| 90409 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے مضاربت میں کوئی فاسد شرط لگائی مثلاً یہ کہ مضارب کیلئے فکسڈ نفع (مثلا دس ہزار روپے ماہانہ) طے کر دیا، جس سے مضاربت کا معاملہ فاسد ہو گیا ، اس حوالے سے کتب فقہ میں مذکور ہے کہ ایسی صورت میں نفع سارا رب المال کا ہو گا اور مضارب کو اس کے عمل کی اجرت مثل ملے گی ،۔اب سوال یہ ہے کہ : رب المال کو جو نفع ملے گا وہ اس کے لیے حلال طیب ہو گا یا اس میں کسی طرح کا خبث ہو گا ؟ اگر حلال ہے تو اس کی دلیل ؟ اگر اسمیں خبث ہے تو اگلا حکم کیا ہے ؟ خود استعمال کر سکتا ہے؟ یا فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا ضروری ہے ؟ یا کچھ اور ؟ براہ کرم مدلل و محقق جواب عنایت فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عقدمضاربت میں فاسد شرط لگانے سے مضاربت اپنی اصل ماہیت پر باقی نہیں رہتی، بلکہ اجارہ فاسدہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اس صورت میں عامل /مضارب طے شدہ نفع کے تناسب سے شریک نہیں رہتا، تاہم اپنے عمل کے بدلے اجرتِ مثل کا مستحق ہوتا ہے، اصل سرمایہ چونکہ مالک کاہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی مالکِ مال ہی کا حق ہوتا ہےکیونکہ مال میں ہونے والا اضافہ اسی کے سرمایہ کا ثمرہ شمار ہوتا ہے اور یہ نفع مالک کے لیے حلال ہے۔
خلاصہ یہ کہ رب المال کے لیے یہ نفع حلال ہے ۔اس لیے بھی کہ سارا سرمایہ اس کا تھااور یہ نفع اسی کی بڑھوتری ہے۔اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے شریک کو اس کی اجرت معروضہ اداکرچکاہے۔
حوالہ جات
و في الهداية(6/167):
قال (فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله) لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر فتنقطع الشركة في الربح، وهذا لأنه ابتغى عن منافعه عوضا ولم ينل لفساده، والربح لرب المال لأنه نماء ملكه، وهذا (وجوب أجر المثل)هو الحكم في كل موضع لم تصح المضاربة ،ولا تجاوز بالأجر القدر المشروط عند أبي يوسف خلافا لمحمد كما بينا في الشركة، ويجب الأجر وإن لم يربح في رواية الأصل لأن أجر الأجير يجب بتسليم المنافع أو العمل وقد وجد.
وتحتہ في نتائج الأفكار تكملة فتح القدير(8/471):
والمقصود بالمسألة الأولى بيان أن عقد المضاربة يفسد باشتراط دراهم مسماة لأحد المتعاقدين، وبالثانية بيان أن حكم المضاربة الفاسدة وجوب أجر المثل للعامل فكأنه قال: إذا عرفت فساد عقد المضاربة باشتراط دراهم مسماة لأحدهما فاعلم أن حكم فساد عقد المضاربة باشتراط ذلك وجوب أجر المثل للعامل.
وفي الدر المختار(18/182):
و حكم المضاربة:و إجارة فاسدة إن فسدت،فلا ربح للمضارب حينئذ،بل له أجر مثل عمله مطلقاً،ربح أو لا،بلا زيادة على المشروط خلافا لمحمد و الثلاثة.
و ذكر في تقريرات الرافعي:
و قد يجاب:بأن هذا العقد لما كان فاسدا كان ما سمي فيه محظورا،فقطع النظر عما هو موجَب المضاربة، و عُوّلَ على ما عُيّن معه على أنه أجر مثل في إجارة لا موجب مضاربة، و لهذا قالوا:هذه إجارة في صورة مضاربة.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/ذوالقعدہ/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


