| 90762 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے پورا سال پیسے جمع کیے تاکہ قربانی کر سکے، لیکن اب جب قربانی کا وقت قریب آیا اور اس نے رقم نکالی تو وہ 43 ہزار روپے بنے۔ تاہم، گھر کی کسی مجبوری کے باعث وہ رقم خرچ ہو گئی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اتنی ہی رقم کا جانور خریدنا ضروری ہے جو جمع کی تھی، یا اس سے کم رقم میں بھی جانور لیا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قربانی کے لیے رقم جمع کرنے سے کسی مخصوص قیمت کا جانور خریدنا واجب نہیں ہوتا،لہذا آپ پر اگر قربانی واجب ہے تو آپ کم قیمت کا جانور یا حصہ خرید کر بھی قربانی کرسکتے ہیں ۔
حوالہ جات
وفي الدر المختار(6/312):
وشرائط الأضحیۃ:( الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر).
و تحته في الشامية:
(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية.
وفي البدائع(4/193):
و لو كان في ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة و لم ينو الأضحية وقت الشراء،ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لايجب عليه،سواء كان غنيا أو فقيرا؛لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر.
وفي البحر(174/8):
ولم تجب إلا بملك النصاب، فدل أن وجوبها بالقدرة الميسّرة؛ لأن اشتراط النصاب لا ينافي وجوبها بالممكنة كما في صدقة الفطر.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچ
4 /1/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


