03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زنا سے حرمتِ مصاہرت کا حکم
90646نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا، جس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ اس عورت کے گھر آنے جانے کے دوران اس شخص کو اس کی بیٹی سے شدید محبت ہو گئی۔ بعد ازاں لڑکی اور لڑکے کے والدین نے اس لڑکی سے نکاح پر رضامندی ظاہر کی، لیکن لڑکی نے انکار کر دیا۔ لڑکے کا اندیشہ ہے کہ اگر اس لڑکی سے نکاح نہ ہوا تو وہ دوبارہ زنا میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس حرام راستے سے بچنے کے لیے کیا احناف کے موقف کے برخلاف کسی دوسرے مکتبِ فکر (مذہب) کے جواز پر عمل کرنا ضروری نہیں؟ جبکہ اس کے بغیر زنا سے بچنا ممکن معلوم نہیں ہوتا۔ نیز جب اس کی والدہ سے زنا ہوا تھا تو وہ بیمار تھی اور مزید اولاد کی امید بھی نہیں تھی۔ آپ سے گزارش ہے کہ گناہ سے بچنے اور حلال راستہ اختیار کرنے کے لیے کسی دوسرے فقہی مسلک کے مطابق اس لڑکی سے نکاح کے جواز کے بارے میں رہنمائی فرمائی جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  واضح رہے کہ احناف کے نزدیک جس طرح نکاحِ صحیح سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح زنا سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اس لڑکی کی والدہ سے بدکاری کا ارتکاب کیا تو اس عورت کے اصول (ماں، دادی وغیرہ) اور فروع (بیٹی، پوتی وغیرہ) ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہو گئے۔ اس بنا پر اس عورت کی بیٹی سے سائل کا نکاح کسی صورت جائز نہیں ہے۔ رہی بات کسی دوسرے مذہب پر عمل کرنے کی، تو اس کی اجازت ضرورتِ شدیدہ کے وقت مخصوص شرائط کے ساتھ دی جاتی ہے، جو اس صورت میں موجود نہیں ہیں۔ سائل کا یہ خیال درست نہیں کہ اس لڑکی کے علاوہ زنا سے بچنا ممکن نہیں۔ بلکہ یہاں نکاح کی صورت میں اس کی ماں سے دوبارہ تعلقات قائم ہونے کے شدید خدشات موجود ہیں۔ زنا سے بچنے کے لیے کسی بھی دوسری جگہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔ ایک حرام سے بچنے کےارادےسے دوسرے حرام میں پڑنےکوضروری سمجھنا شیطان کی  فریب کاری ہے۔

سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس قبیح عمل پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ اور استغفار کرے، اس عورت اور اس کی بیٹی سے تمام تعلقات فوراً ختم کرے، اور آئندہ گناہ سے بچنے کے لیے کسی دوسری عورت سے شرعی نکاح کر کے اپنےتقاضےکاعلاج کرے۔ نیز شرعی احکام کو اپنی خواہشات کے مطابق توڑ موڑکربنانے کا ذہن بھی خطرناک ہے۔ اس سے توبہ کریں اور آئندہ اس قسم کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (3/ 32)

 (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (3/ 105):

قوله والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة) وقال الشافعي الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة؛ لأنها نعمة فلا تنال بالمحظور، ولنا: أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه، وكذلك على العكس والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي: (3/ 219)

 (قوله ومن زنى بامرأة حرمت عليه أمها) أي وإن علت، فتدخل الجدات بناء على ما قدمه من أن الأم هي الأصل لغة (وابنتها) وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا هذا إذا لم يفضها الزاني، فإن أفضاها لا تثبت هذه الحرمات لعدم تيقن كونه في الفرج إلا إذا حبلت وعلم كونه منه.

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27/ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب