| 90375 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
(1)کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے دادا، حکیم معین الدین وفات پا گئے ہیں۔ انہوں نے ورثہ میں ایک بیوہ، چھ بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ مرحوم کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟(2) اسی طرح صبغت اللہ عرف صاحب داد وفات پا گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیچھے پانچ بھائی، ماں اور دو بہنیں چھوڑی ہیں۔ ان کی میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟(3) نیز میری دادی، کزبانو بنت محمد صلاح بھی وفات پا چکی ہیں، انہوں نے چار بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ ان کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
وضاحت:تیسری صورت میں دادی کے وفات سے پہلے ایک اور بھائی اور بہن بھی فوت ہوگئےتھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت منقولہ ، غیر منقولہ جو کچھ چھوڑا ہےاور اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلےان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔۔ ان تمام اخراجات کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس میں سے مرحوم(حکیم معین الدین) کی بیوہ کو 12.5 فیصد، ہر بیٹے کو 12.5 فیصد اور ہر بیٹی کو 6.25 فیصد حصہ ملے گا۔ آسانی کے لیے نقشے میں ہر وارث کا حصہ درج ہے
|
ورثہ |
بیوی |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹی |
بیٹی |
|
عددی حصہ |
14 |
14 |
14 |
14 |
14 |
14 |
14 |
7 |
7 |
|
فیصدی حصہ |
% 12.5 |
% 12.5 |
% 12.5 |
% 12.5 |
% 12.5 |
% 12.5 |
% 12.5 |
% 6.25 |
% 6.25 |
2- مرحوم صبغت اللہ کے کل ترکہ سے درج بالا تفصیل کے مطابق حقوقِ متقدمہ (تجہیزوتکفین کےاخراجات،قرض اورایک تہائی تک وصیت)کی ادائیگی کے بعدباقی ترکہ میں سے ان کی والدہ کو 16.66 فیصد، ہر ایک بھائی کو 13.88 فیصد اور ہر ایک بہن کو 6.944 فیصد حصہ ملے گا۔آسانی کے لیے نقشے میں ہر وارث کا حصہ درج ہے۔
|
ورثہ |
والدہ |
بھائی |
بھائی |
بھائی |
بھائی |
بھائی |
بہن |
بہن |
|
عددی حصہ |
12 |
10 |
10 |
10 |
10 |
10 |
5 |
5 |
|
فیصدی حصہ |
% 16.16 |
% 13.13 |
% 13.13 |
% 13.13 |
% 13.13 |
% 13.88 |
% 6.94 |
% 6.94 |
3- اسی طرح میت (کزبانو) کے کل ترکہ میں سے درج بالا تفصیل کے مطابق حقوقِ متقدمہ (تجہیزوتکفین کےاخراجات،قرض اورایک تہائی تک وصیت)کی ادائیگی کے بعدباقی ترکہ کے نو (9) حصے کیے جائیں گے۔جو صرف ان کے زندہ ورثہ (چاربیٹوں اورایک بیٹی )میں تقسیم کیاجائےگا۔ جس میں سے میت کے ہر بیٹے کو 2 حصے (22.22 فیصد) اور بیٹی کو 1 حصہ (11.11 فیصد) ملے گا۔
|
ورثہ |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹی |
|
عددی حصہ |
2 |
2 |
2 |
2 |
1 |
|
فیصدی حصہ |
% 22.22 |
% 22.22 |
% 22.22 |
% 22.22 |
% 11.11 |
ملاحظہ:دادی کی وفات سے پہلے جو ان کا بیٹا اور بیٹی فوت ہوئےہیں جن کا سوال میں ذکر نہیں ان کی میراث میں بھی دادی کاحصہ بنتاہےوہ بھی دیناچاہیے۔ آسانی کے لیے نقشے میں ہر وارث کا حصہ درج ہے۔
حوالہ جات
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُمۖ لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ....وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكتُم إِن لَّم يَكُن لَّكُم وَلَدفَإِن كَانَ لَكُم وَلَد فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ مِّنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَو دَينٖۗ﴾ [النساء: 12،11]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/775)
ثم شرع في العصبة بغيره فقال (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن ) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن).
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ذوالقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


