03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینک میں ملازمت کا حکم
90508سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں ۔یہاں ایک تو مرکزی بینک ہے جس کوحکومتی یعنی اسٹیٹ بینک کہا جاتا ہے، یعنی حکومت کل پاکستان کے ہر اقسام کے بینکوں کو اپنے سرکاری اسٹیٹ بینک کے ذریعے کنٹرول کیا کرتی ہے ۔تمام پالیسی سازی اور احکامات بینکاری کی دنیا میں اسٹیٹ بینک سے جاری ہوتے ہیں ۔اسٹیٹ بینک کے زیر نگرانی کئی اقسام کے بینک ملک میں کام کر رہے ہیں ۔ایک قسم تو روایتی بینکوں کی ہے ۔غالب ترین اکثریت انہی روایتی بینکوں کی ہے ۔ان بینکوں میں انٹرسٹ سود کا کاروبار اسٹیٹ بینک کے احکامات اور پالیسی کے اندر رہتے ہوئے کیا جاتا ہے ۔صرف اکیلے سود ہی کا کاروبار ان روایتی بینکوں میں بھی نہیں ہوتا کہ چوبیس گھنٹے صرف سود ہی کا کاروبار کرتے ہوں بلکہ انکے اندر بہت سے ایسے بھی محکمے ہوتے ہیں جن میں سود کا کاروبار ہوا کرتا ہے ۔بہت سے ایسے کام بھی یہ روایتی بینک کیا کرتے ہیں جنکا سود سے کوئی دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا ۔ دوسری قسم کے بینک وه ہیں جو اسٹیٹ بینک سے لائسنس ہی اسلامی بینکاری کا حاصل کر کے قائم  کیےگئے ہیں۔ان بینکوں میں بہت بڑے مدارس سے باقاعدہ سند یافتہ مفتیان عظام کے بورڈ قائم ہوتے ہیں کہ جو فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ انکی زیر نگرانی بینک کے تمام معاملات چل رہے ہیں اور سود کا کوئی دخل نہیں ۔تیسری قسم ان بینکوں کی ہے جو کھلے تو روایتی بینکاری کے ہی لائسنس کی بنیاد پر تھے پر انہوں نے بھی مستند ترین مفتیان عظام کی خدمات حاصل کر کے اسٹیٹ بینک سے اپنی کچھ بینک برانچوں کو روایتی سے اسلامی نظام پر منتقل کرنے کی اجازت حاصل کر رکھی ہے ۔ان بینکوں کی بھی تمام اسلامی برانچوں میں بڑے بڑے مدارس سے فارغ التحصیل مستند ترین مفتیان عظام کے فتاویٰ موجود ہوتے ہیں کہ اس بینک کی اسلامی برانچوں میں تمام معاملات سود سے مکمل پاک رکھے جاتے ہیں ۔ گزارش یہ ہے کہ ایک عام شخص جو ان بینکوں میں ملازمت کرتا ہے اسکا شرعی حکم کیا ہوگا ۔ براہ کرم الگ الگ راہنمائی فرمائیں کہ اسٹیٹ بینک۔روایتی بینک اسلامی بینک اور روایتی بنکوں کی اسلامی برانچوں کے ملازمین کی تنخواہ کے  احکام بتائیں اور جن کی حرام ہو وه حج زکوٰۃ بھی حرام ہی سے کریں تو ثواب کیونکر پائیں گے اور کیا مجبوری انکی شرعی معذوری ہوگی کہ نوکری جاری رکھیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اسٹیٹ  بینک صرف ایک بینک نہیں ہے بلکہ ایک  پالیسی ساز ادارہ و ریگولیٹری اتھارٹی  ہے جس میں مختلف    شعبے  کام   کرتے ہیں لہٰذا اس میں  سودی  لین دین  میں عملا شرکت  کرنے والے شعبوں کے علاوہ  دوسرے شعبوں میں ملازمت کرنا جائز ہے ۔ اسی طرح اسلامی بینکوں میں ہر قسم کی  ملازمت  کرنا جائز ہے، اور جو بینک  سودی نظام پر قائم ہو، تو اس میں ایسی ملازمت کرنا جائز نہیں جس کا براہِ راست تعلق سودی لین دین، اس کی تحریر، حساب کتاب، یا معاونت سے ہو۔ البتہ ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کوئی تعلق نہ ہو، جیسے سیکیورٹی گارڈ،ڈرائیور  یا دیگر غیر متعلقہ خدمات، ان کا اختیار کرنا جائز ہے۔۔ مزید یہ کہ جس شخص کی آمدنی حرام ہو، اگر وہ اسی مال سے حج یا زکوٰۃ ادا کرے  تو  اسے اس پر ثواب نہیں ملتا بلکہ  حرام مال کو  بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہے ۔ حرام کمائی کے لیے محض معاشی ضرورت یا مجبوری کسی صورت میں شرعی عذر نہیں بنتی ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 55):

مطلب في الاستئجار على المعاصي (قوله مثل الغناء) بالكسر والمد الصوت، وأما المقصور فهو                             اليسار صحاح (قوله والنوح) البكاء على الميت وتعديد محاسنه (قوله والملاهي) كالمزامير والطبل،

فقه البيوع (جلد٢صفحه ١٠٦٠)

التعامل مع البنوك الربوية

 ومنه يعلم حكم التعامل مع البنوك الربابية فاِن  أموال البنك الرِبوي مخلوطة بالحلال والحرام، فاِن منها رأس المال الذي يفترض فيه أنه حلال ما لم يعرف خلاف ذلك. ومنها الأموال المودعة فيها من قبل المودعين،ويفترض فيها أيضا أنها حلال ما لم يثبت خلاف ذلك. ومنها ايرادات البنك عوضا عن الخدمات الجائزة شرعا،مثل تحويل المبالغ، وعمليات التبادل العاجل للعملات وغيرها، وهي حلال أيضا. وفيها ايراداتها الغالبة الحاصلة ومن تعاملاته الربوية وهي حرام.أموال  البنك الربوي داخل في الصورة  الثالثةمن القسم الثالث. فيجوز التعامل معها بقدر ما فيها من الحلال.

فقه البيوع (جلد ٢ صفحه ١٠٦٤)

السابع ان يؤجر المرء نفسه للبنك بان يقبل فيه وظيفة، فان كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية او العمليات المحرمة الاخرى فقبول هذه الوظيفة حرام وذلك مثل التعاقد بالربوا اخذا او عطاء او خصم الكمبيالا،ت او كتابة هذه العقود او التوقيع عليها او تقاضى  الفوائد الربوية او دفعها، او قيدها في الحساب بقسط المحافظ عليها او ادارة البنك ، او ادارة فرع من فروعه فان الادارة مسؤولة عن نشاطات البنك التي غالبها حرام. ومن كان موظفا في البنك بهذا الشكل،فان راتبه الذي ياخذ من البنك كله من الاكساب المحرمة،فان لم يكن له مال غيره، دخل في القسم الاول فلا يجوز اخذ شيء منه هبة او بيعا او شراء او ارثا. ويجب عليه ان يتوب الى الله تعالى ويتصدق بما كسب من البنك وان وفقه الله تعالى للتوبة ولم يكن له مال غيره،يسعه بفتوى من مفت موثق به ان يصرفه في حاجة نفسه بطريق الاقتراض، ويتصدق بمثله متى وجد ستة  حسب التفصىل  الذي ذكرناه  في القسم الرابع

 واما الوظائف التي تشتمل الخدمات المباحة والمحظورة فيجري فيه ما قدمنا في وظائف الفنادق والمطاعم.

فقه البيوع (جلد ٢ صفحه١٠٦٥)

اما اذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربويه مثل وظيفة الحارس او سائق السيارة او العامل على الهاتف او الموظف في المسؤل عن صيانة البناء  اوالمعدات الكهرباء، او الموظف الذي يتمحض عمله في الخدمات المصرفية المباحة مثل تحويل المبالغ، والصرف العاجل للعملات، واصدار الشيك المصرفي او حفظ المستندات الشحن، او تحويلها من بلد الى بلد فلا يحرم قبولها ان لم يكن بنية الاعانة على العمليات المحرمۃ وان كان الاجتناب عنها او لٰی،

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي»(5/ 99):

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،

وسیم اکرم بن  محمد ایوب  

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 29/ذوالقعدہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب