| 90607 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مسجد عائشہ، گلشنِ کنیز فاطمہ، بلاک / سیکٹر 16-اے، گلزارِ ہجری، کراچی کی تعمیر تقریباً 20 سے 24 سال پہلے ہوئی۔ میں بطور عہدیدار (آفس بیئرر) ٹرسٹ میں پہلے دن سے شامل ہوں۔ مسجد کا ٹرسٹ تقریباً 10 سال قبل رینیو کرایا تھا، جس کے تحت 11 ممبران تھے اور میں جنرل سیکرٹری ہوں۔ اس وقت ٹرسٹ کے چھ ساتھی حیات ہیں، باقی بشمول صدرِ ٹرسٹ انتقال کرگئے۔ جب تک ٹرسٹ فعال رہا، تین ممبران کی تقرری (ممبر کے انتقال کے بعد) ٹرسٹ قوانین کے تحت ہوئی۔ اس کے بعد ٹرسٹ غیر فعال ہو گیا۔ میں اور میرے ساتھیوں نے برداشت کیا، مسجد کے تقدس کو برقرار رکھا اور ہنگامہ آرائی سے پرہیز کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔
ٹرسٹ کی اصل کاپی میرے پاس تھی اور اب میرے ایک ساتھی کے پاس رکھی ہوئی ہے۔ ٹرسٹ کے ایک ممبر (جو انتظامی کمیٹی کے صدر ہیں) اور مسجد کے امام صاحب کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ٹرسٹ ان کو دے دوں تاکہ وہ ٹرسٹ رینیو کرا لیں۔ میرا جواب یہ ہے کہ مسجد کے پرانے 40 سے 50 نمازیوں کو بلا کر ممبران کا تعین کریں اور مجھے شامل نہ کریں۔ میں ٹرسٹ میں واحد عہدیدار (جنرل سیکرٹری) ہوں جس کے دستخط / بیان کے بغیر ٹرسٹ رینیو نہیں ہو سکتا۔ میری عمر86 سال ہے اور میں نے رہائش بھی تبدیل کر لی ہے۔ مکان جس میں میری رہائش تھی، کنیز فاطمہ سوسائٹی کے کھاتے میں میری بیوی ہی کے نام ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں نمازیوں کی مرضی کے تحت ٹرسٹ رینیو ہو۔
موجودہ صورتحال اور سوالات:
سوال١: میرا فیصلہ صحیح ہے یا غلط؟ کیا امام صاحب یا موجودہ کمیٹی کے صدر کو ٹرسٹ کی کاپی دے دوں تاکہ وہ اپنی مرضی کے ممبران کا ٹرسٹ بنا لیں؟ اگر ایسا ہوا تو باقی نمازیوں کا ری ایکشن کیا ہوگا، مجھے نہیں معلوم۔ مسجد میں ماشاءاللہ 60 سے 70 لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں، اندازہ ہے کہ کہیں جھگڑا نہ ہو جائے۔
تقریباً چھ سے سات سال قبل سیکرٹری کنیز فاطمہ سوسائٹی نے مسجد سے ملحق کھیل کے میدان کو اسکول کے لیے فروخت کر دیا۔ مسجد کے صحن کو کور کرنے کے لیے جو پول لگائے گئے تھے وہ کھیل کے میدان کی زمین پر تھے۔ مالکِ اسکول نے جو باؤنڈری بنائی، اس کو مسجد کی باؤنڈری سے چھ سے سات فٹ ہٹا کر بنائی۔ حقیقت کا علم نہیں کہ باؤنڈری مسجد انتظامیہ کے اصرار پر ہٹا کر بنائی گئی یا مالک نے خود فیصلہ کیا۔ مسجد انتظامیہ نے اس چھوڑی ہوئی زمین پر گیٹ لگا لیا اور اندر کچی تعمیر بنا لی۔
اعظم صاحب (جو کھیل کے میدان کے سامنے رہائش رکھتے ہیں) اور ان کے چند ساتھی کیس کورٹ میں لے گئے کیونکہ سوسائٹی کے قانون کے تحت کھیل کے میدان کو اسکول نہیں بنایا جا سکتا۔ اسکول کے لیے زمین جس ماسٹر پلان کے تحت دی گئی، وہ ماسٹر پلان کورٹ میں جعلی ثابت کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد نیب (NAB) نے تمام خالی پلاٹوں (جو رہائشی نہیں ہیں) کی زمینوں پر، بشمول کھیل کے میدان پر اسٹے (Stay) کر دیا اور کیس میں KBCA اور کنیز فاطمہ سوسائٹی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، جس کے فیصلے کا انتظار ہے۔
ایک دو ماہ قبل مسجد انتظامیہ نے چھوڑی ہوئی جگہ پر موجود مسجد کے پول، اسکول کے مالک کی بنائی ہوئی باؤنڈری کے ساتھ شفٹ کر دیے اور کھیل کے میدان اور اسکول کی باؤنڈری کو مسجد کی باؤنڈری بنا کر، اس زمین کو مسجد میں شامل کر لیا۔
اعظم صاحب اور ساتھیوں نے مسجد کی ایکسٹینشن (توسیع) کا کام شروع ہونے پر کوئی احتجاج یا اعتراض نہیں کیا اور مسجد کے تقدس کو برقرار رکھا۔ جب امام صاحب کی اعظم صاحب سے بات ہوئی تو امام صاحب نے کہا کہ "زمین عوام کی ہے"۔ اعظم صاحب کا جواب تھا کہ "زمین اللہ کی ہے، کیس کورٹ میں ہے، کیا یہ ایکسٹینشن بغیر اجازت جائز ہے؟" اعظم صاحب اور ہم سب کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
سوال نمبر ۲: "زمین عوام کی ہے" اگر اس وجہ سے کمیٹی نے مسجد کی ایکسٹینشن کی ہے تو شرعاً کمیٹی کا یہ فعل کیسا ہے؟ اور جن کے حکم کے تحت یہ کام ہوا، نیز امام صاحب کی رضامندی کے متعلق کیا حکم ہے؟
سوال نمبر ۳: اگر اسکول والے نے ان کو لکھ کر دے دیا ہے یا زبانی اجازت دی ہے تو شرعاً کیا حکم ہے کیونکہ کیس کورٹ میں ہے؟
سوال نمبر ۴: کیا ایکسٹینشن کی جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے؟
سوال نمبر۵: کیا لاعلمی سے ایکسٹینشن کی زمین پر معتکف چلا جائے تو اعتکاف کی حیثیت کیا ہے؟
سوال نمبر٦: اگر علم ہونے پر معتکف ایکسٹینشن والی زمین پر چلا جائے تو اعتکاف کی حیثیت کیا ہے؟
سوال نمبر۷: کیا جنوب میں خالی پلاٹ پر مسجد کی ایکسٹینشن کرنا چاہیں تو جائز ہوگی یا نہیں؟ (جبکہ زمین عوام کی ہے)۔
سوال نمبر۸: کھیل کے میدان کو ماسٹر پلان کے تحت اگر کورٹ نے فیصلے میں برقرار رکھا تو مسجد کمیٹی کو شرعاً کیا کرنا چاہیے؟ اور اگر اس وقت یہ فعل ناجائز ہے تو کیا کرنا چاہیے؟
آپ کی طرف سے جو بھی جواب ہوگا اور کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گا، ہم سب کو قبول ہوگا۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ مسجد کو ہنگامہ آرائی سے بچاتے آئے ہیں اور بچاتے رہیں گے، مسجد کا تقدس برقرار رکھیں گے۔
نوٹ: میں نے جو کچھ تحریر کیا ہے، اپنی یادداشت اور مسجد کی تعمیر کے ساتھیوں کے مشورے سے کیا ہے۔ کسی کو اختلاف ہے تو مجھ سے رجوع کر سکتا ہے، دلائل سے ان شاء اللہ مطمئن کروں گا۔مسجد کی ایکسٹینشن اور کھیل کے میدان کا نقشہ منسلک ہے)۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات درج ذیل ہیں:
(1) ٹرسٹ کی تجدید اور موجودہ صدر یا امام صاحب کو کاغذات دینے کا فیصلہ
جواب: آپ کا فیصلہ انتظامی اور اخلاقی اعتبار سے درست ہے۔ مسجد کا نظم و نسق ایک شرعی امانت ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ پرانے اور مستقل نمازیوں کی مشاورت کے بغیر ممبران کا انتخاب مسجد کے مفاد کے خلاف ہے اور اس سے مخصوص گروہ کی اجارہ داری قائم ہونے کا اندیشہ ہے، تو شفاف اور متفقہ کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ بالکل بجا ہے۔
جب تک کوئی متفقہ کمیٹی تشکیل نہ پا جائے، محض اس بنیاد پر ٹرسٹ کے کاغذات حوالے نہ کرنا امانت کے تحفظ کے دائرے میں شمار ہو سکتا ہے (بشرطیکہ مقصد مسجد کے مصالح کا تحفظ ہو)۔ آپ کی جانب سے اختلاف کو فتنہ، انتشار اور ہنگامہ آرائی کا سبب نہ بننے دینا شرعاً قابلِ تعریف اور موجبِ اجر عمل ہے۔
(2) "زمین عوام کی ہے" کی بنیاد پر ایکسٹینشن اور انتظامیہ/امام صاحب کے فعل کا شرعی حکم
جواب: مسجد کی تعمیر یا توسیع کے لیے ضروری ہے کہ زمین شرعی طور پر جائز، واضح ملکیت والی اور ہر قسم کے تنازع سے پاک ہو۔ محض یہ سوچ کر کہ "زمین عوام کی ہے"، عوامی پارک، کھیل کے میدان یا متنازع زمین پر مسجد کی توسیع کرنا شرعاً درست نہیں۔
چونکہ یہ فعل شرعی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے جن لوگوں کے حکم کے تحت یہ کام ہوا ہے ان کا یہ عمل ناجائز ہے، اور امام صاحب کا اس پر رضامندی ظاہر کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ شریعت نیک مقاصد کے لیے بھی ناجائز یا غصب شدہ ذرائع اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
(3) اسکول مالک کی زبانی یا تحریری اجازت کا شرعی حکم
جواب: چونکہ مذکورہ زمین کے بارے میں عدالتی مقدمہ (Court Case) جاری ہے، اسٹے آرڈر موجود ہے اور ملکیت متنازع ہے، ایسی صورت میں اسکول کے مالک کی زبانی یا تحریری اجازت شرعاً معتبر نہیں ہوگی۔ جس شخص یا فریق کی اپنی ملکیت ہی متنازع اور عدالت میں زیرِ سماعت ہو، وہ مسجد کے لیے زمین کو صحیح طور پر وقف کرنے یا اس کے استعمال کی اجازت دینے کا شرعاً مجاز نہیں ہوتا۔
(4)ایکسٹینشن (توسیع شدہ) جگہ پر نماز پڑھنے کا حکم
جواب: جو حصہ شرعی طور پر مسجد قرار نہ پایا ہو یا متنازع/غصب شدہ زمین کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہو، وہ "مسجدِ شرعی" کے حکم میں نہیں آتا۔ ایسی متنازع جگہ پر نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ اگرچہ نماز ادا ہو جائے گی، لیکن اس میں گناہ اور ثواب میں کمی کا اندیشہ رہے گا۔ نمازیوں کو چاہیے کہ وہ صرف مسجد کے اصل اور یقینی حصے میں نماز ادا کریں۔
(5) لاعلمی میں ایکسٹینشن کی زمین پر معتکف کے چلے جانے سے اعتکاف کی حیثیت
جواب: مسنون اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے مسجدِ شرعی کی حدود میں رہنا شرط ہے۔ اگر کوئی معتکف لاعلمی میں ایسے حصے (ایکسٹینشن) میں چلا جائے جو شرعاً مسجد نہیں، تونکلتے ہی اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا اور اس پر اس کی قضا لازم ہوگی۔
(6)علم ہونے کے باوجود ایکسٹینشن والی زمین پر معتکف کے جانے کا حکم
جواب: اگر معتکف کو معلوم ہو کہ مذکورہ حصہ مسجدِ شرعی میں شامل نہیں، اور وہ پھر بھی وہاں چلا جائے اور مسجد سے نکلتے ہی اس کا اعتکاف فوراً فاسد ہو جائے گا اور اس پر قضا واجب ہوگی۔ اس نزاکت کے پیشِ نظر مسجد انتظامیہ پر شرعاً لازم ہے کہ وہ معتکفین کے لیے مسجدِ شرعی کی اصل اور درست حدود کو واضح کرے۔
(7) جنوب میں موجود خالی (عوامی) پلاٹ پر مسجد کی مزید ایکسٹینشن کا حکم
جواب: جنوب کی جانب واقع خالی پلاٹ اگر عوامی زمین (Public Property) ہے یا کسی فرد/ادارے کی ملکیت ہے، تو جب تک اسے شرعی اور قانونی طریقے سے مسجد کے لیے حاصل کر کے باقاعدہ وقف نہ کر دیا جائے، اس پر مسجد کی توسیع کرنا ہرگز جائز نہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، شریعت مسجد کی تعمیر جیسے نیک کام کے لیے بھی ناجائز یا غصبی ذرائع اپنانے کی اجازت نہیں دیتی۔
(8) عدالتی فیصلے کی صورت میں اور موجودہ صورتحال میں کمیٹی کی شرعی ذمہ داری
جواب: اگر عدالت یہ فیصلہ دے کہ متنازع زمین درحقیقت کھیل کا میدان ہے، تو مسجد انتظامیہ پر شرعاً اور قانوناً لازم ہوگا کہ وہ اس زمین کو فوراً خالی کر دے اور اسے مسجد کے استعمال سے نکال دے۔ متنازع زمین کو زبردستی مسجد برقرار رکھنے کی کوشش کرنا مسجد کے تقدس کے خلاف ہے۔
موجودہ صورتحال میں اقدام: چونکہ موجودہ حالت میں بھی متنازع زمین پر تصرف ناجائز ہے، لہٰذا کمیٹی کو چاہیے کہ محتاط رویہ اپناتے ہوئے کورٹ کے فیصلے تک اس توسیعی حصے میں نماز، اعتکاف اور دیگر مسجدی سرگرمیوں کو روک دے، اور نمازیوں کو صرف اصل مسجد کی حدود تک محدود رکھے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 366 ،دار الفكر-بيروت)
شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 340)
(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 211)
الصلاة في أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب اهـ قوله: "مع الكراهة" أي التحريمية ذكره السيد وفي السراج والقهستاني تكره الصلاة في الثوب الحرير والثوب المغصوب وإن صحت والثواب إلى الله تعالى.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 395)
(ولو خرج من المسجد ساعة بغير عذر فسد اعتكافه) عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لوجود المنافي وهو القياس.
وفی غنیۃ المستملی
"وذکر فی الواقعات: رجل بنی مسجدًا علی سور المدینة لا ینبغي أن یصلي فیه لأنه حق العامة فلم یخلص للہ تعالی کالمبني في أرض مغصوبة ولو فعله بإذن الإمام ینبغي أن یجوز فیما لا ضرر فیه یعني: في مسجد السور لأنه نائبهم."(کتاب الوقف ،ص:615،ط: مکتبه اشرفیه)
وفي الشامیة:
"فإن شرط الوقف التأبيد والأرض إذا كانت ملكا لغيره فللمالك استردادها، وأمره بنقض البناء وكذا لو كانت ملكا له فإن لورثته بعده ذلك، فلا يكون الوقف مؤبد(كتاب الوقف ،مطلب في استبدال الوقف وشروطه،ج:4،ص:390،ط:سعيد)
"حکومت پر مساجد کا انتظام اور تعمیر بقدرِ ضرورت فرض ہے ،لہذا اگر حکومت اپنا یہ فرض ادا نہیں کرتی ،توبلااذن حکومتی زمین پر تعمیر جائز نہیں ۔فقط واللہ اعلم "(احسن الفتاوی کتاب الوقف ،باب المساجد،ج:6 ،ط:426 ،ط:ایچ ایم سعید)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
23/12/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


