03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دیگر ورثہ کی اجازت کے بغیر  دو بھائیوں  کا ترکہ کے    گھر کو کرایہ پر دے دینا 
90544میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

اب ایک بھائی (عابد ) جو  اس گھر میں رہتے ہیں،انہوں نے   بجائے اس کے کہ باپ کی ملکیت کو ورثہ میں تقسیم کر دیا جائے ، اس گھر کے نیچے والے پورے حصے کو تین سال کے لیے کرایہ  پر دے دیا ہے، کیا ان کا ایسا کرنا ہم سب کی مرضی کے بغیر جائز ہے ؟  

وضاحت: سائل نے  نیچے والے پورے گھر کو کرایہ پر دینے کے بارے میں یہ وضاحت کی کہ 2023ء میں یہ فیصلہ عابد بھائی اور ممتاز بھائی نے بہنوں اورباقی دو بھائیوں سے پوچھے بغیر کیا،اس وقت  صرف یہی دونوں بھائی گھر میں رہ رہے تھے ، کیونکہ افضل بھائی تواپنی فوجی ملازمت کے سبب (1979 ء  سے) گھر سے دور تھے، سب سے چھوٹا بھائی بھی  پرائیویٹ جاب کے سبب دوسال پہلے 2020/2021ء میں کراچی شفٹ ہو چکا تھا ،اس کی وجہ یہ  بھی بنی کہ بڑے بھائی ریٹائر ہوچکے تھے اور ان کے بیٹے کی جاب کراچی میں لگ چکی تھی،اس لیے انھوں نے حیدرآباد کے اس گھر کو کرایہ پر دے کر کراچی میں کرایہ کا فلیٹ لیا، تاکہ یہاں کا کرایہ کراچی کے فلیٹ میں دے سکیں،اور  کسی پریشانی کے بغیر گھر کا نظام قائم رہے ۔ باقی رہے اکیلے عابد بھائی تو وہ اُس وقت گھر کے اوپر والے ایک حصے  میں رہتے تھے، ایک سال  بعد وہ بھی پورے گھر کو کرایہ پر دے کر وہیں کراچی  میں بڑے بھائی کے پڑوس میں شفٹ ہو گئے ۔ اب گھر کاکل کرایہ دو لاکھ بیس ہزار روپے ماہانہ ہے ۔

اس تمام کار روائی  میں ہم بہنوں اور باقی دو بھائیوں سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا اور نہ ہی ان کی مرضی اب تک ہے۔ کرایہ ممتاز اور عابد بھائی لیتے رہے، پھر ہم سب بہنوں اور دو بھائیوں نے بہت اعتراضات کیے، گھر بیچ کر وراثت کی تقسیم پر زور دیا تو ازراہ کرم چھوٹے بھائی اعجاز کو کرائے  میں سے کچھ حصہ دینا شروع کیا ،جو ان کے مطابق اس کا حصہ بنتا ہے،جبکہ  وراثت کی تقسیم کا مسئلہ وہیں پر اٹکا ہوا ہے۔کرائے  کامعاہدہ ( agreement )دسمبر 2026ء  تک ہے،  اگر یہ معاملہ چلتا رہا تو پھر دوبارہ  نیا معاہدہ جاری ہو  جائے  گا ۔ہم  چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے شرعی حکم کے مطابق طے ہو جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایک مشترکہ مکان میں کسی شریک کے رہائش رکھنے میں شرعی لحاظ سےاس پر دوسرے شریک کے حصہ کا کرایہ لازم نہیں ہوتا،البتہ اسے کرایہ پر دینے کی صورت میں کرایہ تمام شرکاء میں ان کی ملکیت کے تناسب سےتقسیم کیا جائے گا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ  میں  چونکہ  دو بھائیوں نے نیچے والے مشترکہ گھر کو کرایہ پر دیا ہے، اس لیے اب تک اور آئندہ بھی تقسیم سے پہلے پہلےاس سے ملنے والا کرایہ سب ورثہ میں ان کے میراث میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا،اس لیے (پہلے سوال کے جواب میں بتائے گئے) ہر وارث کےحصۂ میراث کے مطابق اب تک کے کرایہ کا حساب کتاب برابر کر لیا جائے ،البتہ اوپر والے گھروں کا کرایہ ان کے دو مالک بھائیوں کو ہی ملے گا۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 206،207):

(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم ...أما في سكنى الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج، فيعتبر كل واحد من أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال. مثلا لو أعار أحد الشريكين البرذون المشترك ،أو أجره بدون إذن الآخر، وتلف البرذون في يد المستعير أو المستأجر فللآخر أن يضمنه حصته... أما إذا سكن أحد صاحبي الدار المشتركة فيها بلا إذن الآخر مدة فيكون قد سكن في ملكه،فلذلك لا يلزمه إعطاء أجرة لأجل حصة شريكه ،واذا احترقت الدار قضاء فلا يلزمه ضمانها. (المادة 1077) لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر وقبض الأجرة يعطي الآخر حصته منها و يردها إليه.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

2/ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب