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میری بیوی اور میری کسی بات پر لڑائی ہوئی اور لڑائی بہت زیادہ ہو گئی۔ اس کے گھر والے دوسرے شہر میں رہتے ہیں تو لڑائی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ صلح کروانے آئے ۔تلخ کلامی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ میری بیوی کو گھر لےکر جانے لگے ،تو میں نے ان کو کہا کہ ’’یا تو آپ میری بیوی کو میرے گھر سے ہی لےکر جائیں یاایک اس کی خالہ کے گھر کے علاوہ جو ہمارےرشتےدار ہیں ان کے گھر سے لے جائیں‘‘۔شایداس کےگھروالوں نےیہ نہیں سناہو۔
کیونکہ ان کےرشتےدارصرف ان کی ایک خالہ ہی ہےاوروہ ہمارےگھرآنےسےپہلےان کےیعنی میری بیوی کی خالہ کےہی گھرآئےتھے،شایدسامان وغیرہ بھی ان کےگھرہوتووہ میری بیوی کولےکراسی گھرچلےگئے،جبکہ جاتےہوئے میں نےاپنی بیوی کوکہا: تواگراپنی خالہ کےگھرگئی توتجھےڈائریکٹ تین طلاق،جوکہ کسی کوبھی معلوم نہیں تھاکہ ایسے طلاق ہوجاتی ہےیانہیں؟تومیری بیوی اپنےگھروالوں کےساتھ میری بیوی کی خالہ کےگھرچلی گئی اپنی امی،ابوکےگھرجانے کےلیے۔
نوٹ:میرےساتھ یہ مسئلہ ہےکہ جب میں اداس ہوتاہوں یامیری کسی کےساتھ لڑائی ہوتی ہےتومیرےآدھےسرمیں دردہوتاجوبہت زیادہ ہوتاہے،کبھی بائیں سائیڈتوکبھی دائیں سائیڈپر۔جس کی میں دوائی بھی کھاتارہاہوں اورڈاکٹرکایہ مشورہ تھاکہ نااداس ہوں،ناکسی سےلڑائی کروں ورنہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔توجس وقت لڑائی ہوئی تواس وقت پہلےبھی میرے سرمیں دردہورہاتھااورجب لڑائی ہوئی تواورزیادہ ہوگیاتھا۔میراطلاق دینےکاارادہ نہیں تھالیکن کب کیسےیہ کہہ گیاپتانہیں چلا۔
کیااس سےطلاق ہوگئی اوراگرطلاق ہوگئی توکتنی طلاق ہوئی اوراب رجوع کیسےکیاجاسکتاہے؟مہربانی فرماکرمجھے اس مسئلہ کاپوراحل بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کااپنی بیوی کویہ کہناکہ’’ تو اگر اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ تین طلاق‘‘یہ طلاق کےصریح الفاظ ہیں،جن کےلیےنیت کی ضرورت نہیں ہوتی،لہذاآپ کی بیوی جیسےہی اپنی خالہ کےگھرگئی توتین طلاقیں واقع ہوگئیں۔ ابھی آپ کا ان کے ساتھ کوئی رشتہ باقی نہیں رہااور نہ ہی آپ کے مابین دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 241)
(قوله غير عالم بمعناه) كما لو قالت لزوجها: اقرأ علي اعتدي أنت طالق ثلاثا ففعل طلقت ثلاثا في القضاء لا فيما بينه وبين الله تعالى إذا لم يعلم الزوج ولم ينو بحر عن الخلاصة۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126)
أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 138)
ولو جمع بلفظ الجمع بأن قال: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق ثلاثا لوقع الثلاث سواء دخلتها قبل الدخول بها أو بعد الدخول۔
الاختيار لتعليل المختار (3/ 150)
(والمبانة بالثلاث لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم تبين منه) لقوله تعالى: {فإن طلقها} يعني الثالثة، {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، والنكاح المطلق في الشرع ينصرف إلى الصحيح حتى لو دخل بها في نكاح فاسد لا تحل للأول، وقوله: {حتى تنكح} يقتضي الدخول لما ذكرنا أن النكاح الشرعي هو الوطء، ولقوله (زوجا) ونكاح الزوج لا يكون إلا بالوطء۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
24/ذوالقعدۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


