| 90463 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میری شادی 2017میں ہوئی تھی ۔ شوہر آسٹریلیا میں تھےاور تین مہینے کے لیے پاکستان آئے تھے ،پھر شادی کرکے واپس چلے گئے۔ شروع شروع میں بات چیت ہوئی ،پھر بند کر دی ۔صرف ایک دفعہ پیسے بھیجے،پھر کبھی پیسے بھی نہیں دیے ۔میں سسرال میں ہی رہتی تھی۔ اسی دوران میرا ایک حمل بھی ضائع ہوا ۔
ڈیڑھ سال بعد آئے بھی تو ماں باپ کو حج کرانے کے لیے۔اس دوران بھی نہ بات چیت ہوئی اور نہ کوئی توجہ دی۔ پھر حج پر والدین کو لے گئے۔حج سے واپس آئے تو دو تین دن بعد واپس آسٹریلیا کی فلائٹ سے چلے گئے ۔ میں دسمبر 2019 میں اپنی والدہ کے پاس آگئی ،او ر پھر 2022 میں میں نے خلع دائر کر دی۔ اس دوران بھی نہ کوئی بات چیت ہوئی اور نہ مصالحت کی کوشش کی گئی ۔
اسی وجہ سے، جب نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ذمہ دا ری کا ا حسا س ،توازدو ا جی رشتہ ختم کرنا ہی بہتر ہے، اس لیے میں نے خلع دائر کی ۔ عدالت نےشوہر کو بلایا، سمن جاری کیے اوران کے گھر پر جا کر لگادیے ،مگر ان کی طرف سے نہ کوئی وکیل آیا اور نہ ہی گھر کی طرف سے کوئی نمائندہ آیا۔ عدالت نے مجھے خلع جاری کردی ہے ۔اب یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ کیا طلاق ہوگئی یا نہیں؟ کیا اسلام کی رو سے میں اب دوسرا نکاح کر سکتی ہوں ؟ میں نے خلع کی ڈگری جاری ہونے کے بعد عدت بھی مکمل کرلی ہے ۔
تنقیح :مستفتی نے فون پر بتایا کہ شوہر عدالتی فیصلہ پر راضی ہے اور وہ نکاح ختم کرناچاہتا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مفتی غیب نہیں جانتا ،وہ سائل کے سوال کے مطابق جواب دیتاہے ۔لہذا اگر سائل نے غلط بیانی کرکے اپنے مطلب کا فتوی لےلیا تو اس کا گناہ سائل کو ہو گا، مفتی پراس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی ۔نیز غلط بیانی کرکے فتوی لے لینے سے مسئلہ کے شرعی حکم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،بلکہ شرعی حکم وہی رہتا ہے جو صحیح صورتِ حال کے مطابق ہوتا ہے۔
اس کے بعد یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شرعا ً خلع کے درست ہونے کے لئے شوہر اور بیوی کی باہمی رضامندی ضروری ہے۔تاہم ،سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق ، منسلکہ عدالتی فیصلہ کے بعد شوہر کا نکاح ختم کرنے پر راضی ہونا،خلع کے فیصلہ پر رضامندی کی علامت ہے ،جس کا اقرار شوہر مستفتی کے سامنے بھی کرچکا ہے، جبکہ شرعی اعتبار سے میاں بیوی کی باہمی رضا مندی سے خلع کا فیصلہ معتبر ہوتاہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں عدالت کی طرف سے جاری شدہ خلع کا فیصلہ شرعاً درست ہے، اور اس کی وجہ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے۔ شوہر کا عدالتی فیصلے پر رضامندی کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے، اورعدت گزرنے کے بعد وہ گواہوں کی موجودگی میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
قال تعالی:
{وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [البقرة: 229]
وفي بدائع الصنائع :
"وأما ركنه فهو الايجاب والقبول لانه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول".
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 149):
ثم الإجازة إنما تلحق تصرف الفضولي عندنا بشرائط.
(منها) أن يكون له مجيز عند وجوده فما لا مجيز له عند وجوده لا تلحقه الإجازة؛ لأن ما له مجيز متصور منه الإذن للحال، وبعد وجود التصرف فكان الانعقاد عند الإذن القائم مفيدا فينعقد، وما لا مجيز له لا يتصور الإذن به للحال، والإذن في المستقبل قد يحدث، وقد لا يحدث فإن حدث كان الانعقاد مفيدا، وإن لم يحدث لم يكن مفيدا فلا ينعقد مع الشك في حصول الفائدة على الأصل المعهود أن ما لم يكن ثابتا بيقين لا يثبت مع الشك، وإذا لم ينعقد لا تلحقه الإجازة؛ لأن الإجازة للمنعقد، وعلى هذا يخرج ما إذا طلق الفضولي امرأة البالغ، أو أعتق عبده أو وهب ماله أو تصدق به أنه ينعقد موقوفا على الإجازة؛ لأن البالغ يملك هذه التصرفات بنفسه فكان لها مجيزا حال وجودها فيتوقف على إجازة المالك،»
صدام حسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱/ذی الحجۃ /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


