| 90525 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
چند سال قبل ہمارے نانا جی نے مدرسہ اور مسجد کے لئے ایک زمین وقف کی اور وقف کچھ اس طرح کی کہ نیچے تہہ خانہ میں لڑکوں کا مدرسہ ہو گا اور اوپر مسجد ہوگی ۔ پھر اپنی برادری کے لوگوں کو جمع کر کے ان سے چندہ بھی مسجد کے نام پر لیا۔ پھر ان کی زندگی میں تہہ خانہ میں مدرسہ بن کر کھل گیا اور اوپر مسجد بھی بنی لیکن با قاعدہ نماز شروع نہ ہو سکی کیونکہ قریب میں ایک مسجد موجود تھی پھر ہمارے نانا جی (واقف) کا انتقال ہو گیا ۔ ان کے انتقال کے بعد اس مسجد میں باقاعدہ پانچ وقت نمازیں شروع ہوئیں ۔ پھر قاری صاحب لڑکوں کو اوپر مسجد میں پڑھانے لگے تو نیچے مدرسہ ویران ہو گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد لڑکوں کے مدرسے کا دروازہ الگ کر کے اس میں بنات کا مدرسہ کھولا جو اب تک وہاں جاری ہے ۔اب اس کے بارے میں سائل کے چند سوالات ہیں۔الف : کیا واقف کا اس طرح وقف شرعا درست تھا ؟ب : کیا اس صورت میں یہ اوپر والی مسجد شرعی مسجد کہلائے گی اور اسمیں اعتکاف جائز ہوگا۔ج : کیا واقف کی وفات کے بعد اس مدرسہ کو بنات کو دینا جائز تھا ؟ یعنی یہ شرط الواقف کنص الشارع کے خلاف تو نہیں ؟(۴) د : اب اس مدرسے کا کیا حکم ہے ؟ یعنی مسجد کے نیچے بنات کا مدرسہ درست ہے؟) اگر مسجد شرعی مسجد ہوگی تو کیا اس کے نیچے مدرسہ میں حائضہ عورت کاجائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب مسجد کی تعمیر سے پہلے نچلے حصے (تہہ خانہ وغیرہ) کو اس نیت سے بنایا گیا کہ وہاں دینی تعلیم کا سلسلہ قائم ہوگا، تو چونکہ بچوں کو قرآن سکھانا بھی مصالحِ مسجد میں سے ہے، اس لیے اس حد تک گنجائش ہے کہ تہہ خانے کو مکتب کے لیے استعمال کیا جائے۔ البتہ اس مکتب پر مسجد کے احکام جاری نہیں ہوں گے،بلکہ یہ مصالح مسجد میں سے شمار ہوگا ،یہ تہہ خانہ شرعی مسجد نہیں ہوگا،لہذا اس جگہ اعتکاف والے لوگ نہیں جاسکتے اور خواتین ناپاکی کے ایام اس جگہ جاسکتی ہیں ۔تا ہم اوپر والا حصہ مسجد شرعی کے حکم میں ہے اور اس پر مسجد کے احکام جاری ہوں گے۔
باقی اصالۃ واقف کے مد نظر نیچے مکتب ہی بنانا تھا،لہذا وہ بچوں کا ہو یا بچیوں کا،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،یہ واقف کی شرط کے خلاف نہیں ۔
حوالہ جات
وفي الدر المختار(4/339):
(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس.
و في الشامية:وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا. اهـ. شرنبلالية.قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى :وأن المساجد لله(سورۃ الجن/18)بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية. اهـ.
و فی البحر الرائق (2/ 36) :
قال الله تعالى :وأن المساجد لله(سورۃ الجن/18)وما تلوناه من الآية السابقة ،فلا يجوز لأحد مطلقا أن يمنع مؤمنا من عبادة يأتي بها في المسجد لأن المسجد ما بني إلا لها من صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن ولا يتعين مكان مخصوص لأحد حتى لو كان للمدرس موضع من المسجد يدرس فيه فسبقه غيره إليه ليس له إزعاجه وإقامته منه.
وفی حاشية ابن عابدين (6/ 428) :
قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة، وفي الخلاصة تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/11/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


