| 90715 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا چچا جس کا نام معاویہ ہے، وہ 25 رمضان المبارک سے گھر چھوڑ کر غائب ہو گیا ہے۔ جانے سے پہلے وہ ایک خط چھوڑ کر گیا ہے جس میں لکھا ہے کہ 'میری باقی زندگی اللہ کی راہ میں اور اسلام کی سربلندی کے لیے وقف ہے'۔ ہماری معلومات کے مطابق وہ افغانستان سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ اسی رمضان المبارک میں اس کا نکاح ہوا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ تو اس حوالے سے وہ لڑکی جو اس کے نکاح میں ہے، شرعی طور پر کتنا وقت لڑکے کا انتظار کرے گی جبکہ اس سے کوئی رابطہ بھی ممکن نہیں ہے؟ اور انتظار کا وقت ختم ہونے کے بعد وہ آگے کیا عمل کرے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ لڑکی کا نکاح گمشدہ شوہر سے اب تک باقی ہے، اور جب تک اس کا نکاح برقرار ہے، وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ گمشدہ شوہر کے نکاح سے نکلنے کا شرعی اور قانونی طریقہ یہ ہے کہ وہ لڑکی عدالت میں اپنا مقدمہ دائر کر کے اپنا مسئلہ پیش کرے۔
وہ عدالت کے سامنے دو دیانت دار گواہوں کے ذریعے اپنے اور گمشدہ شوہر کے نکاح کو ثابت کرے۔ اس کے لیے نکاح کے اصل گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ شہادت بالتسامع (یعنی نکاح کی عام شہرت کی بنیاد پر گواہی) بھی کافی ہے۔ پھر وہ ایسے گواہ بھی پیش کرے جو اس بات پر گواہی دیں کہ شوہر ایک عرصے سے لاپتہ ہے۔اس کے بعد عدالت متعلقہ اداروں — جیسے پولیس، نادرا، امیگریشن، اور دیگر ممکنہ ذرائع — سے اس شخص کی تلاش کروائے۔ یاد رہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے پہلے کی ذاتی یا غیر سرکاری تلاش معتبر نہیں، بلکہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد سرکاری و حکومتی اداروں کی تحقیق معتبر شمار ہوگی۔
اگر تمام تر تحقیق و تلاش کے باوجود بھی شوہر کا کوئی سراغ نہ مل سکے، تو عدالت عورت کو چار سال کی مہلت دے گی (اوراس چارسالہ مدت کی ابتداء اس وقت سے ہوگی جس وقت عدالت تلاش کرکے پتہ چلنے سے مایوس ہوجائے،لہذا تلاش سے قبل خواہ کتنی ہی مدت گزرچکی ہو اس کا اعتبارنہیں ،ملخص از حیلہ ناجزہ)۔ اگر ان چار سالوں میں بھی شوہر کا کوئی پتہ نہ چلے تو عورت دوبارہ عدالت سے رجوع کر کے فسخِ نکاح کی ڈگری حاصل کر سکتی ہے۔ فسخِ نکاح کے بعد عورت پر عدتِ وفات (چار ماہ دس دن) لازم ہوگی، کیونکہ وفات کی عدت غیر مدخول بہا پر بھی لازم ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے لاپتہ شوہر کے نکاح سے نکل جائے گی اور کہیں اور نکاح کر سکے گی۔
یہ حکم اس وقت ہے جب عورت عفت و عصمت کے ساتھ چار سال تک انتظار کر سکے اور نان و نفقے کا انتظام ممکن ہو۔
لیکن اگر لڑکی نفقے کا مطالبہ کرے اور اس کے نان و نفقے کا کوئی اور انتظام نہ ہو — نہ شوہر کے مال سے، نہ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے، اور نہ ہی وہ خود عزت و عصمت کی حفاظت کے ساتھ روزگار حاصل کر سکے — تو ایسی صورت میں وہ عدالت میں دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شرعی گواہی کے ساتھ یہ ثابت کرے کہ شوہر طویل عرصے سے غائب ہے، نان و نفقے کے لیے اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا، اور وہ نفقے کی محتاج ہے۔ شوہر نے نہ کسی کو نفقے کا ضامن بنایا ہے، اور نہ ہی بیوی نے نفقہ معاف کیا ہے۔
ان حقائق پر عورت عدالت میں حلفیہ بیان دے تو عدالت مناسب تلاش کا حکم دے۔ اگر تلاش کے نتیجے میں شوہر مل جائے تو نکاح فسخ نہ کرے، ورنہ مزید انتظار کے بغیر نکاح فسخ کر دے۔( اس صورت میں عدالتی فیصلے سے پہلے کم از کم ایک ماہ کا گزرنا لازم ہے،ملخص ازحیلہ ناجزہ)۔
اسی طرح اگر عورت کے نان و نفقے کا بندوبست تو ممکن ہو، مگر شوہر کے بغیر رہنے کی وجہ سے گناہ (زنا) میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو عورت کے حلفیہ بیان کے بعد عدالت تلاش کا حکم کرے۔ شوہر کے ملنے کی صورت میں نکاح فسخ نہ کرے، وگرنہ عورت کے مطالبے پر نکاح فسخ کر دے۔ (اس صورت میں عدالتی فیصلے سے پہلے کم از کم ایک سال کا گزرنا شرط ہے، ملخص ازحیلہ ناجزہ)۔
عدمِ نفقہ اور خوفِ زنا کی ان دونوں صورتوں میں عورت پر عدتِ وفات کی بجائے عدتِ طلاق لازم ہوتی ہے۔ تاہم چونکہ یہاں عورت 'غیر مدخول بہا' ہے، لہٰذا اس پر عدت نہیں ہوگی اور قاضی کے فیصلے کے بعد اس کا نکاح ختم سمجھا جائے گا اور وہ دوسری جگہ نکاح کر سکے گی۔
حوالہ جات
فی البحر:
( قولہ ولا یفرق بینہ وبینھا : أی بین زوجتہ ، لقولہں فی امرأۃ المفقود : انھا امرأتہ حتی یأتیھا البیان ، و قول علی ص فیھا : ھی امرأۃ ابتلیت فلتصبر حتی یتبین موت أو طلاق اھــ [ج:۵،ص:۱۶۴](۱)۔
فی شرح الجلیل علی مختصر الخلیل :
فیؤجل أربع سنین ان دامت نفقتھا ۔۔۔فان لم تدم نفقتھا من مالہ فلھا التطلیق لعدم النفقۃ بلا تأجیل ، وکذا ان خشیت علی نفسھا الزنا فیزاد علی دوام نفقتھا عدم خشیتھا الزنا ۔[ج:۲،ص:۳۸۵]۔
فی حاشیۃ الدسوقی :
فیؤجل أی المفقود الحر أربع سنین ان دامت نفقتھا من مالہ والا طلق علیہ لعدم النفقۃ اھـ [ج:۲،ص:۴۷۹]۔(۲)
وفی الشرح الصغیر :
والا فلھا التطلیق علیہ لعدم النفقۃ ۔۔۔۔أی ولم تخش العنت والا فتطلق علیہ لضرر فھی أولی من معدومۃ النفقۃ ۔[ج:۲،ص:۶۹۴]۔ (۳)
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ للشیخ الزحیلی :
ورأی المالکیۃ والحنابلۃ جواز التفریق للغیبۃ اذا طالت تضررت الزوجۃ بھا ، ولو ترک لھا الزوج مالا تنفق منہ اثناء الغیاب ، لأن الزوجۃ تتضرر من الغیبۃ ضرراً بالغاً ، والضرر یدفع بقدر الامکان لقولہ ا لاضرر ولا ضرار ۔۔۔وجعلوا حد الغیبۃ الطویلۃ سنۃ فاکثر علی المعتمد ، وفی قول ثلا ث سنوات اھــ [ج:۷،ص:۵۳۳]۔(۴)
وفی الأحوال الشخصیۃ للشیخ محمد ابو زھرۃ :
والتفریق للتضرر من الغیاب ھو مذہب مالک وأحمد ، لا مرأۃ قد تقع فی جریمۃ دینیۃ باھما لھا ۔۔۔۔۔ ولا بد للتفریق بالغیاب ان تمضی مدۃ تستو حش فیھا الزوجۃ وتتضرر فعلا ، لأن الفرقۃ بسبب ذٰلک ھی للضر الواقع لا للتضرر المتوقع فقط ، وقد جعل أحمد ادنیٰ مدۃ یجوز أن تطلب التفریق بعدھا ستۃ أشھر ۔۔۔۔۔ أما مذہب مالک رضی اللّٰہ عنہ فقد اختلف فی الحد الأدنی للتضرر ، فقیل : ثلاث سنین ، قیل : سنۃ وبھذا أخذ القانون اھــ [ص:۳۹۰]
وفی الشرح الصغیر :
وتعتد زوجتۃ المفقود حرۃ أو أمۃ صغیرۃ أو کبیرۃ فی أرض الاسلام متعلق بالمفقود عدۃ وفاۃ علی ماتقدم ، ابتداء ھا بعد الأجل اھــ [ج:۲،ص:۶۹۴]۔(۵)
وفی شرح منح الجلیل :
ثم بعد التلوم و عدم وجدان النفقۃ والکسوۃ طلق وان کان غائبا ۔۔۔۔ یعنی ان الغائب العبید الغیبۃ ولیس لہ مال أو لہ مال لا یمکنھا الوصول الیہ الا بمشقۃ حکمہ حکم العاجز الحاضر اھــ۔وفیہ : ولہ أی الزوج المطلق علیہ لعم النفقۃ الرجعۃ للزوجۃ المطلقۃ لأنہ طلاق رجعی ، ابن عرفۃ۔[ج:۲،ص:۴۴۳]
وفی آخر فتویٰ العلامۃ ھاشم رحمہ اللّٰہ تعالیٰ مفتی المالکیۃ بالمدینۃ المنورۃ زاداھا اللّٰہ شرفا :
وھذا (التطلیق ) بعد التلوم بنحو شھرا أو باجتھاد عند المالکیۃ (یعنی فی صورۃ عدم النفقۃ ) ۔۔۔۔۔ وان کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطی والعنانۃ مع وجود النفقۃ والغنا فبعد صبرھا سنۃ فأکثر عند جل الما لکیۃ اھــ۔[احیلۃ الناجزۃ ،ص:۱۲۴]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
02/01/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


