| 90778 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:
میرے نانا (ڈاکٹر خیر البشر مرحوم) کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے وقت ان کی کل مالیت و زمین میں درج ذیل ورثاء حق دار تھے:
- بیوہ (نانی): انوری خاتون
- تین بیٹے: نسیم احمد، رئیس احمد اور شمیم احمد
- پانچ بیٹیاں: اختر خاتون، عنبری خاتون، مشتری خاتون، فاطمہ خاتون اور مبارکہ خاتون
نانا کے انتقال کے تقریباً 2 سال بعد، ان کی ایک بیٹی (عنبری خاتون) کا انتقال ہو گیا۔ عنبری خاتون کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں درج ذیل افراد موجود تھے:
- شوہر: صغیر احمد
- تین بیٹے: محمد ذیشان، محمد علقمہ اور محمد عامر
- ایک بیٹی: معصومہ
- ماں: انوری خاتون (نانی)
خالہ عنبری خاتون کے انتقال کے تقریباً ایک سال بعد، نانی (انوری خاتون) بھی اس دارِ فانی کو الوداع کہہ گئیں۔ نانی کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کی بقیدِ حیات اولاد موجود تھی (یعنی مذکورہ بالا 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں، جبکہ عنبری خاتون وفات پا چکی تھیں)۔
زمین کی تقسیم اور باہمی خرید و فروخت کا معاملہ: نانا اور نانی کے انتقال کے بعد کچھ زمین (جس کی مالیت لگ بھگ 75,000 روپے تھی) تقسیم طلب تھی۔ جب اسے ورثاء میں تقسیم کرنے کا وقت آیا تو 3 بیٹیوں (اختر خاتون، مشتری خاتون اور فاطمہ خاتون) نے زبانی طور پر کہا کہ "ہم اپنا حصہ اپنے تینوں بھائیوں کو دیتے ہیں "جبکہ ایک بیٹی (مبارکہ خاتون) اور مرحومہ بیٹی (عنبری خاتون) کی اولاد نے اپنا حصہ کسی کو نہیں دیا۔ کچھ عرصہ بعد دو بھائیوں (نسیم احمد اور شمیم احمد) نے اپنا حصہ تیسرے بھائی (رئیس احمد) کو بیچ دیا۔ پھر ایک شخص کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا اور رئیس احمد نے اپنی مذکورہ بہنوں (اختر خاتون، مشتری خاتون اور فاطمہ خاتون) سے بھی ان کی زمین دس، دس ہزار روپے میں خرید لی (جبکہ اس وقت دیگر 2 بھائی موجود نہیں تھے)۔
مفتیانِ کرام سے درج ذیل امور کی وضاحت مطلوب ہے:
کیا 3 بیٹیوں کا زبانی حصہ دینا اور پھر رئیس احمد کا بہنوں اور بھائیوں سے ان کا حصہ خریدنا شرعاً درست تھا؟
اگر درست نہیں تھا یا معاملہ نامکمل ہے، تو اس پوری صورتِ حال میں نانا، مرحومہ بیٹی اور نانی کی وراثت کی مرحلہ وار تقسیم کی شرعی صورت کیا ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کے نانا (خیر البشر)کے انتقال کے بعد سے ان کے ترکہ کو میراث کے طور پر تقسیم نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا آپ کے نانا (خیر البشر)کے انتقال کے وقت سے ہی میراث کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ میراث کی تقسیم کسی معین جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، مکان، دکان، پلاٹ، نقد رقم، سونا، چاندی، زیورات، کپڑے، برتن، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہو اور مرحوم کا وہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ ہوتا ہے۔
نانا(خیر البشر) مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ (اگر كسی وارث نے یہ خرچہ بطورِ تبرع ادا نہ کیا ہو) نکالا جائے گا۔ پھر مرحوم کا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (1/3) تک اس کو نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
1۔ نانا (خیر البشر)کی وراثت کی تقسیم (پہلا مرحلہ): سب سے پہلے آپ کے نانا کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (ایک بیوہ، 3 بیٹوں اور 5 بیٹیوں) میں تقسیم ہوگی۔ میت کے کل ترکہ کو فیصدی اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو کل میراث میں سے (12.5%) فیصد بیوہ (آپ کی نانی) کا ہوگا۔ مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو (15.9090%) اور ہر ایک بیٹی کو (7.9545%) فیصد حصہ ملے گا۔
میت کے کل ترکہ (مالیت 75,000 روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں گے:
مورثِ اعلیٰ (نانا)کا چارٹ – کل ترکہ: 88 عددی حصے
|
نمبر شمار |
ورثاء9 |
عددی حصے88 |
فیصدی حصے 100 |
رقم 75,000 |
|
1 |
بیوہ(انوری) |
11 |
12.5% |
9,375 |
|
2 |
بیٹا( نسیم انور) |
14 |
15.9090% |
11,932 |
|
3 |
بیٹا(رئیس احمد) |
14 |
15.9090% |
11,932 |
|
4 |
بیٹا(شمیم احمد) |
14 |
15.9090% |
11,932 |
|
5 |
بیٹی(اختر خاتون) |
7 |
7.9545% |
5,966 |
|
6 |
بیٹی(عنبری خاتون) |
7 |
7.9545% |
5,966 |
|
7 |
بیٹی(مشتری خاتون) |
7 |
7.9545% |
5,966 |
|
8 |
بیٹی(فاطمہ خاتون) |
7 |
7.9545% |
5,966 |
|
9 |
بیٹی(مبارکہ خاتون) |
7 |
7.9545% |
5,965 |
۲۔ بیٹی (عنبری) کی وراثت کی تقسیم (دوسرا مرحلہ): بیٹی (عنبری) مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا۔ پھر مرحومہ کا قرضہ اور جائز وصیت (تہائی مال تک) نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحومہ کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ عنبری مرحومہ کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (ماں، شوہر، تین بیٹے اور ایک بیٹی) میں تقسیم ہوگی۔ کل میراث میں سے (16.66%) فیصد ماں (نانی انوری) کا ہوگا۔ مرحومہ کے شوہر کو (25%) جبکہ باقی ماندہ اولاد کو اس طرح ملے گا کہ لڑکے کے دو حصے ہوں گے اور لڑکی کا ایک حصہ ہوگا۔ میت کے ترکہ (5,965.91 روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق حصے دیئے جائیں گے:
مرحومہ عنبری کی وراثت کا چارٹ (کل حصے: 12)
کل رقم:) 5,965.91 ( روپے
|
نمبر شمار |
ورثاء6 |
عددی حصے12 |
فیصدی حصے 100 |
رقم 5,965.91 |
|
1 |
شوہر(صغیر احمد) |
3 |
25.0000 |
1491.48 |
|
2 |
ماں(انوری ) |
2 |
16.6666 |
994.32 |
|
3 |
بیٹا(محمد ذیشان) |
2 |
16.6666 |
994.32 |
|
4 |
بیٹا(محمد علقمہ) |
2 |
16.6666 |
994.32 |
|
5 |
بیٹا(محمد عامر) |
2 |
16.6666 |
994.32 |
|
6 |
بیٹی(معصومہ ) |
1 |
8.3333 |
497.15 |
۳۔ نانی (انوری) کی وراثت کی تقسیم (تیسرا مرحلہ): نانی (انوری) مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ (اگر كسی وارث نے یہ خرچہ بطورِ تبرع ادا نہ کیا ہو) نکالا جائے گا۔ پھر مرحومہ کا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (1/3) تک اس کو نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحومہ کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
مرحومہ نانی (انوری) کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (3 بیٹوں اور 4 بیٹیوں) میں تقسیم ہوگی۔ میت کے کل ترکہ کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے۔ اس لحاظ سے کل جائیداد کے 10 حصے کیے جائیں گے جس میں سے ہر بیٹے کو (20%) فیصد اور ہر بیٹی کو (10%) فیصد ملے گا۔ (واضح رہے کہ نانی کے انتقال کے وقت چونکہ ایک بیٹی عنبری کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا، اس لیے شرعی اصولِ وراثت کے تحت ان کی اولاد نانی کی وراثت میں حصہ دار نہیں ہوگی)۔
میت کے کل ترکہ (10,369.32 روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں گے:
مرحومہ انوری کی وراثت کا چارٹ (کل حصے: 10)
|
نمبر شمار |
ورثاء7 |
عددی حصے10 |
فیصدی حصے 100% |
رقم 10,369.32 |
|
1 |
بیٹا( نسیم انور) |
2 |
20% |
2,073.864 |
|
2 |
بیٹا(رئیس احمد) |
2 |
20% |
2,073.864 |
|
3 |
بیٹا(شمیم احمد) |
2 |
20% |
2,073.864 |
|
4 |
بیٹی(اختر خاتون) |
1 |
10% |
1,036.932 |
|
5 |
بیٹی(مشتری خاتون) |
1 |
10% |
1,036.932 |
|
6 |
بیٹی(فاطمہ خاتون) |
1 |
10% |
1,036.932 |
|
7 |
بیٹی(مبارکہ خاتون) |
1 |
10% |
1,036.932 |
باہمی خرید و فروخت اور ہبہ کا شرعی حکم: جن تین بہنوں نے ابتداء میں یہ کہا تھا کہ "ہم اپنا حصہ بھائیوں کو دیتی ہیں"، شرعاً یہ زبانی ہبہ (Gift) تھا، جو مشترکہ جائیداد میں بغیر قبضہ دیے مکمل نہیں ہوتا۔ تاہم، بعد میں جب انہوں نے اپنا حصہ 10، 10 ہزار روپے کے عوض ایک بھائی (رئیس احمد) کو فروخت کر دیا اور یہ سودا باہمی رضامندی سے ہوا، تو شرعاً یہ بیع (خرید و فروخت) جائز اور درست ہے۔ اسی طرح دو بھائیوں کا اپنا حصہ رئیس احمد کو بیچنا بھی بالکل درست ہے۔
البتہ، چونکہ مبارکہ خاتون اور مرحومہ عنبری خاتون کی اولاد نے اپنا حصہ نہ کسی کو ہبہ کیا اور نہ ہی فروخت کیا، اس لیے زمین کی حد تک فیصلہ نامکمل ہے۔ یہ کل زمین رئیس احمد کی تنہا ملکیت نہیں کہلائے گی، بلکہ مبارکہ خاتون اور مرحومہ عنبری کے ورثاء (شوہر اور اولاد) اس زمین میں اپنے اپنے شرعی حصوں (جو اوپر جداول میں بیان کیے گئے ہیں) کے بقدر بدستور حق دار اور شریک ہیں۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
1/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


