03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیورات پر زکٰوۃ کا حکم
90357زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

سوال:( 1)میری زوجہ بنت مشتاق احمد کا انتقال اپریل  2009 میں ہو گیا تھا۔ میری زوجہ نے تمام زیورات دونوں اطراف  کے 5%  8 اپنی  والدہ کے پاس امانت کے طور پر رکھوا دیے تھے، ان کی والدہ نے وہ زیور اپنے لاکر میں رکھ دیے تھے، باقی    زیورات میں سے  15%  میرے پاس تھے۔ میرے  دوبچے  ؛ ایک لڑکا  اور ایک لڑکی ہے۔میری زوجہ کے انتقال کے چو تھے   دن  ان  کی والدہ    نے مجھے  بلایا  اور بتایا  کہ  زوبی  کے جو بھی زیور ان کے پاس  ہیں، وہ لاکر  میں رکھے ہیں  ۔ جب  بچے بڑے ہو جائیں   تب دوں گی۔

اس میں میری اجازت شامل نہیں تھی ، میں  نے  اُن  سے  کہا   :یہ  مجھے واپس کردیں ،تو میری ساس کا یہ جواب تھا کہ  یہ   میرے    ہی پاس رہنے دیں ، جب بچوں کی شادیاں ہوں گی تب دوں گی ۔ اس وقت  بچوں  کی عمر  ؛لڑکے کی 4 سال اور لڑکی کی 5 سال تھی  ۔یہ بات میں نے اپنے گھر والوں کو بتائی  تو انھوں نے مجھے روک دیا کہ ابھی  رہنے دو،  آپس  میں بات خراب ہوگی ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ میری ساس نے اپریل  2025 میں مجھے   اور بچوں کو بلایا اور جو زیورات اُن کے پاس امانت تھے، مجھے واپس کیے ۔15 سال کے عرصے تک جو زیور ان کے پاس رہا ،بقول میری ساس کے انھوں نے  ایک سال کی زکٰوۃ دی ہے، باقی انہوں نے نہیں دی ،اور مجھے کہا کہ یہ بچوں کے نام سے رکھا تھا  اس لیے  زکوۃ نہیں بنتی ۔

 آپ سے التماس ہے کہ مجھے بتایا جائے  کہ ان تمام سالوں  کی زکٰوۃ کا  کیا کیا جائے ؟ کیونکہ زیور میری ملکیت میں ہی نہیں تھے  اور کتنا زیور تھا ،یہ بھی مجھے نہیں معلوم تھا ۔اب جب میری ملکیت میں اپریل  2025میں آیا ہے،تو میں نے وزن کروایا اور  اب مجھے معلوم ہوا  کہ کتنی مالیت کا زیور ہے۔زیور کا وزن کل ملا کر جو میرے پاس تھا اور جو اُن کے پاس تھا   27.480 تولہ ہے ،جس کی مالیت آج کل کے حساب سے  9,642,829 روپے  ہے۔ ہم نے زکٰوۃ  اب اگلے سال اپریل2026  میں دینی ہے جو اس وقت کی  مالیت کے حساب سے ہوگی ۔

) 2( :گزارش یہ ہے کہ جو زیور میرے پاس 5 1 سال سے نہیں تھا ،کیا مجھے اُس کی بھی زکوۃ دینی ہوگی یا پھر میری ملکیت میں آنے کے بعد سے زکوۃ دینے کا مجاز ہوں گا؟  اب جو پچھلے 15 سال سے میری ساس کے پاس زیور تھا اُس کی زکٰوۃ کا کیا کیا جائے کیا انھوں نے ادا کرنی  ہوگی یا مجھے ؟

)   (3     :   ا ب میں نے تمام زیور دونوں بچوں کے نام سے تقسیم کر کے رکھ دیا ہے ، آپ   یہ بتائیں کہ بچے ابھی زکٰوة دینے کے قابل نہیں ہیں ۔وہ زیور اُن کے نام سے رکھ دیے   گئے جو کہ میرے پاس ہے۔ کیا بچوں کے  زیور  کی زکٰوۃ مجھے دینی ہوگی جبکہ یہ زیور میں استعمال نہیں کروں گا  ؟ 

ازراہ   کرم مجھے بچوں میں تقسیم کا نصاب بھی صحیح بتادیں ۔

میں زیور کی زکٰوۃ ادا نہیں کر سکتا  ، کیونکہ میری  مالی حیثیت  بہتر نہیں  ہے اور   میرا کوئی روزگار بھی نہیں  ہے، میرے گھر کا خرچہ میرے  بھائی اٹھاتے ہیں ۔ اس صورت میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی زکٰوۃ   میری صورت  حال  دیکھ کر بھی بنتی ہے، تو کیا زکٰوۃ  زیور بیچ کر ادا کرنی پڑے گی  ؟  اس مسئلہ کو خاص طور پر آپ تفصیل سے بتائیں ۔

اُمید کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی میں نے بتایا ہے حلفا درست ہے ،میں ہر چیز واضح طور پر بتادی ہے، کمی  بیشی کو معاف کردیا جائے۔اب بچوں کی عمریں  ؛لڑکا 20سال  ، لڑکی 21 سال  اور  دونوں کی  پڑھائی  چل   رہی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1,2)  سوال میں مذکورہ بیان کے مطابق  مرحومہ   کے ترکہ میں موجود   زیورات جو کہ اب تک میراث میں تقسیم نہیں کیے گئے،    ان پر  اس وقت تک     کوئی زکٰوۃ واجب نہیں  ہوگی  جب تک  انہیں  شرعی طور پر    موجود ورثاء (شوہر ،والدہ،بیٹی ،بیٹا) میں تقسیم نہ کردیا جائے۔تقسیم کے بعد   جس  و ا رث  کے حصے میں وہ مال آئے اگر وہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو دیگر اموال کے ساتھ ملاکر اس  مال کی موجودہ مالیت  کی زکوۃ  بھی  ادا کرنی ہوگی۔ بصورتِ دیگر، اگر وہ رقم   بقدرِ نصاب  ہو اور تقسیم کے بعد ہر وارث کے پاس اس پر مکمل سال گزر جائے ،تب زکٰوۃ کی ادائیگی  لازم ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں  گزشتہ سالوں کی زکٰوۃ کی ادائیگی کسی پر بھی لازم نہیں ۔البتہ ذیل میں تقسیم میراث کا نقشہ  درج کیا گیا ہے، جس کے مطابق اگر ان زیورات کو تقسیم کر کے ہر ایک وارث کی ملکیت میں دے دیا جائے ،تو اُس وقت سے ہر ایک وارث کی پوری ملکیت   ثابت ہوجائے گی ۔

پھر جس وارث کی ملک میں  موجودہ سونا سمیت   کچھ ناکچھ رقم یا چاندی یا مال تجارت ہو اور ان کی مجموعی مالیت  ساڑھے باون تولہ چاندی  کی مالیت جتنی ہو تو  ان پر اپنے ذمے کی  زکوٰۃ   فرض ہوگی ، جس کی ادائیگی کے لئے اگر رقم موجود نہ ہو تو موجود سونے میں کچھ یا  کوئی بھی سامان فروخت کرکےزکوٰۃ  ادا  کی جاسکتی  ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 10):

ووجوب الزكاة وظيفة الملك المطلق وعلى هذا يخرج قول أبي حنيفة في الدين الذي وجب للإنسان لا بدلا عن شيء رأسا كالميراث بالدين والوصية بالدين، أو وجب بدلا عما ليس بمال أصلا كالمهر للمرأة على الزوج، وبدل الخلع للزوج على المرأة، والصلح عن دم العمد أنه لا تجب الزكاة فيه.

و في  الدر المختار (ص126):

(وشرط افتراضها: عقل، وبلوغ، وإسلام، وحرية) والعلم به ولو حكما ككونه في دارنا.(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبه للحول لحولانه عليه (تام)..... (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة.                                                         فتاوی تاتارخانیہ :كتاب الزكوة

"الزكوة واجبة علي الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول.

حاشية ابن عابدين (2/ 259):

(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام).

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

24/ذی القعدہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب