03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ، سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
90150میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میں اپنے والد کی پراپرٹی وارثین کے باہمی مشورے سے تقسیم کرنے جا رہا ہوں۔ اس سلسلے میں آپ حضرات کی خدمت درکار ہے۔ شرعی اصولوں کے تحت کس کا کتنا حصہ بنتا ہے، آپ ہمیں تحریری طور پر بتا دیجیے۔کل مالیت 27,500,000 کی ہے۔ کل وارث یہ ہیں :والدہ: (1)بہنیں: (3) بھائی: (7) ، ان کا حصہ شرعی طور پر بتا دیجیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حقوق متعلقہ بالترکہ (کفن دفن کے اخراجات، قرض (اگرہو) اورثلث تک وصیت ( اگر کی ہو)کےعلی الترتیب نفاذ کےبعد اگرمرحوم کے انتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تومرحوم کے مذکورہ  ترکہ میں سے مرحوم کی بیوہ کو% 12.5فیصد( 3,437,500)سات بیٹوں میں سے ایک کو 10.294%فیصد (2,830,882.35)اورتین بیٹیوں میں سے ہرایک کو 5.147% (1,415,441.18) دیاجائے۔

حوالہ جات

 قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

:قال اللہ تعالی :

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن   [النساء/11]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

08/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب