03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق رجعی کے بعد تم آزادہو کے الفاظ سے طلاق کا حکم
90657طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

 بیوی کا بیان :

 شوہر نے مجھ سے کہا: ’’آزاد ہو، تم میری طرف سے آزاد ہو۔‘‘اس جملے سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں، اور رجوع کی کیا صورت ہے؟ 

شوہر کا بیان:

 کل میں نے اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران کہا: ’’تم آزاد ہو، آزاد ہو، میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘  اور یہ کہتے ہوئے میری  نیت علیحدگی کی تھی۔ تو کیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ نیز کچھ سال پہلے میں ایک طلاق دے چکا ہوں۔ اس وقت میں نے یہ الفاظ کہے تھے:میں طلاق دیتا ہوں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے واقعہ میں جب آپ نے بیوی سے یہ جملہ کہا :کہ” میں طلاق دیتا ہوں” تو  اس سے ایک طلاق رجعی واقع  ہوئی۔  بعدازاں  شوہر نے عدت کے اندر رجوع کر لیا، جس کی وجہ سے دونوں کا نکاح باقی رہا اور شوہر کے پاس مزید  دو طلاقوں  کا اختیار باقی رہا تھا ۔

اس کے  بعددوسرے موقع پر  اگر واقعۃً   آپ  نے  جھگڑے کے دوران بیوی کو  یہ   الفاظ بولے ہیں  : کہ ’’تم آزاد ہو، آزاد ہو، میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تو پہلے جملے’’تم آزاد ہو سےآپ کی   بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے،اس کے بعد   دوسرے جملہ آزاد ہو ،میرا تم سے کوئی تعلق نہیں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،کیونکہ بائن طلاق  دوسری بائن طلاق  سے ملحق   نہیں ہوتی ۔

چونکہ اس سےپہلےایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی،اور قاعدے کے مطابق طلاق رجعی کےبعد طلاق بائن واقع ہوسکتی ہے،اس لئےمجموعی طور پر دوبائن  طلاقیں واقع ہو  ئیں   اور نکاح ختم ہو گیا ہے ۔

اب اگر عورت  کسی دوسرے شخص سےنکاح کرنا چاہےتو اس کےلیےعورت  پر عدتِ طلاق(تین ماہواریاں) مکمل  کرنا ضروری ہے ۔اوراگر سابقہ شوہر کے ساتھ دوبارہ رہنا چاہتی ہو  تو عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد،نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح  کرنا ضروری ہوگا۔ تجدید نکاح کیے  بغیر  میاں بیوی کاتعلق قائم رکھناجائز نہیں۔ دوبارہ نکاح  کی صورت میں شوہر کے پاس  صرف ایک  طلاق  کا اختیار باقی  رہے گا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين  (3/ 306):

"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح،......«(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول..."

وفیہ أیضاً (11/179):

"والحاصل أن الأول [ما يحتمل الرد] يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة. والثاني[ما يصلح للسب] في حالة الرضا والغضب فقط، ويقع في حالة المذاكرة بلا نية. والثالث [ما لايحتمل الرد، وما لا يحتمل للسب] يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية."

وفیہ أیضاً  (3/ 409):

 "وينكح ‌مبانته ‌بما ‌دون ‌الثلاث ‌في ‌العدة ‌وبعدها ‌بالإجماع"

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(3/ 313):

"قال وإذا وصف الطلاق بضرب من الشدة، والزيادة كان بائنا."

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند :جلد (۹) کتاب الطلاق  ص(۳۱۰) مکتبہ دارالاشاعت

"اس صورت میں بندہ کی نزدیک طلاق بائنہ اس شخص کی زوجہ پر واقع ہوئی ۔جیسا کہ در مختار میں انت حرۃ  تو آزاد ہے۔ کنایا ت کی اس قسم میں سے ہے کہ جس سے میں بحالت غصہ بلانیت کے طلاق بائنہ واقع ہوجاتی ہے ۔اس کے بعد جو الفاظ کنایہ شوہر نے کہے ان سے بحکم  لا یلحق البائن البائن جدید طلاق واقع نہ ہوگی"

احسن الفتاویٰ جلد(۵) ص(۲۰۲)  ایچ ایم سعید کمپنی(ایجوکیشنل پریس)

"تیسرا جملہ (میں نے آزاد کردیا )طلاق صریح بائن ہے لہذا اس سے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو بہر حال ایک طلاق بائن  ہوگئی۔"

صدام حسین بن ہدایت شاہ

  دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏    29 /ذی الحجۃ/1447 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب