| 90572 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
ایک سال پہلے زید کو ایک طلاقِ بائن کا فتویٰ ملا تھا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہوا کہ زید کی بیوی کال پر طلاق مانگ رہی تھی اور زید نے کال کاٹ دی کیونکہ وہ اسے طلاق نہیں دینا چاہتا تھا۔ پھر زید نے سوچا کہ وہ اپنی بیوی کو ڈرائے گا تاکہ وہ دوبارہ طلاق نہ مانگے۔ پھر 2–3 منٹ بعد زید کی بیوی نے اسے کال کی، مگر اس بار اس نے طلاق نہیں مانگی۔ وہ کہتی ہے: “کیا ہوا؟” اور زید روتے ہوئے کہتا ہے: “جو تم چاہتی تھی وہ ہو گیا” “اب تمہارا اور میرا کوئی رشتہ نہیں رہا” “تم آزاد ہو” پھر زید کی بیوی رونے لگتی ہے اور زید کہتا ہے: “میں نے آپ کو کہا تھا مت مانگو” “آپ نے کیوں مانگی؟” اب زید کو شک ہو رہا ہے کہ اس کے بعد اس نے یہ تو نہیں کہا: “اب آپ کو مل گئی ہے” یا “اب آپ کو مل چکی ہے” اور اس کے بعد زید کی بیوی کو گھبراہٹ کا دورہ پڑا، تو زید نے بیوی کو قسم کھا کر کہا کہ اس نے کوئی طلاق نہیں دی اور نہ ہی اس نے وہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ نوٹ کریں کہ جتنے بھی الفاظ کہے گئے، ان سے زید کی طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔ اب براہِ کرم بتائیں کہ کیا اس میں ایک طلاقِ بائن کا ہی فتویٰ رہے گا؟ صرف آخری جو الفاظ ہیں “اب آپ کو مل گئی ہے” یا “اب آپ کو مل چکی ہے” جن کا زید کو شک ہو رہا ہے، کیا ان سے مسئلے پر کوئی فرق پڑے گا؟ اگر زید نے یہ الفاظ کہے بھی ہوں تو اس میں طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب بیوی نے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اور شوہر نے پہلے فون بند کردیا، پھر بیوی کے دوبارہ رابطہ کرنے پر شوہر نے یہ جملہ کہا کہ ’’جو تم چاہتی تھی، وہ ہو گیا‘‘، تو چونکہ یہ الفاظ بیوی کے مطالبۂ طلاق کے جواب میں کہے گئے، اس لیے ان سے ایک طلاق واقع ہوگئی۔
بعد ازاں شوہر نے یہ بھی کہا کہ ’’اب تمہارا اور میرا کوئی رشتہ نہیں رہا، تم آزاد ہو‘‘،یہاں پر لفظ’’ اب ‘‘ سے معلوم ہورہاہے کہ یہ ما قبل پر تفریع اور اسی کی تشریح ہے ،لہذا اس سے کوئی مستقل طلاق واقع نہیں ہوگی،تاہم ’’رشتہ نہ رہنے‘‘ اور ’’آزاد ہونے‘‘ سے عرفاً رشتۂ نکاح سے آزادی مراد لی جاتی ہے، اور نکاح کے رشتے سے اس طرح کی آزادی طلاقِ بائن ہی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے،اور پرانا فتوی ٹھیک ہے۔
حوالہ جات
وفي الهندية(1/356):
وفي المنتقى:امرأة قالت لزوجها:طلقتي،فقال الزوج:قدفعلت،طلّقت.
وفي الشامية(3/297):
(قوله وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع كما في اعتدي ثلاثا وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق.
الدر المختارشرح تنویر الأبصار (9/86):
كتاب الطلاق:(هو)لغة:رفع القيد،لكن جعلوه في المرأة طلاقا و في غيرها إطلاقا،،،(رفع قيد النكاح في الحال)بالبائن(أو المآل)بالرجعي(بلفظ مخصوص).
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/ذیقعدۃ/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


