03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکا بیوی کو”تم میری طرف سے آزادہو”کہنے کاحکم
90056طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر ایک شخص دبئی میں کام کرتا ہے، اس کی بیوی زیادہ تر اپنے میکے میں رہتی ہے۔ خاوند کی خواہش ہے کہ وہ سسرال میں رہے، لیکن کئی مرتبہ کہنے کے باوجود وہ سسرال کم ہی رہتی ہے۔ ایک دن فون پر اسی حوالے سے خاوند اور بیوی میں تکرار اور بحث ہوگئی۔ بیوی کے سسرال میں نہ رہنے کی ضد پر خاوند نے کہا کہ: 'تم میری طرف سے آزاد ہو، یہاں رہو یا وہاں رہو۔

اس پر بیوی کا کہنا ہے کہ ان الفاظ کی وجہ سے طلاق واقع ہو چکی ہے اور وہ اب اپنے خاوند کے لیے حرام ہو چکی ہے۔ اس شخص نے یہ مسئلہ ایک مفتی صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ خاوند نے قسم کھا کر بتایا کہ اس کی طلاق کی نیت نہیں تھی۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں اور تحریری جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ جھگڑا جائے قیام (رہائش) کے مسئلے پر تھا اور شوہر نے یہ الفاظ ﴿تم میری طرف سے آزاد ہو﴾ اسی سیاق و سباق میں استعمال کیے تھے، اس لیے بظاہر اس نے یہ الفاظ رہائش کے حوالے سے اختیار دینے کے لیے استعمال کیے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود قسم اٹھا کر اس بات کا اقرار بھی کر رہا ہے، اور جملے کے آخر میں کہے گئے الفاظ "یہاں رہو یا وہاں رہو" بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ لہٰذا، مسئولہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ مذکورہ مفتی صاحب کی بات درست ہے، اور بیوی کا یہ کہنا کہ" ان الفاظ کی وجہ سے طلاق واقع ہو چکی ہے اور وہ اب اپنے خاوند کے لیے حرام ہو چکی ہے" شرعاً درست نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 437):

"وأما في الديانة فهي معتبرة، حتى إذا نوى به الطلاق من وثاق لايقع ديانةً. اهـ. أقول: وكذا صرح بذلك في البحر و الأشباه، وعليه فالفرق بين الصريح والكناية أن الأول لايحتاج إلى النية في القضاء فقط و يحتاج إليها ديانة، والثاني يحتاج إليها فيهما، لكن احتياج الأول إلى النية ديانة معناه أن لاينوي به غير معناه العرفي، فلو نوى الطلاق من الوثاق: أي القيد لا يقع لصرفه اللفظ عن معناه. أما إذا قصد التلفظ بأنت طالق مخاطبًا به زوجته ولم يقصد به الطلاق ولا غيره فالظاهر الوقوع قضاء وديانة لأن اللفظ حقيقة فيه، وبدليل أنه لو صرح بالعدد لايدين كما لو نوى الطلاق عن العمل فيقع قضاءً و ديانةً."

وفی امداد الاحکام(2/470)

اوراگرکلام میں عدمِِ ارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہوجائےتوپھریہ نہ  صریح طلاق سے ہے ،نہ کنایات سے،مثلاً یوں کہاجائےکہ تو آزادہے جوچاہے کھاپی اورمیں نے اپنی بیوی کو آزاد کیا ہےچاہے وہ میرے پاس رہے یا اپنے گھر اوروہ آزاد ہے جب اس کاجی چاہے آوے الخ

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

    27/10/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب